Corona: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب، اٹلی میں 197 ہلاکتیں

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 197 ہو گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈراس ادھانوم غیبریسس نے یہ بات جمعے کے روز جینیوا میں ایک بریفنگ کے دوران بتائی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وائرس کا پھیلاؤ ’شدید تشویش‘ کا باعث ہے اور انھوں نے تمام ممالک سے کہا کہ وہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا اپنی ’اولین ترجیح‘ بنائیں۔

ادھر اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 200 کے قریب جا پہنچی ہے۔ اٹلی کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں اس وائرس کے باعث 49 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ اس وبا کے اٹلی میں پھیلنے کے بعد سے ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب دیگر ادراوں کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی بھی مختلف ممالک کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں اور ان دونوں اداروں کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

امریکہ میں جان ہاپکنز یونیورسٹی میں اس وبا کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے انٹرنیٹ پر ہی اس سے متاثرہ افراد کی تعداد کو جمع کرنے کے لیے ایک پورٹل بنایا گیا ہے۔

اس کے مطابق بھی یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 3400 سے تجاوز کر چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا میں لوگ مرغی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں ہر ہفتے تقریباً ساڑھے سات کروڑ مرغیاں نوش کی جاتی ہیں

افواہوں کے بیچ انڈیا میں مرغیوں کی فروخت میں کمی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

بی بی سی ورلڈ سروس کے جنوبی ایشیا کے مدیر ایتھراجن انبراسن کے مطابق انڈیا میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے باعث وہاں مرغیوں کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

انڈیا میں لوگ مرغی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں ہر ہفتے تقریباً ساڑھے سات کروڑ مرغیاں نوش کی جاتی ہیں۔

تاہم اس برس جنوری میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں میں لوگوں کو مرغی کھانے سے اجتناب کرنے کے بارے میں کہا جانے لگا اور جھوٹے دعوے بھی کیے گئے کہ مرغیوں میں کورونا وائرس پایا جاتا ہے جو انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

ان افواہوں کے پھیلائے جانے کے بعد سے ان کی فروخت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

انڈیا میں حکام نے پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ان دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ متعدد وزرا نے عوامی اجتماعات کے دوران مرغی کا روسٹ کھا کر یہ باور کروایا ہے کہ مرغیوں میں وائرس نہیں پایا جاتا۔

تاجروں کا کہنا ہے متوسط طبقے کے فارمرز کو اس سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور یہ 14 ارب ڈالر کی صنعت اب بھی ان افواہوں کی تصحیح نہیں کر پائی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فرانس کے وزیرِ اعظم امانیوئل میکخواں نے ملک کے شمال میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سکول اور نرسریز دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس میں متاثرہ علاقوں میں سکول بند

فرانس کے وزیرِ اعظم امانیوئل میکخواں نے ملک کے شمال میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سکول اور نرسریز دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کے شمال میں موجود علاقے اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

فرانس میں اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 613 ہو گئی ہے اور اب تک اس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانس کے وزیرِ صحت نے ملک میں کورونا وائرس کے حوالے سے دی گئی ایک بریفنگ میں کہا کہ فارمیسیز کو اپنے ہینڈ سینیٹائزر بنانے کی اجازت ہو گی تاہم ان کی قیمتوں کی نگرانی کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ادھر امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل پر گرینڈ پرنسس نامی کروز شِپ میں سوار ساڑھے تین ہزار مسافروں میں سے درجنوں کو کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے کروز شپ گرینڈ پرنسس پر ایک مسافر کورونا وائرس سے متاثر ہو کر انتقال کر گیا تھا جبکہ مزید چار افراد وائرس سے متاثر ہو گئے تھے۔

جمعرات کو اس جہاز کو ساحل کے قریب روک کر فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ٹیسٹ کٹ پہنچائی گئیں۔

امریکہ میں اب تک کورونا وائرس کے 200 کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ 12 افراد وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ عالمی سطح پر بڑی ہوتی نظر آ رہی ہے۔

برطانیہ میں حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے اب تک 163 معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ جمعرات سے جمعہ کے درمیان مزید 48 کیس سامنے آئے ہیں۔

برطانیہ میں کورونا وائرس

برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث جمعے کے روز دوسری ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والا شخص کی عمر 80 برس سے زیادہ تھی۔

اس سے قبل جمعرات کو برطانیہ میں پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جب ایک ستر برس کی متاثرہ خاتون تھیں جن کی صحت پہلے سے خراب ہلاک ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ جاپان کے ساحل کے پاس ڈائمنڈ پرنسز نامی تفریحی بحری جہاز پر سوار ایک برطانوی شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہو گیا تھا۔

برطانوی حکومت نے کورونا وائرس کے بارے میں ریسرچ پر 46 ملین پاؤنڈ خرچ کرنے کا عہد کیا ہے۔

