Delhi Riots: دلی فسادات کے دوران پولیس پر پتھر پھینکنے والی ویڈیو کی حقیقت

ویڈیو

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشن

فسادات تھمنے کے بعد فسادات کے دوران کی بعض ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہیں جن کے بعد پولیس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں (ویڈیو کا سکرین شاٹ )

دلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہونے والے فسادات میں اب تک 49 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دلی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل رتن لال بھی شامل تھے۔

رتن لال کی موت کیسے ہوئی تھی یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ ان کے خاندان والوں اور پولیس نے یہ ضرور کہا ہے کہ فسادات کے دوران ان کی ہلاکت ہوئی ہے۔ لیکن کب اور کیسے اس کے بارے میں ابھی تک کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔

لیکن بدھ کی شام دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں فسادایوں کو صاف طور پر پولیس پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے جمعرات کو ان ویڈیو کو جاری کیا ہے۔ بی بی سی ان ویڈیوز کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کرتا۔

اب دلی کے گوکل پوری علاقےکے ایس پی انوج کمار کا بیان سامنے آیا ہے کہ اس علاقے میں رتن لال زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ویڈیو میں کیا ہے؟

31۔1 سیکنڈ کی اس ویڈیو کو کسی کی چھت سے عکس بند کیا گیا ہے۔ ویڈیو کی شروعات میں لوگ بھاگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جائے وقوع پر بعض پولیس والے بھی نظر آرہے ہیں۔

افراتفری کے ماحول میں لوگ پولیس پر ڈنڈے اور پتھر پھینکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ وہاں موجود پولیس سڑک کے درمیان بنے ڈیوائیڈر پر بچنے کے لیے ایک جگہ جمع ہو جاتی ہے۔ ہجوم کو مشتعل ہوتا دیکھ کر پولیس والے سڑک پار کرکے دوسری طرف جاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

ویڈیو میں کچھ ایسی خواتین کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جنھوں نے برقعہ پہنا ہوا ہے۔

یہ ویڈیو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے ٹوئیٹ کی ہے ۔ ٹوئیٹ کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے ’نہ پارلیمان میں، نہ سپریم کورٹ میں بلکہ سڑک پر ملک کے آئین کی حفاظت کرتے سونیا گاندھی اور ہرش مندر کے امن پسند ساتھی۔ یہ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر سونیا جی کے کہنے پر آر پار کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دوستو یہ وہی مقام ہے جہاں ہیڈ کانسٹبل رتن لال جی کی ہلاکت ہوئی تھی۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس واقعہ سے متعلق ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ جسے دوسرے اینگل یا دوسری جانب سے عکس بند کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں جب پولیس اہلکار ڈی سی پی کو بچا کر گرین بیلٹ کی طرف جا رہے ہیں تب فسادی جھاڑیوں کی طرف جاکر پتھر پھینکتے نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں فائرنگ کی آواز صاف سنی جاسکتی ہے۔

چھ پولیس اہلکار اپنے ساتھی پولیس اہلکار کو اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔

بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے یہ ویڈیو ٹوئیٹ کیا ہے۔ کپل مشرا نے فسادات سے پہلے مبینہ طور پر ’نفرت انگیز‘ بیانات دیئے تھے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت جمعہ کو ہائی کورٹ میں ہوگی۔

اس سے قبل ہائی کورٹ نے’نفرت انگیز بیانات‘ سے متعلق درخواستوں کی شنوائی کو اپریل تک ملتوی کردیا تھا لیکن بدھ کو سپریم کورٹ کے حکم پر کل یعنی جمعہ کو ان معلامات کی سنوائی ہوگی۔

کپل مشرا نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے ’زخمی ڈی سی پی امت شرما کو پولیس والے کس طرح اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ وحشی درندوں کا ہجوم پاگلوں کی طرح پتھر ماررہے ہیں۔ اس سے قبل یہ ہجوم رتن لال جی کو ہلاک کرچکا تھا۔‘

ویڈیو پر دلی پولیس کا بیان

خبررساں ایجنسی اے این آئی نے یہی ویڈیو دلی پولیس کے زخمی ہونے والے ایس پی انوج کمار کو دکھایا۔ انوج کمار نے اے این آئی کو بتایا ’یہ ویڈیو 24 فروری کا ہے۔ اس دن وزیرآباد روڈ پر ہجوم آ گيا تھا۔ فسادی آگئے تھے۔ ہم بڑی مشکل سے سر کو یمنا وہار کی طرف لے گئے تھے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔‘

