افغان امن معاہدہ: طالبان کا افغان حکومت سے قیدیوں کی رہائی پر غیر مشروط عملدرآمد کا مطالبہ

طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ طے امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ان کے پانچ ہزار قیدیوں کی غیر مشروط رہائی ضروری ہے اور افغان حکومت کی جانب سے صرف 100 قیدیوں کی رہائی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

جبکہ افغان حکومت کی جانب سے جاری ایک تازہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت آج (جمعرات) کو بھی 100 طالبان قیدیوں کو رہا کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ افغان حکومت نے گذشتہ روز بھی 100 قیدیوں کو رہا کیا تھا اور افغانستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان کے مطابق افغان حکومت آئندہ چند دنوں میں 1500 افغان طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکی ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق افغان انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہا ان طالبان قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جنھوں نے افغان حکومت کے ساتھ اس امر پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ وہ رہائی کے بعد جنگی جرائم کے مرتکب نہیں ہوں گے۔

تاہم رواں ہفتے کے آغاز پر افغان طالبان رہنماؤں نے افغان حکومت سے قیدیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات یہ کہہ کر ملتوی کر دیے تھے کہ افغان حکومت تاخیری حربوں سے کام لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغان طالبان کی جانب سے ایک تکنیکی ٹیم کابل روانہ کی گئی تھی جس کا مقصد قیدیوں کی رہائی کے عمل کو مکمل کرنے اور رہا ہونے والے قیدیوں کی نشاندہی کرنا تھا لیکن افغان حکومت اور طالبان کی اس کمیٹی کے درمیان پیش رفت نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے طالبان نے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا تھا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان طے معاہدے پر عمل درآمد کی پہلی شرط قیدیوں کی رہائی ہے جس کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے لیکن اس پہلے ہی مرحلے میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

افغان ذرائع کے مطابق یہ تعطل ان پندرہ قیدیوں کی رہائی کی باعث آیا ہے جنھیں افغان حکومت متعدد بڑے حملوں میں ملوث قرار دیتے ہیں اور افغان حکومت کے مطابق وہ طالبان کے کمانڈرز ہیں جبکہ طالبان ان کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہیں۔

معاہدے میں کمانڈر کو رہا نہ کرنے کی شرط نہیں

افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ امن کے قیام کے لیے انھوں نے امریکہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس پر قائم ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ان کے 5000 قیدی ہر قسم کی شرط اور بغیر کسی رکاوٹ کے رہا کر دیے جائیں اور ان کی تصدیق ہونا بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اس معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے جو امریکہ کے ساتھ طے ہوا ہے۔

سہیل شاہین نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ طے معاہدے میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ کمانڈرز کو رہا نہیں کریں گے اور دیگر افراد کو رہا کریں گے بلکہ معاہدے میں ہے کہ تمام 5000 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ افغان حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اور اس لیے انھوں نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ کابل انتظامیہ معاہدے پر مکمل عمل نہیں کر رہی جبکہ امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اس معاہدے پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔

یہ پندرہ قیدی کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ یہ پندرہ افراد کوئی طالبان کمانڈر نہیں ہیں بلکہ ان افراد کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ تمام ان جیلوں اور قیدیوں سے مکمل واقف ہیں جن کی فہرست طالبان نے افغان حکومت کو فراہم کی ہے اور یہ افراد ان جیلوں میں قید ان قیدیوں کی نشاندہی کریں گے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ پندرہ افراد رہا کر دیے جائیں بلکہ یہ افراد ان ٹیکنیکل ٹیموں کے ساتھ رہیں گے اور کام کریں گے تاکہ ان تمام قیدیوں کی صحیح نشاندہی ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ پندرہ افراد گھروں کو نہیں جائیں گے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ کابل انتظامیہ نہیں چاہتی کہ معاہدے پر عملدرآمد ہو اور امن کا قیام بروقت ہو سکے۔

معاہدہ کے بنیادی نکات

قطر کے شہر دوحہ میں 29 فروری کو جس معاہدے پر دستخط کیے گئے اس کے تحت امریکہ 10 مارچ سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کرے گا۔ افغان طالبان کے 5000 قیدی رہا کیے جائیں گے اور اسی طرح طالبان کی تحویل میں موجود 1000 افغان سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو رہا کیا جائے گا۔

اس دوران بین الافغان مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔ یہ سارا عمل 14 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور یہ کے طالبان افغانستان میں موجود القاعدہ اور داعش کی سرگرمیوں کو روکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

افغان حکومت کیا رضامند ہے؟

افغان ذرائع کے مطابق افغان حکومت اگرچہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے راضی ہے اور اس کے لیے اقدامات کر رہی ہے لیکن قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔

تاہم چند ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ افغان حکومت، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور معاہدے میں شامل نہیں تھی اس لیے افغان حکام تاخیر کر رہے ہیں۔

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ڈیڑھ برس تک جاری رہے اور اس کے لیے متعدد اجلاس منعقد ہوئے لیکن ان مذاکرات میں افغان حکومت شامل نہیں تھی۔

افغان حکومت کو یہ اعتراض رہا ہے کہ اس کی مرضی اور اس کی شرکت کے بغیر مذاکرات اور پھر معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے لیکن طالبان نہیں چاہتے تھے کہ افغان حکومت ان مذاکرات میں شامل ہو۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغان طالبان، افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور طالبان کے مطابق افغان حکومت کابل پر قابض انتظامیہ ہے جو امریکہ کی ایما پر افغانستان پر مسلط ہے اور طالبان خود کو امارت اسلامی افغانستان یعنی افغانستان کی حقیقی حکومت سمجھتے ہیں۔

اسی طرح امریکہ اور افغان حکومت طالبان کو ایک ریاست کے طور تسلیم نہیں کرتے۔