ایران کا کرنسی نوٹوں کا استعمال کم کرنے پر زور

ایران ملک کے بڑے شہروں کے درمیان سفری پابندی عائد کر کے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس سے 124 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران نے پہلے ہی اپریل تک تمام سکول بند کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ وزیر صحت سعید نماکی کا کہنا ہے کہ لوگ ان چھٹیوں کو سفر کا موقع سمجھ کر استعمال نہ کریں۔ انھوں نے شہریوں پر بینک نوٹ یعنی کرنسی نوٹوں کے استعمال کو بھی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

یہ اقدامات عالمی ادار صحت کی جانب سے اس وارننگ کے بعد اٹھائے گئے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ کچھ ممالک اس وائرس کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ادھانوم غیبریسس نے زور دیا ہے کہ ابھی بھی روک تھام ممکن ہے۔ ان کے خیال میں ’یہ ہار ماننے کا وقت نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہEPA

چین کے بعد ایران اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن چکا ہے جہاں کووڈ-19 وائرس سامنے آیا تھا۔ دنیا بھر میں 92 ہزار کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں، جن میں سے صرف 80 ہزار چین میں ہیں۔ اس وائرس کی وجہ سے 3000 اموات ہو چکی ہیں جن میں زیاہ تر اموات چین میں ہوئی ہیں۔

ایران کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

حکام کے مطابق کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 15 سے بڑھ کر 124 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 591 سے بڑھ کر 4,747 ہو چکی ہے۔

میڈیکل یونیورسٹیوں کے اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں ابھی ایران کے دو شدید ترین متاثرہ شہر تہران اور صوبے گلن کے اعداد و شمار شامل نہیں کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

گذشتہ مہینے ایران کے محکمہ صحت کے ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد کم از کم 210 ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق تہران اور ایران کے مقدس شہر قم سے ہے۔ وزیر صحت نماکی کا کہنا ہے کہ ایران میں شہروں کے درمیان سفر کو محدود کرنے کے لیے چیک پوائنٹس قائم کی جائیں گی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سفر ’بہت خطرناک‘ ہے اور اطلاعات کے مطابق سڑکوں پر موجود بہت سی گاڑیاں اس وائرس کو ان علاقوں تک منتقل کر رہی ہیں جو ابھی تک اس وائرس سے بچے ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے نوروز کی تہوار تک بند رہیں گے۔ نوروز کےتہوار سے ایران میں نئے فارسی سال کا آغاز ہوتا ہے اور ایران میں قومی تعطیل ہوتی ہیں۔ اس بار یہ سال 20 مارچ سے شروع ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کو اسے موقع جان کر سفر سے گریز کرنا چاہیے۔ انھیں گھروں میں رہنا چاہیے اور ہماری ہدایات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ بہت متعدی قسم کا وائرس ہے۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے مذاق کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی عوام کا ردعمل کیا ہے؟

تہران کی رہائشی لڈن جو دمے کے مرض میں مبتلا ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وبا کا سن کر دباؤ میں مزید اضافہ ہونا ان کے لیے ابھی تک سب سے برا پہلو ثابت ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں خود کو اب بہت غیر محفوظ سمجھتی ہوں۔ میں نے بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیا۔ مجھے اب ہر چیز ہی وائرس نظر آتی ہے۔ میری ذہنی کیفیت ہر چیز کے متعلق ایسی بن چکی ہے کہ جیسے میں کچھ بھی خرید کر گھر لاؤں گی تو اس میں وائرس ہو گا۔‘

ایران کے ایک مغربی شہر ہمیدن میں محمد رضا کے مطابق اس بحران نے ایک خوف کی وبا کو جنم دیا ہے۔

مغربی ایران میں مہر زاد نامی ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ہفتے قبل تک ان کے ہسپتال نے اس وبا کی روک تھام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق نتیجتاً انھوں نے اپنی جیب سے اضافی ماسک اور دستانے خریدے۔ اصفہان کے شہر میں ایک شہری محمد کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگ ہی اس وبا کو بہت سنجیدہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ وائرس ہر جگہ ہو سکتا ہے لیکن اصفہان میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق آپ شہر میں بمشکل ہی کسی کو ماسک یا دستانے پہنے ہوئے دیکھیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دن بدن کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی اپنی ضرورت سے زیادہ اس ڈر سے خرید رہا ہے کہ کہیں قحط نہ پڑ جائے۔

سعودی عرب میں مسجدالحرام کے مطاف کو کھول دیا گیا

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ روز سعودی عرب میں مسجد الحرام کے مطاف اور مسجد نبوی کو کورونا وائرس کے انفکیشن سے بچاؤ کے لیے صفائی کی غرض سے بند کیا گیا تھا جن کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ تاہم اس دوران مسجدالحرام کے بالائی منزل پر طواف کی اجازت تھی۔

سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پیش نظر غیر ملکیوں سمیت اپنے شہریوں پر بھی عمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

پوری دنیا اس نئے وائرس کا علاج ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہے

کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس ناکافی ہیں، امریکہ کا اعتراف

