انڈیا: ٹرین کی ٹکٹ پر لڑائی کی وائرل ویڈیو کا بی جے پی کی سیاست سے کیا تعلق ہے؟

  • روّی پرکاش
  • بی بی سی ہندی، رانچی
India

،تصویر کا ذریعہMohan Mandal

،تصویر کا کیپشن

واسودیو شرما

تنبیہ: اس خبر میں شامل کچھ مواد صارفین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

ان دنوں انڈیا میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص کے سر سے خون بہہ رہا ہے اور وہ راجیش ورما نامی شخص پر مار پیٹ کا الزام لگا رہے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھے جانے والے شخص کا کہنا ہے کہ انھوں نے راجیش ورما کو ’شرمک سپیشل ٹرین‘ کے ٹکٹ کے لیے ایک لاکھ سولہ ہزار روپے دیے تھے۔ اس کے باوجود راجیش ورما نے انھیں ٹکٹ نہیں دیے اور جب انھوں نے راجیش کے خلاف احتجاج کیا تو انھیں وہاں بہت مارا پیٹا گیا۔

اس ویڈیو کو بہت سے لوگوں نے ٹویٹ کیا ہے جن میں گوڈڈا سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمان ڈاکٹر نشیکانت دوبے اور جھارکھنڈ میں کانگریس کے نیشنل میڈیا کنوینر سرل پٹیل بھی شامل ہیں۔

نشیکانت دوبے کی ٹویٹ کو 17 ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے جبکہ سرل پٹیل کی ٹویٹ کو ڈھائی لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے اور ساتھ ہی اسے 10 ہزار سے زیادہ بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SaralPatel

مذکورہ واقعہ سات مئی کو سورت میں رونما ہوا تھا۔ ابتدا میں یہ الزام لگایا گیا کہ ویڈیو میں جس راجیش ورما کی بات کی جا رہی ہے اس کا تعلق بی جے پی سے ہے۔

چونکہ ریاست گجرات میں بی جے پی برسر اقتدار ہے اس لیے اس پر سیاست ہونے لگی اور اس کے بعد کچھ اور ویڈیوز بھی سامنے آئے۔

جب الزامات اور ان کی تردید کا دور شروع ہوا تو ہم نے اپنی تفتیش شروع کی۔

ویڈیو میں نظر آنے والا شخص کون ہے؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سب سے پہلے اس کہانی کے دو مرکزی کرداروں کے بارے میں بات کرتے ہیں: پہلے ویڈیو میں نظر آنے والے اس نوجوان کی جسے مارا پیٹا گیا، اس کا نام واسودیو شرما ہے۔

دوسرے نمبر پر وہ شخص جس پر ویڈیو میں الزام لگایا گیا ہے یعنی مبینہ حملہ آور راجیش ورما۔ ہمیں پتہ چلا کہ یہ دونوں جھارکھنڈ کے ضلع گرڈیہ کے رہائشی ہیں اور دونوں ہی سورت میں مہاجر کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ واسودیو وہاں رکشہ چلاتے ہیں تو راجیش ورما ایک غیر سرکاری تنظیم 'آل جھارکھنڈ سماج سیوا ٹرسٹ' کے نائب صدر ہیں۔

سات مئی کی صبح ہی یہ لڑائی والی ویڈیو وائرل ہو گئی اور اس کے بعد اس کی ایف آئی آر سورت کے لمبایت پولیس سٹیشن میں درج کرائی گئی۔

پھر کچھ دیر بعد ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں مبینہ ملزمان ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ایک شخص کو مارتے ہوئے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

گرفتاری کے فوری بعد ضمانت پر پولیس نے کیا کہا؟

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گجرات پولیس راجیش ورما کو گرفتار کرتی ہے لیکن چند ہی گھنٹوں میں اسے تھانے سے ہی ضمانت مل جاتی ہے۔

سورت کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر (اے سی پی) اے ایم پرمار نے بی بی سی سے گفتگو میں اس بات کی کی تصدیق کی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'واسودیو شرما اور راجیش ورما کے مابین مار پیٹ کے بعد درج کی گئی پولیس رپورٹ پر قابل ضمانت دفعات درج ہیں، لہٰذا ان کو تھانے سے ہی ضمانت مل گئی۔ ایسا قانونی دفعات کے تحت کیا گیا۔ دونوں کے درمیان مزدوروں کو سورت سے جھارکھنڈ لے جانے والی خصوصی ٹرین کے ٹکٹ پر جھگڑا ہوا تھا۔ اس دوران دونوں کے مابین ہاتھا پائی ہوئی۔'

