عید سے قبل تشدد کے واقعات میں کمی کے لیے زلمے خلیل زاد کی افغان طالبان اور افغانستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغان طالبان، زلمے خلیل زاد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے عید سے قبل افغان طالبان اور افغانستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں انھوں نے امن معاہدے پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔

دوحہ میں افغان طالبان سے ملاقات پر زلمے خلیل زاد کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ’طالبان سے ملاقات میں انتہا پسندی کے خلاف عزم، افغانستان میں مذاکرات، فوج کے انخلا اور پرتشدد واقعات میں کمی جس سے مکمل جنگ بندی ہوسکے گی پر بات ہوئی۔‘

انھوں نے ’طالبان کے حالیہ انتہا پسند حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے‘ اور کہا ہے کہ دونوں فریقین کو قیدیوں کی رہائی سمیت امن معاہدے پر عمل کرنا ہوگا۔ ’

دوحہ میں افغان طالبان سے ملاقات کے بعد وہ کابل روانہ ہوئے جہاں وہ افغانستان کی سیاسی قیادت میں صدر اشرف غنی اور حریف رہنما عبداللہ عبد اللہ سے الگ الگ ملے۔ ان ملاقاتوں کے حوالے سے ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ’پرتشدد واقعات بہت زیادہ ہوگئے ہیں اور جلد تمام فریقین کو ان میں کمی کے لیے کوشش کرنے ضرورت ہے۔‘

یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب ایک طرف امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب صدر اشرف غنی اور ان کے مخالف عبداللہ عبداللہ کے درمیان اقتدار کے اشتراک کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAIP

افغان طالبان کا اہم پالیسی بیان

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

افغان طالبان نے عید سے قبل اپنے ایک پالیسی بیان میں امریکہ سے کہا ہے کہ افغان امن معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس حوالے سے انھوں نے عام شہریوں کی حفاظت، خواتین کے حقوق اور این جی اوز کی مدد کے حوالے بات کی ہے۔

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوند نے اس اہم بیان میں امریکہ سے کہا ہے کہ قطر میں طے شدہ معاہدہ ایک مکمل دستاویز ہے جس کے نفاذ سے ملک میں امن قائم ہوگا اور کسی کو یہ موقع ضائع نہیں کرنے دینا چاہیے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے اس بیان میں ملا ہیبت اللہ اخوند نے کہا ہے کہ اسلامی امارت (افغان طالبان اپنی تنظیم کو امارت اسلامی کہلواتے ہیں) امریکہ کے ساتھ دستخط کیے جانے والے معاہدے پر کاربند ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ دوسری جانب یعنی امریکہ اور اس کے اتحادی بھی اس پر عمل کریں گے اور یہ کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ اس موقعے کو ضائع کر دیا جائے ۔

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدے کا نفاذ امریکہ اور افغانستان کے درمیان جنگ کو ختم کرنے کے لیے اور افغانستان میں امن اور ایک اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

رواں سال 29 فروری کو قطر میں امریکہ اورطالبان کے درمیان طے کیے گئے معاہدے پر عملد رآمد میں رکاوٹیں حائل ہیں اور طالبان کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ افغانستان میں قائم حکومت اس معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔

طالبان کا مطالبہ ہے کہ ان کے پانچ ہزار قیدی رہا کر دیے جائیں اور اس کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ لیکن اب تک کابل حکومت کی جانب سے ایک ہزار سے کم قیدی رہا کیے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس معاہدے کے بعد سے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور افغان حکومت کی جانب سے طالبان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد سے افغانستان میں 3700 فائرنگ اور دھماکوں کے حملے ہو چکے ہیں جن میں کوئی چار سو سے زیادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان نے ان میں سے بیشتر کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی بلکہ ان میں چند ایک بڑے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی تھی۔

ملا ہیبت اللہ اخوند نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ کسی کو یہ موقع فراہم نہ کیا جائے کہ جو اس امن معاہدے میں رکاوٹ ڈالے یا اس میں تاخیری ہربے استعمال کرے یا اس سنہری موقعے کو مکمل طور پر ضائع کر دے۔

انھوں نے کہا کہ معاہدے کا متن واضح ہے اور ’ہماری قوموں اور مسائل کے حل کے لیے اس معاہدے کو مکمل طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔‘

طالبان کا مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان

ملا ہیبت اللہ اخوند نے کہا ہے کہ امارت اسلامی تمام مخالفین کے لیے عام معافی یا جنرل ایمنسٹی کا اعلان کرتے ہیں اگرحزب اختلاف میں شامل افراد، گروہ یا پارٹیز بھی اپنی دشمنی کو ترک کرنے کا انتخاب کریں۔

