کورونا وائرس: جب وبا پھیلنا شروع ہوئی تو چین نے کیا اقدامات اٹھائے؟

متاثرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ اور دیگر ممالک نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا چین میں وائرس پھیلا تو وہ اس کے متعلق پوری طرح شفاف تھا۔

سو ہم کیا جانتے ہیں کہ چین میں کیا ہوا اور جب وبا پھیلی تو اس نے اس کے متعلق کیا کہا اور کیا؟

دیکھیے اس ٹائم لائن میں:

دسمبر 1: لینسیٹ میڈیکل جریدے کے مطابق پہلی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ وائرس پہلی مرتبہ نومبر میں ظاہر ہوا تھا۔

27 دسمبر: ہوبے صوبے کے ایک مقامی ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے چینی حکام کو سارس کی طرح کی ایک بیماری کے متعلق بتایا۔

اس وقت تک کیسز تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئے تھے۔

دسمبر 30: ووہان میں ہیلتھ کمیشن نے مقامی ہسپتالوں کو ایک نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیے کے متعلق مطلع کیا اور کہا کہ اگر گذشتہ ہفتے ان کے سامنے ایسا مشکوک کیس آیا تو اس کے متعلق معلومات دیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وہان سینٹرل ہسپتال میں ایک سرکردہ ڈاکٹر این فین کے پاس مشتبہ کورونا وائرس کے ایک مریض کے طبی ٹیسٹوں کے نتائج آئے۔

ڈاکٹر فین نے ان نتائج کی تصاویر اتاریں اور علاقے میں ایک اور ڈاکٹر کو بھیج دیں۔ وہ نتائج ووہان کی میڈیکل کمیونٹی میں گشت کرنے لگے۔

ووہان سینٹرل ہسپتال کے ایک اور ڈاکٹر، ڈاکٹر لی وینلیانگ نے ایک چیٹ گروپ میں اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو پیغام میں اس وبا سے خبردار کرتے ہوئے اور انفیکشن سے بچنے کے لیے حفاظتی لباس پہننے کا مشورہ دیا۔

ڈاکٹر لی کو بعد میں پبلک سکیورٹی بیورو میں طلب کیا گیا اور ان پر ’غلط تبصرے‘ کرنے کا الزام لگایا گیا جس نے ’معاشرتی نظام کو سخت پریشان کر دیا تھا۔‘

چینی سوشل میڈیا ویبو پر ’ایک پراسرار نمونیے‘ کے بارے میں خبریں پھیل گئیں، جس سے ایک مہلک وائرس کا خدشہ پیدا ہوا۔

31 دسمبر: چینی حکام نے تصدیق کی کہ وہ وائرل نمونیا کے 27 کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ماہرین صحت کی ایک ٹیم کو اس علاقے میں بھیج رہے ہیں۔

حکام نے کہا کہ سات افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حکام نے عالمی ادارہ صحت کو خبردار کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے چین پر کڑی تنقید کی ہے

یکم جنوری: ووہان میں ایک ہسپتال نے چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر لکھا کہ وہ ایک ’پرسرار نمونیہ سے لڑ رہے ہیں۔‘

ڈاکٹر عی فین نے کہا کہ ہسپتال کی انضباطی کمیٹی نے ’افواہیں پھیلانے‘ پر ان کی سرزنش کی ہے۔

ووہان پبلک سکیورٹی بیورو نے وائرس کے بارے میں افواہیں پھیلانے کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا اور چینی نیوز پروگرام زین وین لیانبو نے یہ خبر چلائی۔

ڈبلیو ایچ او نے کسی ممکنہ وبا سے نمٹنے کے لیے خود کو ہنگامی بنیادوں پر تیار کرنا شروع کر دیا۔

چینی حکام نے سی فوڈ کی ہول سیل مارکیٹ ہوانان کو بند کر دیا جہاں سے اس وائرس کے متعدد کیسز سامنے آئے تھے۔

3 جنوری: چین کے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے الزامات سامنے آنے لگے، جیسا کہ مقامی محکمہ صحت کے حکام کا ہسپتال کے عملے کو وائرس کے بارے میں بولنے سے روکنا۔ (ہم ان پوسٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے سے قاصر ہیں اور بہت سے پوسٹس کو چینی حکام نے ہٹا دیا، جو انٹرنیٹ کو بہت زیادہ سنسر کرتے ہیں۔)