،تصویر کا ذریعہMOHAN MANDAL

،تصویر کا کیپشن

سورت میں کارکنوں کو اس طرح کے ٹوکن دیئے جارہے ہیں

اے سی پی پرمار نے مزید کہا: 'دراصل راجیش ورما کو جھارکھنڈ جانے کے خواہشمند مزدوروں کی فہرست بنانے اور ان سے مقررہ کرایہ لے کر انہیں ٹرین کا ٹکٹ دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ وہ مزدوروں کی فہرست کلکٹر آفس میں جمع کرواتے تھے۔ وہاں سے ریلوے اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کو منظوری کے لیے حتمی فہرست بھیجی جاتی ہے۔ منظوری ملنے کے بعد راجیش کے ذریعہ یہ ٹکٹ مزدوروں کو فراہم کرا دیا جاتا تھا۔'

'اس فہرست میں واسودیو کا نام بھی شامل تھا'

اے سی پی پرمار نے کہا کہ ہم نے اس سارے عمل کی جانچ کی۔ انھوں نے کہا: 'واسودیو شرما نے کچھ پیسے اور جھارکھنڈ جانے کے خواہشمند افراد کی ایک فہرست راجش کو دی تھی۔ ٹکٹ نہ ملنے پر انھوں نے محسوس کیا کہ یہ فہرست کلکٹر کے دفتر میں جمع نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان غلط فہمی پیدا ہوگئی اور مار پیٹ ہوئی۔ جبکہ کلکٹر کے دفتر میں راجیش کے ذریعہ جمع کروائی گئی فہرست میں بھی واسو دیو کا نام بھی شامل ہے۔ ہماری تحقیقات میں یہ پتہ چلا ہے۔'

گذشتہ دس سالوں سے سورت میں رکشہ چلانے کا کام کرنے والے واسودیو کے سر پر اس لڑائی کی وجہ سے بارہ ٹانکے لگانے پڑے۔

دراصل واسودیو جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے جموا کے ایک گاؤں سالیا کے رہنے والے ہیں۔

بی بی سی نے واسودیو سے رابطہ کیا۔ واسودیو نے کہا: ’میں نے راجیش ورما کو لوگوں کے نام اور ان کی تفصیلات کے ساتھ فی کس 800 روپے کے حساب سے ایک لاکھ سولہ ہزار روپے دیے۔ انھوں نے ہمیں ٹکٹ دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ جب سورت سے جھارکھنڈ کے لیے دو ٹرینیں روانہ ہو گئیں اور ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو میں سات مئی کی صبح کچھ دوستوں کے ساتھ رشی نگر میں اس کے گھر گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے ٹکٹ دو یا جمع رقم واپس کرو۔ وہ بدتمیزی پر اتر آئے۔ انھوں نے گندی گندی گالیاں دیں اور لکڑی سے اتنا مارا کہ میرا سر پھٹ گیا۔'

واسودیو نے کہا: 'مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔ میرے سر میں 12 ٹانکے لگے ابھی اتنا درد ہے کہ مجھے ٹھیک سے بات نہیں کی جا رہی ہے۔ میرے چچا کا انتقال ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے مجھے گھر جانا پڑا۔ میں نے راجیش ورما کو ٹکٹ کی رقم (1.16 لاکھ) چار مئی کو دی تھی۔ اس کے بدلے میں انھوں نے مجھے ایک ٹوکن دیا جو میرے پاس اس کے ثبوت کے طور پر ہے۔'

راجیش ورما نے کیا کہا؟

واسودیو پر حملے کے مبینہ ملزم راجیش ورما کا دعویٰ ہے کہ وہ واسودیو شرما کو نہیں پہچانتے ہیں۔ انھوں نے واسودیو سے پیسے لینے کی بھی تردید کی ہے۔ راجیش نے کہا اگر میں نے یہ رقم لی ہوتی تو واسودیو کے پاس بھی ثبوت موجود ہوتے۔ وہ ثبوت کہاں ہے؟

جب میں نے اس سے پوچھا کہ وہ (واسودیو اور اس کے ساتھی) آپ کے گھر سے باہر آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں تو وہ بغیر پہچان کے آپ کے گھر کیوںکر پہنچے۔ اس کے جواب میں راجیش نے کہا کہ بہت سارے لوگ ریل ٹکٹ کے لیے آتے ہیں۔ وہ لوگ بھی اسی طرح آئے ہوں گے۔ میری کوئی پرانی شناخت نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہMOHAN MANDAL

،تصویر کا کیپشن

راجیش ورما سیاستدان رگھوور داس کے ساتھ

راجیش ورما نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے واسودیو سے مار پیٹ نہیں کی۔ جب میں نے وائرل ویڈیو میں بتایا کہ ان کے ہاتھ میں چھڑی ہے تو راجیش نے ہلکی پھلکی مار پیٹ کے بارے میں بات قبول کی۔

