خواتین کا عالمی دن: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صحافی جو برقع تو پہنتی ہیں مگر ماڈرن ہیں

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
صحافی کشمیر

شاہانہ فاطمہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پُرانے سرینگر کے گنجان آباد علاقے کانی کدل میں اپنے والد، دو بہنوں اور بھائی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

وہ مکمل پردے میں رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی نہایت سرگرم ہیں۔ 29 سالہ شاہانہ کہتی ہیں کہ ’پردہ میں نے لوگوں پر لباس کا انتخاب ٹھونسنے کے لیے نہیں کیا ہے، لوگ مجھے آنکھوں سے پہچان لیتے ہیں اور اس سے میرا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔‘

بچپن سے ہی کھیل کُود میں دلچسپی رکھنے والی شاہانہ نے صرف آٹھ سال کے دوران بین الاقوامی شہرت حاصل کرلی ہے۔

جموں کشمیر سے شائع ہونے والے کھیلوں سے متعلق انگریزی جریدے کی وہ پہلی خاتون ناشر ہیں۔ کالج سے فراغت کے بعد شاہانہ پہلے تو سوشل میڈیا پر کھیل کود کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتی رہیں اور بعد میں ’سپورٹس ان لمیٹڈ‘ کے عنوان سے انگریزی زبان میں ایک جریدہ شروع کیا۔

’میں ایک لڑکی ہوں اور پھر پردے میں ہوں۔ لیکن مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ ہاں جب بھارت کے کسی سٹیڈیم میں میچ دیکھتی ہوں تو لوگ مجھے دیکھتے ہیں، لیکن میں پرسکون ہوتی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

شاہانہ کہتی ہیں کہ اُنھوں نے لباس کا انتخاب کسی مذہبی جنون کے تحت نہیں کیا۔ ’اسلام نے خواتین کے لیے کام کاج میں کوئی حد مقرر نہیں کی۔ پیغمبرِ اسلام بھی اپنی اہلیہ عائشہ کے ساتھ دوڑ لگاتے تھے، اس کا مطلب اسلام خواتین کے کھیل کود کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

خاتون کھلاڑیوں کے لباس پر شاہانہ کہتی ہیں ’ظاہر ہے آپ برقعہ میں کھیل نہیں سکتے۔ لڑکیوں کو سجنا سنورنا اچھا لگتا ہے۔ میں جب فوٹ شوٹ کے لیے جاتی ہوں تو لڑکیوں سے کہتی ہوں کہ وہ میک اپ کریں اور اچھی ٹی شرٹ پہنیں۔میں نے برقعہ پہنا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں عورت نہیں ہوں۔ مجھے خواتین کے جذبات کا احترام ہے اور مردوں کے بارے میں میری ماں کہتی تھیں کہ مردوں کا ایگو ہرٹ نہیں کرنا۔ مُجھ سے کوئی ہاتھ ملائے تو میں ہاتھ ملا لیتی ہوں۔‘

شاہانہ صُبح سویرے جاگ کر پہلے سائیکلنگ کے لیے جاتی ہیں، اُس کے بعد جم میں ورزش کرتی ہیں اور واپسی پر والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد دفتر کے لیے نکلتی ہیں۔ اُنھوں نے وریندر سہواگ، یوسف پٹھان، وہاب ریاض، شعیب ملک جیسے انڈین اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ ’سہواگ نے مجھے اپنا دستخط کیا ہوا بیٹ بھی تحفے میں دیا۔‘

عام لڑکیوں کی طرح شاہانہ بھی کالج سے فارغ ہوئیں تو گھر میں اُن کی شادی کی باتیں ہونے لگیں۔ ’لیکن بعد میں میری ماں کا انتقال ہو گیا، تو ساری ذمہ داری مجھ پر آ گئی۔‘

شادی کے بارے میں اصرار کرنے پر شاہانہ نے کہا ’ایسی بات نہیں، شادی بھی میرے ایجنڈے میں ہے، لیکن میں کسی پہ بوجھ نہیں بننا چاہتی۔‘

چند سال کی جدوجہد کے بعد شاہانہ نے سرینگر کے مضافات میں اپنا جدید چھاپہ خانہ بھی قائم کیا ہے اور اس کے علاوہ وہ مقامی کرکٹ ایسوسی ایشن کی میڈیا منیجر بھی رہ چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ برقعے والی خاتون کو اکثر جج کیا جاتا ہے کہ ’پتا نہیں کون سی دُنیا سے ہے۔ میں نے فقط اپنے لباس کا انتخاب کیا ہے، بنیادی طور پر انسان ہون اور ماڈرن عورت بھی ہوں۔ میں بھی فلمیں دیکھتی ہوں، پاکستانی ڈرامے دیکھتی ہوں، موسیقی سُنتی ہوں، دوستوں کے ساتھ کبھی کبھی کرکٹ بھی کھیلتی ہوں۔‘

شاہانہ کہتی ہیں کہ وہ پردے کا محض استعمال کرتی ہیں، اس کا پرچار نہیں کرتیں۔ ’یہ معاملہ چوائس کا ہے۔ مجھے بغیر پردے کے عجیب لگتا ہے۔ پردے میں میرا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر لڑکی سے کہتی پھروں کہ پردہ کرو۔ میں تو چاہتی ہوں کہ کھلاڑی چاک و چوبند اور آرام دہ کپڑوں میں ہوں۔‘

اُنھیں مردوں سے بھی شکایت نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کے نازک احساسات اور لطیف جذبات کو سمجھ لیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔‘

ہمیشہ برقعے میں رہنے والی شاہانہ فاطمہ جموں کشمیر اور یہاں سے باہر کھیل کود سے متعلق تقریباً سبھی تقاریب میں نظر آتی ہیں اور کھیل کی دُنیا کے ستاروں کے ساتھ اُن کی تصاویر اُن کے فیس بک پیج پر فوراً پوسٹ ہوتی ہیں۔

کیا اُنھیں سوشل میڈیا پر کسی طرح کی تنقید کا سامنا رہا ہے؟ ’جی ہاں۔ ہوتے ہیں کچھ لوگ جنھیں خواہ مخواہ تنقید کا شوق ہوتا ہے، مگر میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کرتی ہوں۔ میں کہتی ہوں کہ برقعہ پہن لیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت نہیں ہوں۔ میرے بھی جذبات ہیں۔ جب کسی بڑے سپورٹس سٹار کو دیکھتی ہوں تو میرا بھی دل کرتا ہے کہ اُن کے ساتھ سیلفی لے لوں۔ محض برقعہ پہننے سے میری یہ سبھی خواہشات متنازعہ کیوں ؟‘

پاکستان اور انڈیا میں خواتین کے بارے میں سماجی بیانیوں پر بات کرتے ہوئے شاہانہ کہتی ہیں کہ ’بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں کشمیر میں عورت آزاد ہے۔ یہاں بھی سماج پر مذہب کی چھاپ ہے، لیکن مذہب عورت کی تعلیم و ترقی کے آڑے کبھی نہیں آیا، بلکہ یہاں تو مذہبی انجمنیں بھی سکول چلاتی ہیں جہاں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ زیر تعلیم ہیں۔‘