ووہان میں صحت کے حکام نے کہا کہ وہ اس وبا کی وجوہات پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان کے بیان میں کہا گیا کہ یہ وائرس انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوا۔

7 جنوری: چین کے صدر سمیت اعلیٰ حکام نے کمیونسٹ پارٹی کی ایک قائمہ کمیٹی میں اس وبا پر بات چیت کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں اس وائرس کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔

8 جنوری: ماہرین کی ایک دوسری ٹیم کو وبا کی تحقیقات کے لیے بھیجا گیا۔

9 جنوری: چین نے کورونا وائرس کا تعلق سارس اور میرس سے بتایا جبکہ سائنسدان اب اس وائرس کے ٹیسٹ کر سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ووہان پبلک سکیورٹی بیورو نے وائرس کے بارے میں افواہیں پھیلانے کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا اور چینی نیوز پروگرام زین وین لیانبو نے یہ خبر چلائی

11-17 جنوری: چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) نے صوبہ ہوبائی کے لیے اپنی اہم سالانہ سیاسی میٹنگیں کیں۔ اس عرصے کے دوران کیسز میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ملتی۔

13 جنوری: چین سے باہر پہلے کیس کی تصدیق ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کہتا ہے کہ تھائی لینڈ میں عہدیداروں نے آٹھ جنوری کو ووہان کے ایک مسافر میں اس کی شناخت کی اور اسے اسی دن ہسپتال لے جایا گیا۔

14 جنوری: عالمی ادارہ صحت نے ٹویٹر پر پوسٹ کیا ہے کہ ’چینی حکام کے ذریعہ کی جانے والی ابتدائی تحقیقات میں انسان سے انسان میں منتقلی کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔‘

تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ مریضوں کی تعداد کی وجہ سے مقامی ہسپتالوں کو شبہ ہے۔

15 جنوری: ایک مریض ووہان سے امریکہ واپس آیا اور امریکہ میں کووڈ 19 کا پہلا کیس بن گیا۔

20 جنوری: چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ماہرین صحت کے ایک گروپ نے انسان سے انسان میں اس وائرس کی منتقلی کی تصدیق کی کیونکہ ملک میں کہیں اور بھی ان کیسز کی نشاندہی ہوئی۔

جنوبی کوریا میں پہلے کیس کا اعلان کیا گیا۔

20-21 جنوری: عالمی ادارہ صحت ووہان میں میں فیلڈ ریسرچ کے لیے ایک وفد بھیجتا ہے۔ اس وفد نے کہا کہ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے لیکن مزید تجزیوں کی ضرورت ہے۔

21 جنوری: چین کا سرکاری اخبار روزنامہ ’پیپل ڈیلی‘ پہلی بار اس چیز پر بات کرتا ہے کہ چینی صدر اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

اس سے قبل چین کا سرکاری میڈیا نئے قمری سال کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کرتے ہوئے اس وبا کو نظرانداز کر رہا تھا۔

چین کے سرکاری میڈیا نے کورونا وائرس کے 219 کیسز کی تصدیق کی۔

بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا جواب دیتے ہوئے بیجنگ کی امن و امان کی ذمہ دار اعلی سیاسی قیادت نے کہا: ’جو بھی شخص اپنے مفادات کی خاطر جان بوجھ کر [وائرس] کے کیسز کی اطلاع میں تاخیر کرے گا یا چھپائے گا، اس کا نام ہمیشہ کے لیے شرم کے ستون پر لکھا جائے گا۔‘

ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کیا انھیں بین الاقوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ کیا

23 جنوری: ووہان اور اس کے قریبی شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

23-25 جنوری: چین نے وبا سے نمٹنے کے لیے دو ہسپتالوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا۔

24 جنوری: چین کی حکومت نے ملک بھر میں جنگلی حیات کی تجارت پر پابندی عائد کر دی۔

24-30 جنوری: چین نے نئے قمری سال کی چھٹی منائی، جب لاکھوں لوگوں نے ملک بھر میں سفر کیا۔

25 جنوری: چینی حکام نےملک چھوڑنے والے تمام مسافروں کو اپنی صحت سے متعلق آگاہ کرنے کی درخواست کی۔

28 جنوری: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے وبا پر بات کرنے کے لیے چین کے صدر سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ اس وبا پر کام ادارے کی اولین ترجیح ہے۔

30 جنوری: چین میں 82 اموات کے بعد عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کو صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا۔