Delhi Riots: رخسار اب فیروز کی دلہن ہیں لیکن ان کی شادی کے کارڈ پر کسی اور کا نام تھا

  • چنکی سنہا
  • بی بی سی نیوز، دلی
شادی

اس رات پھر سے تیز بارش ہوئی۔ یہ مصطفیٰ آباد کے الہند ہسپتال کی پہلی منزل سے رخسار کی رخصتی کی رات تھی۔

نئی دلہن اس ہسپتال سے رخصت ہو رہی تھی جہاں اس کے خاندان والوں نے پناہ لی تھی۔ 26 فروری کو پولیس نے رخسار کے خاندان کو دلی میں ہنگاموں سے متاثرہ علاقے سے نکالا تھا۔

ان کا گھر یہاں سے بہت دور نہیں ہے۔ ان کا کُتا ’موتی‘ بند پڑے گھر کے دروازے کے باہر اب بھی بیٹھا ہے۔ وہ ان کے ساتھ نہیں آ سکا تھا۔ موتی اب اپنے مالکوں کے لوٹنے کا انتظار کررہا ہے۔

ان کے ہندو پڑوسی ان کے بند پڑے گھر کی رکھوالی کر رہے ہیں اور ان کے کُتے کو کھانا دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا کیپشن

شادی پر رخسار نے لال شرارہ پہنا، وہ گلابی لہنگا نہیں جو انھوں نے اپنی شادی کے لیے خود خریدا تھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کے ایک پڑوسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب وہ دوسری طرف ہیں اور انھیں یہاں آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ ہم نے اس خاندان کو پناہ دی تو ہمیں دھمکیاں دی گئیں۔ میں خود رخسار کے خوشحال مستقبل کے لیے دعا کرتا ہوں۔‘

الہند ہسپتال کی پہلی منزل پر بیٹھا دُلہا ابھی اپنی زندگی کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ 20 سال کی رخسار کی پہلی پسند نہیں تھا۔ یکم مارچ کو اس کی شادی طے ہوئی تھی اور تین مارچ کو نکاح ہو گیا۔ لیکن عجیب وقت میں عجیب باتیں ہوتی ہیں۔

جمعرات کی شب اچانک کالے بادل چھائے اور تیز بارش ہونے لگی۔ کہتے ہیں جب بغیر موسم کے اتنی تیز بارش ہوتی ہے تو جنگل میں کسی شیر اور لومڑی کی شادی ہوتی ہے۔ کبھی ہم بھی اسی طرح کی کہانیاں سنا کرتے تھے۔

اپنی شادی پر رخسار نے لال شرارہ پہنا، وہ گلابی لہنگا نہیں جو انھوں نے اپنی شادی کے لیے خود خریدا تھا۔ یہ لال شرارہ انھیں ہسپتال کی ایک ڈاکٹر نے دیا ہے۔

24 فروری کو جب بعض مذہبی انتہا پسندوں نے ان کے گھر پر دستک دی تو ان کا خاندان کسی طرح جان بچا کر وہاں سے بھاگ نکلا۔ رخسار کے جہیز کے لیے جو سامان جمع کیا گیا وہ سب وہیں رہ گیا۔ پڑوسیوں نے انھیں پناہ دی اور پولیس نے انھیں وہاں سے نکالا۔

پہلے سے طے شادی ٹوٹ گئی

دُلہا بنے فیروز نے آسمانی رنگ کا تھری پیس سوٹ پہنا ہے۔ کالی شرٹ پر کالی ٹائی خوب جچ رہی ہے۔

23 سالہ فیروز کو نہیں معلوم کہ اچانک ان کی زندگی میں جو تبدیلی آئی اس کو کیسے سمجھیں۔ سب کچھ اتنی جلدی میں جو ہوا۔

نکاح کے بعد جوڑا ہسپتال کے ہال میں ایک ساتھ کھڑا ہوا اور لوگوں نے ان کی تصاویر کھینچیں۔

ایک خاتون نے کہا ’دونوں اچھے لگ رہے ہیں۔ دونوں میں بہت پیار ہوگا۔‘ یہ خاتون اس شادی کو دیکھنے آئی تھیں۔ بقول ان کے انھیں بہت دنوں بعد ایک اچھی خبر ملی ہے۔

رخسار اب فیروز کی دلہن ہیں لیکن ان کی شادی کے کارڈ پر کسی اور کا نام تھا۔ اس شخص کا نام جن سے ان کی تین مارچ کو شادی ہونا تھی۔ لیکن اس شخص نے رخسار کے گھر بار اجڑنے کی بات سن کر شادی سے انکار کر دیا۔

رخسار کے والد بنے خان نے تو شادی غازی آباد میں طے کی تھی۔ لیکن دلی فسادات کے دوران ان کا گھر بار اجڑ گیا ہے اور اب ان کے پاس کچھ نہیں ہے تو دلہے کے گھر والوں نے بارات لانے سے انکار کر دیا۔

