انڈیا: وشاکاپٹنم میں کارخانے سے گیس کے اخراج سے 13 افراد ہلاک، سینکڑوں بیمار

،ویڈیو کیپشن

گیس کا اخراج اس وقت ہوا جب کارخانے میں ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر 24 مارچ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دوبارہ کام کا آغاز ہو رہا تھا

انڈیا میں پولیس نے جنوبی کوریا کی کمپنی ایل جی پولیمر کے کارخانے سے گیس کے اخراج سے گیارہ افراد کی ہلاکت کے بعد کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

انڈیا کی ریاست اندھرا پردیش کے شہر وشکاپٹنم میں قائم جنوبی کوریا کے مشہور کمپنی ایل جی چیم کے ایک کارخانے سے جمعرات کی صبح گیس نکلنا شروع ہوئی تھی۔

گیس کے خارج ہونے سے ہزاروں افراد کی طبیعت خراب ہو گئی اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا جبکہ کارخانے کے گرد و نواح کی آبادی سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ دوسری جگہوں پر منتقل ہونا پڑا۔

اب تک ہلاک ہونے والوں چار خواتین، دو لڑکیاں اور پانچ مرد شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں داخل کرائے گئے تمام افراد خیریت سے ہیں اور اکثریت کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک ایک سو بیس افراد ہسپتال میں زیر علاج تھے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر تھی۔

یہ بھی پڑھیے

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق ضلع مجسٹریٹ ونے چند نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اخراج کے بعد کم از کم 800 افراد کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جن میں سے تقریباً 80 افراد کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔

وشاکھا پٹنم کے پولیس کمشنر آر کے مینا نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک شدگان میں سے تین کی موت کارخانے کے نزدیک ہوئی اور پانچ افراد نے کنگ جارج ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑا۔

گیس کا اخراج اس وقت ہوا جب کارخانے میں ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر 24 مارچ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دوبارہ کام کا آغاز ہو رہا تھا۔

صوبائی وزیر صنعت گوتم ریڈی نے بی بی سی تیلگو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جب کارخانے کو دوبارہ کھولا گیا اس وقت طریقۂ کار اور قواعد و ضوابط پر مناسب طور پر عمل نہیں کیا گیا۔

ابتدا میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ گیس تین کلومیٹر کے علاقے میں پھیل سکتی ہے اور پولیس نے پلانٹ کے قریب واقع پانچ دیہات کو خالی کروا لیا ہے۔

ایک اعلیٰ ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ گیس لیک روکنے کی ابتدائی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں تاہم مقامی خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اب صورتحال قابو میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

گیس کا اخراج شروع کب ہوا ؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس کارخانے سے گیس کا اخراج اُس وقت شروع ہوا جب 24 مارچ سے بند اس کارخانے کو کھولا جا رہا تھا۔ انڈیا میں 24 مارچ سے کورونا وائرس کی وبا سے تمام کاروبار زندگی بند کر دیا گیا تھا۔

کمپنی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور متاثرہ افراد کے علاج کے تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گیس کارخانے سے کیسے خارج ہونا شروع ہوئی اس بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس ضمن میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

لیکن کمپنی کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں غفلت کی وجہ سے کسی کی موت کا سبب بن جانے کی دفعات بھی شامل ہیں۔

شہر کے پولیس کمشنر گوتم سونگ نے بی بی سی تیلگو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب گیس خارج ہونا بند ہو گئی ہے لیکن علاقے کی فضا میں تیز بدبو ابھی تک پھیلی ہوئی ہے جس کو دور ہونے میں کچھ دن لگیں گے۔

’گیس پھیلنے سے آنکھ کھلی‘

کارخانے کے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح ان کے گھروں میں گیس بھر جانے سے ان کی آنکھ کھلی۔

انھوں نے کہا کہ انھیں آنکھ میں شدید جلن اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت پیدا ہونے سے ہسپتال لے جایا گیا ۔ اس کے گیس کے بخارات دو میل دور تک پھیل گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کے بے ہوش ہو کر گر پڑنے کی پریشان کن تصاویر گردش کرنے لگیں۔

جیسے ہی گیس کا اخراج شروع ہوا تو شہری گھبراہٹ اور خوف میں گھروں سے باہر نکل آئے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس وقت گیس کا اخراج ہوا ہوئی اس وقت کچھ فیکٹری ملازمین فیکٹری میں موجود تھے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اس متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔

آندھرا پردیش کے آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار راجندرا ریڈی نے بی بی سی کو بتایا لیک ہونے والی گیس سٹائرین تھی جسے عام طور پر سرد ماحول میں رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم لیکیج کے باعث اس گیس کو سونگھنے والوں پر پڑنے والے دور رس اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جبکہ اس دوران حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے منھ کو گیلے کپڑے سے ڈھانپیں۔

سٹائرین ایک طرح کی ہائیڈرو کاربن گیس ہے جو پلاسٹک، رنگ اور ٹائر وغیرہ کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ اس گیس کو سونگھنے یا نگلنے پر مرکزی اعصابی نظام پر اثر پڑتا ہے اور سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ اس سے سر میں درد اور کمزوری محسوس ہوتی ہے اور پھیپھڑوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔

جس کارخانے سے گیس کا اخراج ہوا اس کی موجودہ مالک جنوبی کوریا کی ایل جی کمپنی ہے۔ 1961 میں تعمیر ہونے والا یہ کیمیائی مادوں کا کارخانہ ہندوستان پولیمر نامی کمپنی کا تھا جسے 1997 میں ایل جی نے خرید لیا تھا۔

پولیس نے کارخانے کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد گیس کے اخراج کے اسباب کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خیال رہے کہ انڈیا میں کارخانوں میں گیس لیک کی ایک المناک تاریخ ہے۔

سنہ 1984 میں بھوپال میں ایک کیمیکل پلانٹ میں گیس لیک سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کو دنیا کے بدترین صنعتی حادثوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

اس واقعے کے 35 برس بعد بھی متاثرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں آج بھی جسمانی طور پر معذور بچے پیدا ہوتے ہیں جو کہ اس لیکیج کے اثرات کے باعث ہے۔