انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کالم: ’انڈیا کی موجودہ صورتحال سنگین اور پریشان کن ہے‘

منموہن سنگھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے انڈیا کو درپیش ’معاشرتی عدم استحکام، معاشی سست روی اور عالمی صحت عامہ کی صورتحال‘ کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔

انڈیا کے اخبار ’دی ہندو‘ میں لکھے گئے اپنے ایک کالم میں سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’موجودہ صورتحال سنگین اور خوفناک ہے۔‘

یہ کالم انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں گذشتہ چند دہائیوں میں پیش آنے والے سب سے پرتشدد فسادات کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔

منموہن سنگھ نے سست شرح نمو اور ملک میں کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ دلی میں متنازعہ شہریت کے قانون کے تناظر میں ہونے والے حالیہ مذہبی فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

منموہن سنگھ نے لکھا ہے کہ ’وہ انڈیا جسے ہم جانتے اور پسند کرتے ہیں اب وہ تیزی سے ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔ جانتے بوجھتے بڑھائی گئی فرقہ وارانہ کشیدگی، مجموعی معاشی بدانتظامی اور صحت سے متعلقہ بیرونی صدمہ انڈیا کی ترقی اور استحکام کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے لکھا کہ انھیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ ’(انڈیا کو درپیش) خطرات کا یہ مضبوط امتزاج نہ صرف انڈیا کی اصل روح میں بگاڑ پیدا کر سکتا ہے بلکہ دنیا میں ہمارے مقام اور ہماری معاشی اور جمہوری قوت کو گھٹا سکتا ہے۔‘

منموہن سنگھ کا تعلق انڈیا میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگرس سے ہے۔ منموہن سنہ 2004 سے سنہ 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے ہیں۔

منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ (انڈیا میں) نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری میں کمی ’ٹوٹ پھوٹ کی شکار‘ معیشت کی عکاس ہے۔

’معاشرتی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کی بنیاد اب خطرے کی زد میں ہے۔ جب اچانک تشدد پھوٹ پڑنے کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہوں تو ٹیکس میں کمی یا دیگر کاروباری ترغیبات جیسے سرکاری اقدامات بھی کسی مقامی یا غیرملکی سرمایہ کار کو سرمایہ کاری پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

'طلب میں کمی نجی سرمایہ کاری کو مزید متاثر کرے گی۔ اور یہ ایسا شیطانی چکر ہے جس میں ہماری معیشت پھنس چکی ہے'

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

گذشتہ ماہ انڈیا کی شرح نمو 4.7 فیصد تک گِری ہے۔ شرح نمو کا اس حد تک گرنا گذشتہ کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مینوفیکچرنگ میں کمی نے مجموعی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے لکھا کہ سرمایہ کاری میں کمی کا مطلب کم نوکریاں اور آمدن میں کمی ہے اور ایسی صورتحال ملک میں (اشیا کی) طلب کو بھی کم کرے گا۔

’طلب میں کمی نجی سرمایہ کاری کو مزید متاثر کرے گی۔ اور یہ ایسا شیطانی چکر ہے جس میں ہماری معیشت پھنس چکی ہے۔‘

منموہن سنگھ نے اپنے کالم میں انڈیا میں کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خطرات پر بھی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کو صحت کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ’بھرپور آپریشن‘ کی ضرورت ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ملک میں اس وبا کے پھیلاؤ کے انڈیا کی معیشت اور کاروبار پر بہت زیادہ اثرات ہوں گے۔

منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی معاشی ترقی پہلے ہی سست ہے اور وبا کا پھیلاؤ چیزوں میں مزید بگاڑ کا باعث بنے گا۔

سابق وزیر اعظم نے اپنے کالم کا اختتام برسراقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو چند مشورے دے کر کیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی کو کہا ہے کہ وہ ملک کا ’حوصلہ بحال کریں۔‘

انھوں نے لکھا کہ حکومت کو ’تین نکاتی پلان‘ پر عمل کرنا چاہیے: کورونا وائرس کے خطرے کو کم کیا جائے، شہریت کے قانون کو واپس لیا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے اور ایسی معاشی تحریک دی جائے جو ملک میں معیشت کا احیا کرے اور طلب میں اضافہ کرے۔‘