ٹھیلا چلانے والے بنے خان نے بیٹی کی شادی کے لیے منت نام کا شادی ہال بُک کیا تھا اور پانچ ہزار پیشگی بھی ادا کر دی تھی۔ رخسار کی والدہ بازار جا کر چھ ہزار روپے کا گلابی لہنگا لائی تھیں۔

نویں کلاس تک تعلیم یافتہ رخسار نے اس لڑکے کی تصویر تک نہیں دیکھی تھی جس سے ان کی شادی طے کی گئی تھی۔ لیکن وہ اپنی شادی کے بارے میں پُرجوش تھیں۔ باقی پوشاکوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے دو کڑھائی والے سوٹ بھی خریدے تھے۔

ناامیدی میں ملی آس

بنے خان نے گوند وہار میں 30 سال قبل ایک چھوٹا سا مکان بنایا تھا۔ دلی فسادات کے دوران ان کا خاندان اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ ہوگیا۔

انھوں نے پہلی رات پڑوسی کے گھر میں گزاری لیکن پناہ دینے والے ہندو خاندان کو دھمکیاں ملنے لگیں پھر دوسرے ہندو خاندان کے گھر میں پناہ لی۔ بعد میں پولیس آئی جس نے انھیں وہاں سے نکالا اور الہند ہسپتال پہنچایا۔

رخسار کا خاندان خالی ہاتھ اور ننگے پیر اپنے گھر سے بھاگا تھا اور رخسارکا جہيز اور گھر کا باقی سارا سامان پیچھے رہ گیا۔

لیکن بیٹی کی شادی خاندان کے لیے اپنی عزت کا معاملہ تھا۔ بیٹی کی شادی سے انکار کے بعد بنے خان نے اپنے چھوٹے بھائی سے بات کی۔

’ہمارے یہاں یہ غیرت کی بات ہے۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا کہ وہ میری بیٹی کو اپنی بہو بنالیں۔‘

فیروز اپنے والد کو نہ نہیں کہہ سکے۔ لیکن وہ سوچنے کے لیے تھوڑا وقت چاہتے تھے تاکہ شادی بہتر طریقے سے ہو۔ ان کے دوست ان کی شادی میں شامل ہوسکیں، وہ نئے کپڑے پہننا چاہتے تھے، اپنی شادی میں ناچنا چاہتے تھے۔

آٹھویں کلاس تک تعلیم یافتہ فیروز زوماٹو کمپنی میں کھانے کی ڈیلیوری کا کام کرتے ہیں۔

وہ کرشنا نگر میں کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہتے تھے۔ اگر انھیں اور وقت ملتا تو وہ اپنی بیوی کے لیے علیحدہ ایک مکان تیار کروا لیتے۔ لیکن اس شادی کے لیے صرف دو دن کا وقت ملا جو ایک تھری پیس سوٹ تیار کروانے کے لیے کافی نہیں تھے۔ فیروز اپنے چار بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔

فیروز نے دلہن بنی رخسار کو صرف ایک نظر دیکھا پھر اپنی نظریں جھکالیں۔ رخسار کو اب ان کے ساتھ رخصت ہونا ہے۔

لوگوں کی مدد

جس رات الہند ہسپتال میں رخسار اور فیروز کا نکاح ہونا طے تھا ایک خاتون بازار گئیں اور رخسار کے پیروں کے بچھوئے اور ناک کے لیے لونگ لے کر آئیں۔ 20 روپے میں بچھوے اور 10 روپے میں لونگ خریدی۔

25 تاریخ سے روازنہ یہ خاتون ہسپتال آ رہی ہیں اور لوگوں کی مدد کر رہی 35 سالہ افروز بانو کو یہ بات بُری لگی کہ ایک دلہن کے پاس اپنی شادی کے دن پہننے کے لیے سونا چاندی کچھ بھی نہیں ہے۔

،تصویر کا کیپشن

شادی میں مدد کرنے والی افروز بانو

افروز فسادات کے بعد ہسپتال میں ایک بچے کو جنم دینے والی خاتون کے لیے ابلے ہوئے انڈے اور چائے لے کر آئیں تھیں جب انھیں معلوم ہوا کہ ہسپتال میں ایک شادی ہونے جارہی ہے تو انھوں نے دلہن کی مدد کے لیے اپنے بعض رشتہ داروں کو فون کیا۔

گلی نمبر تین میں رہنے والے ایک سنار نے چاندی کے بچھوے بھیجے اور پیسے نہیں لیے۔ پرانے مصطفیٰ آباد کی گلی نمبر 20 میں رہنے والی شاہینہ ریاض نامی ایک خاتون نے اپنی ناک میں پہننے والی لونگ اتار کر رخسار کو دے دی۔ ایک خاتون لال رنگ کی چوڑیاں لے آئیں۔

یہ جمع شدہ سامان دلہن کو دیا گیا اور کہا گیا کہ شادی کے لیے مزید انتظام ہو جائیں گے۔

