CAA: لکھنؤ میں مظاہرین کی تصاویر چوراہوں پر لٹکائی گئیں

  • سمیر آتمج مشر
  • لکھنؤ
صدف جافر

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف گزشتہ برس دسمبر میں مظاہرین کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر ریاستی حکومت مسلسل سختی سے عمل کر رہی ہے۔

حکومت کا الزام ہے کہ ان مظاہرین نے تشدد کیا اور سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا تھا۔

مظاہرین کے ہاتھوں ہونے والے نقصان کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے لیکن پولیس کے مطابق ان مظاہرین کو وصولی کا نوٹس بھیجا جا رہا ہے۔ لکھنؤ میں اب ایسے مظاہرین کی تصاویر ان کے نام اور پتے کے ساتھ چوراہوں پر لٹکا دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گزشتہ شب لکھنؤ میں حضرت گنج سمیت شہر کے متعدد اہم چوراہوں پر بڑی بڑی ہورڈنگز پر ان 57 مظاہرین کی تصاویر، ان کے نام اور پتے لکھ کر لٹکا دی گئیں جنھیں پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہروں کے دوران تشدد کے لیے ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

ہورڈنگز پر ان لوگوں سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے ہرجانا بھرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ ہرجانا نہیں دیتے ہیں تو ان کی جائدادیں ضبط کر لی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

لکھنؤ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ابھیشیک پرکاش نے بتایا کہ ’چار تھانوں کے علاقوں میں ایک کروڑ 55 لاکھ 62 ہزار 537 روپے کی وصولی کے تین احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ اگر پولیس چند اور لوگوں کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو ان کے نام بھی واضح کر دیے جائیں گے۔ سبھی کو نوٹس دیے جانے بعد سے تیس دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر اس دوران انہوں نے یہ رقم جمع نہیں کروائی تو ان کی جائداد ضبط کر لی جائے گی۔‘

مظاہروں کے دوران تشدد

19دسمبر کو شہریت کے قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران لکھنؤ کے چار تھانوں کے علاقے میں تشدد بھڑک گیا تھا۔ اس دوران حضرت گنج، ٹھاکر گنج، قیصر باغ اور حسن گنج علاقوں میں لوگوں کی ذاتی گاڑیوں سمیت پولیس چوکی اور پولیس کی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔

ریاستی حکومت نے نقصان پورا کرنے کے لیے ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 150 سے زائد لوگوں کو نوٹس جاری کیا تھا جن میں فی الحال 57 کو اس کے لیے ذمہ پایا گیا ہے۔

جن لوگوں کی تصویریں ہورڈنگز پر لگی ہیں ان میں کانگریس رہنما اور سسماجی کارکن صدف جعفر، وکیل محمد شعیب، تھیٹر کے فنکار دیپک کبیر اور ریٹایرڈ آئی پی ایس اہلکار ایس آر دارا پوری بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

،تصویر کا کیپشن

ایس آر داراپوری

ان تمام لوگوں کو مظاہروں کے بعد گرفتار بھی کیا گیا تھا جنہیں بعد میں ضمانت ہر رہا کر دیا گیا تھا۔ ان لوگوں نے اس طرح ہورڈنگز لگانے کی کارروائی کو غیر قانونی بتانے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ درج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ہتک عزت

ریٹایرٹ آئی پی ایس اہلکار ایس آر داراپوری نے بی بی سی سے کہا کہ ’سمجھ میں نہیں آتا کہ جو نوٹس آج تک ہمیں کبھی دیے ہی نہیں گئے انہیں چوراہوں پر کس طرح لٹکا دیا گیا۔ حکومت کا یہ قدم غیر قانونی ہونے کے علاقہ ہماری حفاظت کے ساتھ کھلواڑ بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ دوسری بات یہ کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ کسی کا قصور ثابت کیے بغیر نوٹس جاری کرے۔ ہمارے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اور اگر ثابت بھی ہوتا ہے، تو یہ اختیار عدالت کے پاس ہے، انتظامیہ کے کسی اہلکار کے پاس نہیں۔ حکومت نے بغیر کسی جرم کے ہمیں مجرم ثابت کر دیا ہے۔ ہماری شناخت کو عام کر کے انہوں نے ہماری حفاظت کو داؤں پر لگا دیا ہے۔ میں تو سرکار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرنے جا رہا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

دراصل اس معاملے میں کئی لوگوں کو ضمانت مل گئی تھی۔ کیوں کہ ان کے خلاف لگے الزامات کو ثابت کرنے لیے پولیس عدالت میں معقول شواہد نہیں دے پائی۔ فروری میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اسی طرح کے ایک معاملے میں کانپور کے ایک شخص کی جائداد ضبط کرنے کے سرکاری حکم پر پابندی لگا دی تھی۔

بی بی سی نے ایسے کئی لوگوں سے بات کی جن کے نام لکھنؤ کے چوراہوں پر ہورڈنگز پر لگے ہیں۔ ان سب نے کہا کہ ان کو ذاتی طور پر کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔

حکم کہاں سے جاری ہوا

سماجی کارکن صدف جعفر کا نام بھی ہورڈنگز پر ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انہیں بھی کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے کہا کہ ’نوٹس نہیں بھیجا گیا اور سیدھے چوراہوں پر ٹانگ دیا گیا۔ وہ بھی تب جب یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی دلچسپی وصولی سے زیادہ چند خاص لوگوں کو خاص پیغام پہنچانے میں ہے۔ یہ سرکار قانون مانتی ہے اور نہ ہی آئین۔ یہ تو صرف طالبان قانون چاہتے ہیں۔ میرے بچے سکول جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ پڑھنے والے بچے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے؟ اور ان کا تحفظ کتنا خطرے میں آجائے گا، کیا یہ سرکار کو نہیں پتا ہے؟

اطلاعات کے مطابق وصولی کے نوٹس اچانک عوامی مقامات پر لٹکائے جانے کے احکامات وزیر اعلیٰ کے دفتر سے آئے ہیں۔ اس بارے میں ویزر اعلیٰ کے دفتر سے کسی نے کچھ بھی بتانے سے صاف انکار کر دیا، لیکن نام نہ بتانے کی شرط پر چند اعلیٰ اہلکاروں نے اس کی تصدیق کی ہے۔