انھوں نے کہا کہ ہر کوئی اس جنرل ایمنسٹی سے فائدہ اٹھائے اور افغانستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ’اس جنگ زدہ ملک میں لاکھوں شہدا، زخمی، معذور، یتیم، بیوائیں اور دیگر مصیبت زدہ افراد کی یہی حواہش ہے کہ افغانستان میں اسلامی ریاست قائم ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغان طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات چیت میں کہا تھا کہ جب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور پھر معاہدہ بھی طے پا گیا، اس دوران وہ دیگر تمام افغانستان کے سیاسی دھڑوں، گروپس اور سیاستدانوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

انھوں نے کہا ان دھڑوں سے بات چیت کا مقصد ان کا مؤقف جاننا اور انھیں اپنے مؤقف سے آگاہ کرنا تھا اور اس میں مشترکہ نقاط پر بات چیت کرنا تھا۔

طالبان اور انسانی حقوق کی پاسداری

ملا ہیبت اللہ اخوند کے انٹرویو میں بعض نمایاں نقاط پر بات چیت کی گئی ہے جن میں عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

ملا ہیبت اللہ اخوند نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں عام شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جو ملک میں جنگ کے دوران ’مجاہدین عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ امارت اسلامی افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں حقیقی طور پر فکر مند ہے۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ اگر خدا نخواستہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے تو پھر اس کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور مجرم کو سزا دی جائے گی۔

ملا ہیبت اللہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تکلیف دہ ہے کہ ’مخالفین کی جانب سے فضائی حملوں اور جنگ کے دوران عام شہریوں کے گھروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے‘ س لیے وہ تمام مقامی اور بین الاقوامی قوتوں سے کہتے ہیں کہ جنگوں اور حملوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو انسانی ہمدردی کے طور پر یقنی بنایا جائے۔

ماضی میں طالبان کی جانب سے ایسے متعدد حملے ہوئے ہیں جن میں بظاہر حملہ آوروں کا نشانہ سرکاری اہلکار، یا فوجی ہوتے تھے لیکن ان میں اکثر اوقات عام شہری مارے جاتے یا زخمی ہو جاتے تھے۔

اب امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے بعد طالبان کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی دیکھا جارہا ہے۔

ان میں پہلی مرتبہ کسی شیعہ ہزارہ کو ایک ضلعے کے لیے اہم عہدہ دینا اور طالبان کے اندر سیاسی اور عسکری ونگز کے درمیان رابطوں کے لیے کسی اہم شخصیت کی تعیناتی شامل ہیں۔

طالبان ’اب این جی اوز کو سہولت‘ فراہم کریں گے

افغان طالبان کے سربراہ نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کو ’اللہ کی ناراضی‘ سے تشبیہ دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے امارت اسلامی کے صحت کمیشن کے ماہرین سے کہا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام اور لوگوں کے اس سے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ اس بیماری سے خود کو بچانے کے لیے تمام قانونی اور طبی ہدایات پر توجہ دیں تاکہ کوئی بڑا نقصان نہ ہو۔

انھوں نے عالمی ادارہ صحت اور دیگر امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ اس وبا کے دنوں میں وہ افغانستان میں صحت کے ماہرین کی مدد کریں اور زیادہ امداد دیں تاکہ اس سے نمٹنے میں متعلقہ حکام کو آسانی ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان ان امدادی اداروں یا این جی اوز کو سامان کی ترسیل اور دیگر کاموں کے لیے مدد فراہم کریں گے۔

’خواتین کو حقوق دیے جائیں گے‘

افغانستان میں طالبان کے بارے میں عام تاثر یہی رہا ہے کہ وہ خواتین کے کام کرنے اور ان کے گھروں سے باہر نکلنے کے مخالف ہیں اور افغانستان میں طالبان کے دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین کو سرِعام کوڑے مارے گئے اور انھیں گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

ملا ہیبت اللہ اخوند نے واضح طور پر کہا ہے کہ غیر ملکی فورسز کے جانے کے بعد ’اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ امارت اسلامی ایک مرتبہ پھر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہے اور اگر کوئی افغانستان کے مستقبل کے نقشے کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں یا اگر کوئی ابہام ہے تو وہ اس کو واضح کر دینا چاہتے ہیں۔‘

’اسلامی امارت اس بات کی یقین دہانی کرتی ہے کہ اس کی اجاراہ داری کی پالیسی نہیں ہے اور معاشرے کے تمام مرد اور خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’(ان کے زیر اثر) کوئی بھی محرومی یا ظلم کا احساس نہیں کرے گا۔‘

ساتھ انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’معاشرے کے استحکام اور ترقی کے لیے اسلامی شرعی قوانین کے تحت فیصلے کیے جائیں گے۔‘