تین مارچ کی رات رخسار نے پرانے کپڑے پہنے، کریم رنگ کا کُرتا اور کالا پاجامہ۔ افروز بانو کے شوہر کباڑ کا کام کرتے ہیں اور ان کے پاس بہت زیادہ پیسے نہیں ہیں لیکن وہ مدد کرنا چاہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہمارے پاس بہت پیسے نہیں ہیں لیکن میں اس بچی کی شادی پر کچھ کرنا چاہتی تھی کیونکہ شادی انسان کو زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ یہ مشکل وقت ہے۔ ہم جو کرسکتے ہیں کررہے ہیں۔ زندگی تو چلتی ہی رہے گی۔‘

افروز رخسار کی شادی کے لیے جتنا کر سکتی تھیں وہ انھوں نے کیا۔ انھوں نے سونے کے ٹاپس، چوڑیاں اور پازیب خریدیں۔ دلہے کے لیے سوٹ، شرٹ، بیلٹ، تولیا اور عطر خریدا۔ مٹھائی کے کچھ ڈبے بھی خریدے۔

وہ کہتی ہیں ’ہمارے پاس صرف آٹھ ہزار روپے تھے لیکن سب اچھے سے ہوگیا۔ دلہن کا خاندان بہت رو رہا تھا۔ ہم نے کہا سب انتظام ہوجائے گا۔‘

اس طرح سے شادی کا سامان جمع کیا گيا۔

اپنے بھائی ڈاکٹر ایم اے انور کے ساتھ مل کر یہ ہسپتال چلانے والے ڈاکٹر معراج انور نے ایک چھوٹی سی دعوت کا انتظام کیا۔ دلہن کے لیے لال رنگ کا لہنگا بھی خریدا۔

قریب میں ہی پارلر چلانے والی شمع نام کی ایک لڑکی نے دلہن اور باقی لڑکیوں کا مفت میں میک اپ بھی کر دیا۔ شمع کا پارلر فسادات کے بعد سے بند ہے۔

افروز کی بیٹی کی شادی میں ان کی دوسری بیٹیوں نے جو کپڑے پہنے تھے وہ دلہن کی بہنوں کو پہننے کے لیے دے دیے۔

دلہن کی بہن رخسانہ نے افروز کی بیٹی کا ہرے رنگ کا شرارہ پہنا۔ ان کے شرارے میں سنہرے دھاگے اور چمکتے ہوئے ستارے لگے تھیں۔ رخسانہ کہتی ہیں کہ انھیں احساس ہو رہا ہے کہ وہ خوبصورت لگ رہی ہیں۔ شادی کے رسومات کے دوران بہنیں ساتھ ہی بیٹھی رہیں۔

رخسانہ کہتی ہیں کہ 'فیروز اچھا لڑکا ہے۔‘

دلہن نے اپنی آنکھیں اوپر اٹھا کر کہا ’اسے اپنی شادی کے بارے میں عجیب لگ رہا ہے لیکن اسے وہ خاندان پسند نہیں تھا جہاں میری پہلے شادی ہو رہی تھی۔‘

’انھوں نے ہمارے سامنے کئی مطالبات رکھے تھے۔ ایسے مشکل وقت میں بھی وہ دھوم دھام سے شادی کرنا چاہتے تھے۔‘

دلہن کی والدہ شمع پروین نے شادی کے دن نئے کپڑے نہیں پہنے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’شادی کے لیے خریدے گئے برتن، الماری، زیور، اور باقی سبھی سامان گھر پر رہ گیا۔‘

’یہ میری تیسری بیٹی ہے اور میں شادی اسی دن کرنا چاہتی تھی جس دن طے تھی۔‘

گھر واپس جانے کے سوال پر وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ابھی اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہاں ابھی خطرہ ہے۔‘

نیچے ڈاکٹر معراج مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ ان کا بس اتنا ہی کہنا تھا ’ہم نے وہی کیا جو کوئی بھی دوسرا انسان کرتا۔‘

اس درمیان ایک شخص آیا اور اس نے پرانا بلب اتار کر تیز روشنی والا بلب لگایا تاکہ دلہا دلہن کی بہتر تصاویر کھینچی جاسکیں۔ اسی جگہ کچھ برتن، ایک گیس کا چولہا اور تحائف رکھے تھے۔

مہمانوں کے لیے قورمہ اور نان تھے۔ شام ہوتے ہوتے تیز بارش ہونے لگی۔ کچھ دیر بعد رخصتی ہوگئی۔

اب تک ان علاقوں میں دو جنازوں اور ایک شادی میں شرکت کر چکی ہوں۔ یہاں ان تینوں دن بارش ہوئی ہے۔

میں رخسار کے گھر جا کر ان کے کتے موتی سے ملنا چاہتی تھی۔ لیکن اندھیرا ہو چکا تھا۔ ایک خاتون جو وہاں کا دورہ کر کے لوٹیں، ان کا کہنا ہے کہ وہاں اندھیرے میں جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔

انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’اب مت جاؤ۔‘

موتی وہاں انتظار کر رہا ہوگا۔ میں نے بنے خان سے کہا کہ ان کا گھر محفوظ ہے۔ وہ بولے ’ہم جلد ہی لوٹ جائیں گے۔‘