افغان امن معاہدہ حکومت کی سست روی اور طالبان کی ضد کے باعث ڈیڈ لاک کا شکار

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغانستان امن معاہدہ کے نفاذ پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے میں ہی ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔ افغان حکومت نے ماہ رمضان میں جنگ بندی کا کہا ہے لیکن افغان طالبان نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

افغان حکومت طالبان قیدیوں کی رہائی میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے تو افغان طالبان مزید بات چیت سے انکاری ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات میں فریقین اس امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے تیار نظر آتے ہیں اور ’منم‘ یعنی مانتا ہوں کی بات کرتے ہیں مگر جب عملدرآمد کی بات ہوتی ہے تو وہاں اس پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا جس میں ’نہ منم‘ یعنی نہیں مانتا ہوں کی بات سامنے آجاتی ہے۔

قیام امن کے لیے افغان صدر اشرف غنی نے دنیا میں کورونا وائرس کے خطرات اور ماہ رمضان کے تقدس کی خاطر جنگ بندی کا کہا ہے۔ اس بارے میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ انھوں نے امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں پائیدار امن کے قیام اور جنگ بندی سمیت تمام معاملات کا حل ہے اور اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور عالمی سطح پر تائید حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وجہ سے ہزاروں قیدیوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں ایسے میں امن معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں جنگ بندی کا کہنا غیر معقول ہے۔

افغان طالبان کا کہنا ہے جب امن معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس پر عمل درآمد سے جنگ بندی بھی ہو سکتی ہے اور امن کا قیام بھی ممکن ہو گا تو اس پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات ہیں کہ افغان حکومت کو قیدیوں کی رہائی میں قانونی مسائل درپیش ہیں۔

اب رکاوٹیں کہاں اور الجھنیں کیسی؟

افغانستان میں اس طرح کی ہٹ دھرمی پہلی مرتبہ دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ ماضی میں بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا رہا ہے جب مجاہدین آپس میں الجھ پڑے تھے اور ’نہ منم نہ منم‘ یعنی ’نہیں مانتا نہیں مانتا‘ کی رٹ لگا رکھی تھی۔

موجودہ حالات میں افغان طالبان امن معاہدے کی پہلی شرط کے طور پر اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں جبکہ افغان حکومت کے تقریباً ایک ہزار اہلکار افغان طالبان کی تحویل میں ہے۔ دونوں جانب سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے میں ان قیدیوں کی رہائی ہونی ہے اور ڈیڈلاک بھی پہلے ہی مرحلے پر ہے۔

افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان حکومت اس معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ایک فریم ورک ترتیب دیا جا چکا ہے جسے امریکہ طالبان معاہدہ کہتے ہیں اس پر عمل درآمد کیا جائے تو افغانستان میں امن قائم کیا جا سکتا ہے اور صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر میں طے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد 10 مارچ سے شروع ہونا تھا جس کی پہلی کڑی قیدیوں کی رہائی ہے۔ افغان حکومت نے اب تک 430 قیدیوں کو رہا کیا ہے جبکہ افغان طالبان نے اب تک 40 ایسے افراد کو رہا کیا ہے جو بقول طالبان کے افغان حکومت اور فوج کے اہلکار ہیں۔

کیا افغان حکومت رکاوٹ چاہتی ہے؟

افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کہتے ہیں کہ افغان حکومت نہیں چاہتی کہ افغانستان میں معاہدے پر عمل درآمد ہو کیونکہ اس کے نتیجے میں پھر موجودہ حکمرانوں کو اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں جیسے قیدیوں کی رہائی ہو گی اور اس کے بعد بین الافغان مذاکرات ہوں گے جس میں تمام افغان شریک ہوں گے اور پھر عالمی سطح پر مذاکرات ہوں گے جس کے نتیجے میں ایک نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور موجودہ حکمرانوں کو گھروں کو جانا پڑے گا۔

ڈیڈ لاک کب ہوا؟

افغان طالبان کی ایک تین رکنی ٹیم قیدیوں کی رہائی کے لیے کابل پہنچی تھی اور جیلوں میں موجود ان پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی پر عمل درآمد کرانا تھا۔ افغان طالبان نے ابتدا میں 15 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو معلوم ہے کہ ان کے وہ پانچ ہزار قیدی کن جیلوں میں کہاں قید ہیں۔

افغان حکومت نے ان 15 قیدیوں کو اہم طالبان کمانڈر قرار دیتے ہوئے ابتدائی طور پر ان کی رہائی سے انکار کر دیا۔ افغان حکومت کا موقف تھا کہ یہ 15 طالبان کمانڈر ہیں اور ملک میں بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے جن میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے تھے اور ان کی رہائی نہیں ہو سکتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس بارے میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ یہ 15 طالبان کوئی کمانڈر نہیں ہیں اور نہ وہ بڑِے حملوں میں ملوث تھے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے امن معاہدے پر بظاہر جو پیش رفت جاری تھی اس میں ان 15 طالبان کی رہائی سے ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے۔

افغان حکومت انھیں رہا کرنے سے انکار کر رہی ہے جبکہ افغان طالبان کہتے ہیں کہ یہ 15 افراد اس کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کریں گے جو قیدیوں کی نشاندہی کریں گے جن کی رہائی وہ چاہتے ہیں۔

سہیل شاہین نے کہا کہ ’افغان حکومت بہانے تلاش کر رہی ہے تاکہ امن معاہدہ کامیاب نہ ہو اور اس معاہدے کے نتیجے میں کابل انتظامیہ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔‘

اس ڈیڈ لاک کے بعد افغان طالبان نے اپنی ٹیکنیکی ٹیم کو واپس پلا لیا تھا۔ افغان حکومت اب تک چار سو سے زیادہ قیدیوں کو رہا کر چکی ہے لیکن طالبان کا کہنا ہے کہ ان میں بیشتر جرائم پیشہ افراد ہیں صرف 60 کے لگ بھگ افراد ان کی تنظیم سے ہیں۔

امریکی حکام نے اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے چند روز پہلے قطر میں افغان طالبان رہنما ملا برادر اور دیگر سے ملاقات کی اور اس کے بعد کابل میں افغان حکام سے بھی رابطہ کیا ہے۔

امریکی وفد نے چند روز پہلے پاکستان کا دورہ بھی کیا اور اطلاعات یہ ہیں کہ امریکہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہے۔ افغان طالبان نے امریکی حکام سے ملاقاتوں کے بعد 40 افغان قیدیوں کو رہا کیا تھا جو طالبان کی تحویل میں تھے۔

موجودہ حالات میں جب عالمی سطح پر کورونا وائرس کی وبا سے نظام زندگی ایک طرح سے معطل ہے ایسے میں اس معاہدے پر عمل درآمد بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ان قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے جن کی جانوں کو اس وائرس سے خطرہ لاحق ہے۔