رتن لال کے بارے میں ایس پی انوج کمار نے بتایا ’وہ اسی مقام پر پہلے ہی زخمی ہوگئے تھے۔ ان کو سٹاف نے پہلے ہی موہن نرسنگ ہوم میں منتقل کردیا تھا۔ ڈی سی پی سر کے لیے میں اور دو دیگر ساتھی دوبارہ گئے تھے۔ ہم دیکھ سکتے تھے کہ لوگ ڈی سی پی سر کو مارنے آرہے تھے۔‘

ڈی سی پی زخمی کیسے ہوئے اس سوال کے جواب میں ایس پی انوج کمار بتاتے ہیں '’وہ ڈیوائیڈر کے قریب تھے۔ ان کے منھ سے خون آ رہا تھا۔ ہجوم کافی مشتعل اور پرتشدد تھا۔ یمنا وہار کا علاقہ اس وقت ہمیں سب سے محفوظ لگا۔ ہمارے پاس ایک ہی متبادل تھا کہ ہم ڈی سی پی سر کو محفوظ مقام پر لے جائیں اور ہم نے وہی کیا۔‘

انوج مزید بتاتے ہیں ’بعد میں ہجوم نے ہسپتال کو گھیر لیا تھا۔ ہم بہت مشکل سے ایگزٹ گیٹ سے نکل پائے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

دلی کے کجھوری خاص علاقے میں ہجوم جمع ہوا جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چلائے

پولیس اہلکاروں نے بی بی سی سے کیا کہا؟

بی بی سی نے یہ ویڈیو ایک پولیس اہلکار کو دکھائی۔ اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا ’یہ ویڈیو چاند باغ روڈ کی ہے۔ اس جگہ گوکل پوری تھانے کے پولیس اہلکار رتن لال پر حملہ کیا گیا تھا۔‘

پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ڈی سی پی شاہدرا کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ گوکل پوری کے اسسٹنٹ کمشنر بھی یہیں زخمی ہوئے تھے۔ اس جگہ کی کل پانچ ویڈیو ملی ہیں۔ ان سبھی کی فورنزک تفتیش ہورہی ہے اور اس معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری دلی پولیس کی کرائم برانچ کو سونپی گئی ہے۔

دلی فسادات: کب کیا ہوا؟

انڈیا اور دلی کے مختلف مقامات کی طرح دلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں بھی شہریت کے متنازعہ قانون سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرے جاری تھے۔ 24-23 فروری کی رات کو سی اے اے کے حق میں موجود مظاہرین مشتعل ہوگئے۔ 24 فروری کو حالات مزید خراب ہوگئے۔

تین روز جاری رہنے والے ان فسادات میں 49 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ متعدد افراد ابھی بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ دلی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کی موت ہوچکی ہے اور متعدد پولیس والے زخمی ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

فسادات تھمنے کے بعد فسادات کے دوران کی بعض ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہیں جن کے بعد پولیس کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے خود یہ بات کہی تھی کہ فسادات کے دوران سڑکوں پر تعینات پولیس کمزور نظر آئی۔

،تصویر کا کیپشن

تین روز جاری رہنے والے ان فسادات میں 49 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے

اتوار 23 فروری

سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں دلی کے مختلف حصوں میں کئی مہینوں سے مظاہرے جارہی ہیں۔ شاہین باغ کے علاوہ جعفرآباد، کردم پوری، چاند باغی، کھجوری خاص، وزیرآباد، اور یمنا وہار کے علاقوں میں بھی مظاہرے جاری تھی۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جعفرآباد کے مظاہرین سروس لین سے ہٹ کر میٹرو سٹیشن کے نیچے بیٹھ گئے۔ اس کے بعد اتوار کی دوپہر تک بعض میٹرو سٹیشنوں کو بند کردیا گیا۔

اتوار 24 فروری

اتوار کو ماحول مزید خراب ہوگیا۔ سات بجے کے قریب بعض لوگ موجپور چوک پر سی اے اے کی حمایت میں مظاہرہ کرنے لگے۔ اس کے تین گھنٹے بعد اس مقام سے 200 میٹر آگے کبیر نگر علاقے میں سی اے اے کے خلاف لوگوں سڑکوں پر اتر آئے۔ 10:30 پر موجپور چوک اور کبیر نگر میں جمع لوگوں کے درمیان پتھراؤ ہونے لگا۔ یہ سلسلہ دن میں 1 بجے تک چلتا رہا۔ شام کو حالات مزید خراب ہوگئے۔

منگل 25 فروری

منگل کو بھی حالات کشیدہ رہے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ان علاقوں میں فلیگ مارچ کیا۔ اس سے قبل ان علاقوں میں جہاں فسادات ہوئے وہاں یا تو پولیس موجود ہی نہیں تھی یا پھر نہ ہونے کے برابر، اکا دکا پولیس اہلکار نظر آئے۔ دلی کے کجھوری خاص علاقے میں ہجوم جمع ہوا جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چلائے۔