الہ آباد ہائی کورٹ: سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کے نام اور تصاویر والی ہورڈنگز ہٹانے کا حکم

  • سمیر آتمج مشر
  • بی بی سی ہندی
سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے پوسٹر

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

،تصویر کا کیپشن

یہ وہ ہورڈنگ ہے جس پر ریاستی حکومت نے سی اے اے کے مظآہرین کے نام اور تصاویر کے ساتھ شہر میں لگوایا تھا

الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنو کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس کمشنر کو حکم دیا ہے کہ شہر میں شہریت کے قانون سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی تصاویر، نام اور پتہ والی جو ہورڈنگز لگائی گئی ہیں وہ 16 مارچ تک ہٹا لی جائیں۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس کارروائی سے متعلق رپورٹ 17 مارچ تک رجسٹرار جنرل کے دفتر میں جمع کرائی جائے۔

عدالت میں موجود وکیل ایس ایم نسیم نے میڈیا کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بے حد سخت رویہ اختیار کیا اور کہا کہ یہ شہریوں کی نجی زندگی میں دخل اندازی ہے اور ان پوسٹروں کو فورا ہٹایا جائے۔ نسیم نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی تمام دلائل کو عدالت نے خارج کردیا۔

عدالت کے اس حکم کے بارے میں ریاستی حکومت کی جانب سے ابھی کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔

جن مظاہرین کے نام ان ہورڈنگ میں شائع کیے گئے تھے ان میں ریٹائرڈ پولیس افسر ایس آر داراپوری اور انسانی حقوق کی کارکن اور کانگریس پارٹی کی رہنما صدف جعفر کے نام بھی شامل ہیں۔

ان میں سے بعض مظاہرین کو دسمبر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔ ان لوگوں نے اس طرح یی ہورڈنگز لگانے کی کاروائی نہ صرف غیر قانونی قرار دیا بلکہ کہا ہے کہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ درج کرانے کی تیار کررہے ہیں۔

ایس آر داراپوری نے عدالت کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد لوگوں کا نظام عدل پر بھروسے میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا،’ہائی کورٹ نے بتا دیا ہے کہ ریاست میں قانون کا راج چلے گا نہ کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی آمریت۔ ایسا لگتا ہے کہ یوگی حکومت ہم سب لوگوں کی ماب لنچنگ کرانے کی تیاری کررہی ہے۔ ہم اس کام کو انجام دینے والے افسروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کریں گے اور اس کے لیے عدالت کو رجوع کریں گے۔‘

اتوار کو اس کیس کی سماعت کےوقت عدالت کے اندر موجود الہ آباد ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل ایس ایف اے نقوی نے بی بی سی کو بتایا ،’ عدالت نے سب سے اہم سوال یہ پوچھا کہ کس سرکاری افسر نے ان ہورڈنگ کو لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے:

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

،تصویر کا کیپشن

سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں سب سے زيادہ ہلاکتیں اترپردیش میں ہوئی ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مسٹر نقوی کے مطابق تقریباً ایک گھنٹے جاری رہنے والی اس سماعت کے دوران عدالت سے ریاستی حکومت سے متعدد سوال پوچھے جن کا جواب سرکاری وکیل نے دیا۔

ریاستی وکیل نے عدالت میں یہ سوال کیا کہ لکھنؤ کے معاملے کی الہ آباد کی عدالت میں سنوائی کیوں ہو رہی ہے؟ اس کے بارے میں ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ پوری ریاست ان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور کسی بھی کیس کی کہیں بھی سماعت ہوسکتی ہے۔

مسٹر نقوی نے مزید بتایا: ’حکومت کے وکیل کی جانب سے یہ بات کہی کہ حکومت کو یہ حق ہے کہ وہ مظاہرین سے اس سرکاری املاک کے نقصانات کا معاوضہ لے جو انہوں نے مظاہروں کے دوران کیا ہے۔ عدالت نے اس پر اتفاق رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ کام سپریم کورٹ کے ضوابط کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔ آپ ایسا کوئی بھی کام نہیں کرسکتے جس سے لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی ہو اور ان کی حفاظت خطرے میں پڑ جائے۔‘