امریکی ساحلی علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کے پاس کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس ناکافی ہیں۔

امریکی نائب صدر نائب مائیک پینس نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس ہفتے دس لاکھ ٹیسٹنگ کٹس کی فراہمی کے اپنے ہدف کو پورا نہیں کرسکے گی۔

تاہم کانگریس نے فوری طور پر سے اس وبا سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی امدادی پیکج کی منظوری دی ہے۔

عالمی سطح پر حکام نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جن میں سے 80 ہزار سے زائد متاثرہ افراد کا تعلق چین سے ہے جبکہ اب تک اس وائرس سے دنیا بھر میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جمعرات تک امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والے ہلاکتوں کت تعداد 12 تک پہنچ گئی تھی۔ اب تک امریکہ کی 20 ریاستوں میں 200 مزید نئے متاثرہ کیس سامنے آئے ہیں۔

یہ مرض امریکہ میں کہاں پھیل رہا ہے؟

امریکی ریاست واشنگٹن کے علاقے سیٹل کے حکام نے کورونا وائرس سے متاثرہ 20 نئے واقعات کا اعلان کیا۔ محکمہ صحت کے مطابق اس ریاست میں وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 70 ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

کورونا وائرس سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں میں سے نو کا تعلق مضافاتی علاقے سیئٹل کے ایک ہی نرسنگ ہوم سے تھا ، جس کے بارے میں حکام اب تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا کیا یہاں انفیکشن سے بچاؤ کے رہنما اصولوں پر عمل کیا گیا ہے۔

مائیکرو سافٹ اور ایمازون سمیت سیٹل کے چند بڑے کاروباری اداروں نے اپنے کچھ دفاتر بند کردئیے ہیں یا ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا کہا ہے ۔

امریکی شہر نیو یارک میں ایک رات میں متاثرہ افراد کی تعداد دوگنا ہو کر 22 تک پہنچ گئی ہے۔ نیویارک کے میئر نے وفاقی حکومت سے فوری طور پر کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے مزید ٹیسٹنگ کٹس بھجوانی کی درخواست کی ہے۔

امریکی ریاست روڈ جزیرے میں تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ان افراد نے سکول کی جانب سے مطالعاتی دورے پر اٹلی کا سفر کیا تھا اور اس کے نیتیجہ میں تین افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

امریکی شہر سان فرانسیسکو میں بھی جمعرات کو کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے دو کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ امریکی ریاست میری لینڈ نے بھی تین کیسز کی تصدیق کی ہے۔

کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس کہاں ہے؟

پیر کے روز فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ کےکمشنر اسٹیفن ہان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ رواں ہفتے کے اختتام تک دس لاکھ ٹیسٹنگ کٹس دستیاب ہوں گی۔

لیکن امریکی نائب صدر پنس جو ملک میں اس وبا کی روک تھام کے لیے اقدامات کی سربراہی کر رہے ہیں نے جمعرات کو تسلیم کیا کہ اس ہدف کو پورا نہیں کیا جا سکے گا۔

انھوں نے منسوٹا میں ایک کارخانے کے دورہ کے موقع پر کہا کہ 'جتنی ٹیسٹنگ کٹس کی طلب کا اندازہ لگایا گیا تھا ابھی تک ہمارے پاس اتنی تعداد موجود نہیں ہے۔'

اسی شام امریکی ریاست واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے نائب صدر پینس کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس بات کو ابھی بھی یقینی بنانا ہے کہ ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی ہو۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے کے آخر تک امریکی حکومت ملک بھر میں ٹیسٹنگ کٹس تقسیم کر دیں گے جس سے 12 لاکھ امریکیوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو سکے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں اور اس کی وجہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان غیر ملکی شہریوں کی ملک میں داخلے پر پابندی ہے جنھوں نے گذشتہ 14 دنوں میں چین یا اور ایران کا دورہ کیا ہو۔

مگر صحت کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ امریکہ میں ٹیسٹنگ کٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے وائرس سے متاثرہ افراد کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں چل سکتا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی صورتحال

باقی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے؟

عراق نے بھی تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت بغداد میں دو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اسرائیل اور فلسطینی حکام نے بھی سات افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد انھیں بیت الحم شہر میں قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اٹلی نے 41 نئی اموات کی تصدیق کی ہے۔ ایک دن میں یہ سب سے زیادہ اموات ہے۔ اس سے کل اموات کی تعداد 148 ہو چکی ہے۔

فرانس کے میڈیا کے مطابق پیرس میں پیرس میراتھون دوڑ کے مقابلے نئی تاریخ تک منسوخ کر دیے ہیں۔ لی پیرسٹین کے مطابق اس دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے 65 ہزار افراد نے رجسٹریشن کروا رکھی تھی۔

جنوبی افریقہ میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے کیس کی تصدیق کے بعد صدر نے اسے ’قومی بحران‘ کا خدشہ قرار دیا ہے۔