اس کے بعد راجیش ورما نے کہا کہ 'وہ سب بدتمیزی کر رہے تھے اس کے بعد محلے والوں نے انھیں پیٹا۔ میں نے بھی ایک دو ہاتھ مارے ہوں گے۔ لیکن میرے پیٹنے سے واسودیو کے سر پھٹنے کی بات غلط ہے۔'

رکن پارلیمان نشیکانت تک یہ ویڈیو کیسے پہنچی؟

مار پیٹ کی اس ویڈیو کو سب سے پہلے گوڈڈا (7 مئی کی شام 3.35 بجے) کے بی جے پی رکن پارلیمان ڈاکٹر نشیکانت دبی نے ٹویٹ کیا تھا۔

اپنی ٹویٹ میں انھوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر ریلوے پیوش گوئل کو ٹیگ کیا اور اس کی تصدیق اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی کو یہ بھی لکھا کہ اگر ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کی جاری ہے تو اس کے لیے خود سورین ہی ذمہ دار ہیں۔

دو دن بعد 9 مئی کی صبح 9.23 بجے انھوں نے ویڈیو کے درست ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے ایک اور ٹویٹ کیا اور حملہ آور راجیش ورما کو گرفتار کیے جانے کی بات کہی۔ اس کے لیے انھوں نے گجرات کے وزیر اعلی کا بھی شکریہ ادا کیا۔

تاہم ، راجیش ورما کو ان کے ٹویٹ کے پہلے ہی ضمانت دے دی گئی تھی۔

ممبر پارلیمنٹ نشیکانت دوبے نے بی بی سی کو بتایا: 'مجھے راجیش ورما کی ضمانت کی خبر موصول نہیں ہوئی۔ یہ کسی اخبار میں شائع نہیں ہوئی۔ مجھے وہ ویڈیو واٹس ایپ پر ایک کارکن نے بھیجی تھی۔ تب میں نے نہ صرف اس کو ٹویٹ کیا بلکہ گجرات میں متعلقہ عہدیداروں سے بات کی۔ وزیر اعلی کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔'

تو پھر اس پورے معاملے میں سیاست کہاں ہے؟

آٹھ مئی کو گجرات سے ہی تعلق رکھنے والے کانگریس کے سوشل میڈیا کے قومی کنوینر سرل پٹیل نے اسی ویڈیو کو اپنے ہینڈل سے ٹویٹ کیا اور حملہ آور راجیش ورما کو بی جے پی کارکن بتایا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ وہ مزدوروں سے تین گنا کرایہ وصول کررہے ہیں۔

جھارکھنڈ میں حکمراں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے گجرات کی بی جے پی حکومت کو اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ریٹویٹ کرکے اس پر سوال اٹھایا۔

جے ایم ایم کے قومی جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو اپنے گریبان میں دیکھنا چاہیے۔

انھوں نے سوال کیا: 'جب ان کی اپنی پارٹی کے کارکن پر ٹرین ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کے الزامات ہیں تو پھر وہ کس منہ سے ہماری حکومت اور وزیر اعلی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہMohan Mandal

تو کیا واقعی راجیش ورما بی جے پی سے وابستہ ہیں؟

واسودیو پر حملہ کرنے کے الزام میں راجیش ورما کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سورت میں بی جے پی کے سربراہ نتن بھجی والا نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی پارٹی کا راجیش ورما سے کوئی تعلق نہیں۔

تاہم راجیش ورما نے نریندر مودی، رگھوور داس سمیت بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں کے ساتھ اپنی تصاویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ڈال رکھی ہیں۔

کچھ تصاویر میں ، انھوں نے بی جے پی کے انتخابی نشان والی ٹوپی اور رومال بھی سر پر باندھ رکھا ہے۔ بی جے پی صدر نتن بھجی والا کے ایک وائرل خط میں راجیش ورما کا نام بھی عہدیداروں کی فہرست میں نظر آتا ہے۔

اس سب کے باوجود جب بی بی سی نے ان سے بات کی اور سوشل میڈیا پر تصاویر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بی جے پی کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات سے انکار کیا۔

راجیش ورما نے بی بی سی کو بتایا: 'میں ایک سماجی کارکن ہوں۔ میں گذشتہ 25 سالوں سے سماجی کاموں میں شامل رہا ہوں۔ اس دوران میں تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے ملتا ہوں۔ اس سلسلے میں میں وزیر اعظم نریندر مودی اور جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی رگھوور داس سے بھی مل چکا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں بی جے پی کا کارکن ہوں۔ میرا کسی بھی سیاسی پارٹی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

بہر حال دو افراد سے شروع ہونے والی اس کہانی میں کچھ اور بھی کردار ہیں اور پیاز کی پرتوں کی طرح اس کی بھی پرتیں ہیں۔