ہنگری کا سیاح وکٹر زیکو انڈیا کی ریاست بہار میں کیونکر پھنسا؟

  • سیٹو تیواری
  • صحافی، انڈیا
وکٹر زیکو

،تصویر کا ذریعہPANKAJ KUMAR/BBC

مشرقی یورپ کے ملک ہنگری کے وکٹر زیکو کے صبر کا پیمانہ بالآخر 25 مئی کو لبریز ہو گیا۔ وہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے چھپرا ضلع میں گذشتہ 57 دنوں سے ملک گیر سطح پر نافذ لاکڈاؤن میں پھنسے ہوئے ہیں۔

چھپرا کے صدر ہسپتال میں مقیم وکٹر نے فرار ہونے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ناکام رہے۔ پولیس نے انھیں ضلع دربھنگہ کے سمری پولیس سٹیشن کے قریب پکڑ لیا۔

سمری پولیس سٹیشن کے انچارج ہری کشور یادو نے بی بی سی کو بتایا: 'مقامی لوگوں کی نگاہ غیر ملکی شہریوں پر پڑی چونکہ ان کے پاس ایک بہت منفرد سائیکل تھی۔ اطلاع ملنے کے بعد ہم نے انھیں چھپڑا پولیس کے حوالے کر دیا۔'

وکٹر زیکو کون ہیں؟

مشرقی یوروپی ملک ہنگری کے رہائشی وکٹر زیکو مذہبی سیاح ہیں اور وہ آٹھ فروری کو انڈیا آئے تھے، جس کے بعد انھوں نے اپنے ’ہائی ٹیک‘ سائیکل کے ساتھ پنجاب، ہماچل پردیش، ہریانہ اور اتر پردیش ریاستوں کا سفر کیا۔

یہ بھی پڑھیے

وکٹر نے بی بی سی کو فون پر بتایا: 'جب میں اترپردیش کے قریب ایک جگہ اپنا کھانا بنا رہا تھا کہ مقامی لوگوں نے مجھے گھیر لیا۔ میں سمجھ نہیں پایا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں لیکن وہ لوگ میری ویڈیو بنا رہے تھے۔ میں نے منع کیا لیکن وہ نہیں مانے۔ لاکڈاؤن کے پہلے ہفتے تک میں اترپردیش میں بغیر کسی پریشانی کے سائیکل چلاتا رہا۔ لیکن 29 مارچ کو چھپرا انتظامیہ نے مجھے مزید آگے جانے نہیں دیا۔ میں نے کورونا کی جانچ بھی کرائی جس کی رپورٹ منفی آئی۔'

،تصویر کا ذریعہPANKAJ KUMAR/BBC

سامان چوری ہوگیا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وکٹور کے مطابق ان کا لیپ ٹاپ، موبائل، پاسپورٹ، نقدی اور کپڑے سب اپریل میں چوری ہو گئےتھے ۔ فی الحال وہ چھپرا کے صدر ہسپتال میں چھ بیڈ والے وارڈ میں قیام پزیر ہیں۔ چوری کے بعد چھپرا پولیس نے تیز کارروائی کرتے ہوئے ان کا سامان تو برآمد کر لیے لیکن ان کا پاسپورٹ نہیں مل سکا۔

وکٹر بتاتے ہیں: 'میں نے اپنے پاسپورٹ کے لیے دوبارہ اپنے سفارتخانے میں درخواست دی اور وہاں سے مجھے دو دن کے اندر پاسپورٹ جاری کر دیا گیا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے مجھ تک پہنچنے میں چار ہفتے لگے۔ میں چار ہفتوں تک غیر ملک میں بغیر پاسپورٹ کے تھا اور پاسپورٹ ملنے کے بعد ہی میرے ویزے کی مدت میں توسیع کی گئی۔'

نصف انڈیا سڑک پر ہے تو مجھے کیوں اجازت نہیں ہے؟

زیکو دارجلنگ جانے کے لیے بے تاب ہیں اور وہ وہاں جا کر اپنا انڈیا کا سفر مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

سارن کے ضلع مجسٹریٹ، پولیس سپرنٹنڈنٹ اور سول سرجن سے مزید آگے جانے کی اجازت مانگنے والے زیکو نے کہا: 'میں مایوس ہوں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک لاکڈاؤن ختم نہیں ہوتا ہے وہ مجھے آگے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن انڈیا میں لاکڈاؤن کا کوئی معنی نہیں ہے آدھا ہندوستان یہاں کی سڑک پر ہے اور پھر میں ایک اکیلا سفر کرنے والا سیاح ہوں اور مجھے اپنی سائیکل سے آگے کا سفر کرنا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہPANKAJ KUMAR/BBC

انڈیا میں گھومنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

سارن کے ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے بی بی سی کو بتایا: 'وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ہدایت نامے میں سیاحوں کی نقل و حمل کے لیے کوئی ہدایت موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی سیاح کہیں پھنس گیا ہے اور اپنے ملک جانا چاہتا ہے تو اس کے لیے ہدایت نامہ موجود ہے لیکن سیاحوں کو انڈیا میں سیر کے لیے آگے جانے کی اجازت کے لیے کوئی گائڈ لائن نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے اس معاملے کے بارے میں محکمہ داخلہ کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

وکٹر دارجیلنگ کیوں جانا چاہتا ہے؟

وکٹر دارجیلنگ کے لبنانگ کارٹ روڈ پر واقع الیگزینڈر سیسوما ڈی کوروس کے مقبرے پر جانا چاہتے ہیں۔ الیگزینڈر سیسوما تبتی زبان اور بودھ فلسفے کے عالم تھے۔ وہ ایشیاٹک سوسائٹی سے بھی وابستہ تھے۔ انھوں نے پہلی تبتی انگریزی لغت تیار کی اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہ 17 زبانیں جانتے تھے۔

ہندوستان ٹائمز میں 2012 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دارجیلنگ میونسپلٹی نے کواسجنا (رومانیہ) جہاں الیگزینڈر پیدا ہو‏‏ئے تھے اور دارجیلنگ (انڈیا) جہاں ان کی موت ہوئی تھی دونوں کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی اور کارڈ روڈ کا نام الیگزینڈر سیسوما ڈی کوروس کے نام پر رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPANKAJ KUMAR/BBC

الیگزینڈر کو اپنا استاد تسلیم کرنے والے وکٹر دارجیلنگ جا کر اپنا انڈیا کا دورہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'مجھے اپنے ملک سے باضابطہ اجازت ملی ہے لیکن مجھے انڈیا میں مزید آگے جانے سے منع کیا جا رہا ہے۔'

دوسری جانب پہلے اپریل میں ہسپتال سے وکٹر کے سامان کی چوری اور اس کے بعد 24 مئی کو خود ہسپتال سے وکٹر کا فرار ہونا چھپرہ انتظامیہ کے سکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑا کررہا ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے لوگ ایک جیسے ہیں

وکٹر نے اپنی سائیکل کے ساتھ 11 ممالک کا سفر کیا ہے۔ وکٹر رومانیہ، عراق، ایران، ازبیکستان، افغانستان، پاکستان، بلغاریہ، ترکی، ترکمنستان، تاجکستان سے سائیکل چلاتے ہوئے انڈیا پہنچے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے عوام میں کوئی زیادہ فرق نہیں پایا۔