واضح رہے کہ اترپردیش کی حکومت نے نہ صرف شہریت کے متنازعہ قانون سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے بعض افراد کو گرفتار کیا تھا بلکہ ریاست کے مختلف حصوں میں مظاہروں کے دوران سرکاری املاک کو جو نقصان پہنچا تھا ا س کے لیے مظاہرین کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لوگوں کو ریکوری نوٹس بھیجے تھے۔ ان میں سے بعض افراد نے بتایا تھا کہ وہ اتنے غریب ہیں کہ دو وقت کی روٹی مشکل سے کما پاتے ہیں تو حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے کے ریکوری کے مطالبے کو کہاں سے پورا کریں گے۔

سی اے اے کے مظاہروں کے خلاف سب سے زيادہ ہلاکتیں بھی اترپردیش میں ہوئی ہیں جہاں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ بیشتر ہلاکتیں پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی ہیں۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے اس سے انکار کیا ہے۔

لکھنو میں 57 مظاہرین کی تفصیلات والی ہورڈنگ

جمعرات کی شام لکھنؤ کے حضرت گنج سمت شہر کے اہم چوراہوں پر بڑی بڑی ہورڈنگز لگائی گئی تھیں جن میں سی اے اے کی مخالفت کرنے والے 57 مظاہرین کے نام، تصاویر اور گھروں کے پتے لکھے ہوئے تھے۔ پولیس اور انتظامیہ کے مطابق یہ لوگ مظاہروں کے دوران تشدد کے لیے ذمہ دار تھے۔ ان ہورڈنگز میں ان سب لوگوں سے سرکاری املاک کو ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کا بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ ہرجانہ نہیں دیتے ہیں تو ان کی نجی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA/BBC

،تصویر کا کیپشن

ریٹائرڈ پولیس افسر ایس آرا داراپوری کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے ملک میں ابھی بھی قانون اور آئین کا بول بالہ ہے۔

لکھنؤ کے ڈی ایم ابھیشیک پرکاش نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ۔ '' چار تھانہ علاقوں میں ایک کروڑ 55 لاکھ 62 ہزار اور 537 روپے کی ریکوری کے تین حکم نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اگر پولیس اور لوگوں کے خلاف ثبوت فراہم کرا دیتی ہے تو ان کے نام بھی عام کیے جائیں گے۔ سبھی کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد 30 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر 30 دن کے اندر اندر لوگوں نے رقم جمع نہیں کرائی تو ان کی نجی پراپرٹی ضبط کرلی جائے گی''۔

گزشتہ برس دسمبر میں سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے لکھنو کے ٹھاکر گنج ، حضرت گنج، قیصر باغ، اور حسن گنج علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں نجی گاڑیوں سمیت پولیس کی گاڑیوں اور ایک پولیس چوکی کو نظر آتش کردیا کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر اس نقصان کے لیے 150 لوگوں کو ریکوری نوٹس بھیجا تھا جن میں سے 57 کو قصوروار پایا گيا ہے۔

جن افراد کے نام ان ہورڈنگز میں درج ہیں ان میں سے بعض کو گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن بعد میں عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ ان کے خالف جو الزامات عائد کیے گئے تھے ان کے بارے میں سرکاری وکیل مکمل ثبوت نہیں دے پائے تھے۔

بی بی سی نے ایسے کئی لوگوں سے بات کی جن کے نام لکھنو کے چوراہوں پر لگی ہورڈنگز میں لکھے گئے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں نجی طور پر ابھی تک کو کوئی ریکوری نوٹس نہیں موصول ہوا ہے۔

سماجی کارکن صدف جعفر جن کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں انہوں نے بتایا، '' نوٹس ہمیں نہیں بھیجا گیا ہے سیدھا چوارہوں پر ٹانگ دیا گیا ہے۔ وہ بھی تب یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت کی دلچسپی ریکوری سے زيادہ ایک خاص طبفے کو ایک خاص پیغام دینا ہے۔ یہ ریاستی حکومت نہ تو قانون کو مانتی اور نہ ہی آئین کو''۔

متعدد ذرائع کے مطابق ریکوری کے نوٹس کو اچانک بڑی بڑی ہورڈنگز کی شکل میں عام کرنے کا حکم ریاستی حکومت کے دفتر سے آیا تھا۔ اس بارے میں وزیر اعلی کے دفتر کے کسی بھی اہلکار نے کھل کر بات کرنے سے انکار کردیا لیکن شناخت نہ ظاہر کرنے پر اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ اصل میں یہ حکم وزیر اعلی کے دفتر سےہی جاری ہوا تھا۔.