سابق انڈین آرمی چیف وی پی ملک: ’فوجی سطح پر معاملہ حل کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکیں، یہ معاملہ سیاسی اور سفارتی سطح پر حل ہو گا‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ وی پی ملک کا کہنا ہے ان کے خیال میں چین اور انڈیا کے مابین سرحدی کشیدگی کو فوجی سطح پر حل کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور اب شاید یہ معاملہ سیاسی اور سفارتی سطح پر ہی حل ہو گا۔

نمائندہ بی بی سی ہندی نیتن سری واستو سے خصوصی گفتگو میں سابق انڈین آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یہ کشیدگی کافی طویل عرصہ چل سکتی ہے کیونکہ اس کے پیچھے کارفرما عوامل پہلے سے کہیں مختلف ہیں اور ان کی نوعیت تیکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر سر اٹھایا ہے اور لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔

موجودہ سرحدی تنازع اس قدر کشیدہ ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سابق انڈین آرمی چیف وی پی ملک کے مطابق چین کی جانب سے انڈیا کے سرحدی علاقے میں مداخلت کی وجوہات جاننے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ معاملہ اس ہی مخصوص علاقے میں کیوں پیش آ رہا ہے اور اِس وقت ہی کیوں؟

انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈیا لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے علاقے میں موجود اپنے انفراسٹرکچر کو گذشتہ کئی برسوں سے بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم چین اس پر نالاں ہے۔

’حال ہی میں وہاں ایک دریا پر (انڈین) آرمی انجینیئرز نے ایک پُل تعمیر کیا ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا تھا۔ اس علاقے پر چین بھی کبھی کبھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر ہمارے لیے یہ راستہ اس لیے اہم ہے کہ یہ شیراک، دولت بیگ سے ہوتا ہوا قراقرم پاس تک جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چین کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ فوجی سرگرمیوں کے لیے اس علاقے کو، جسے وہ (چین) اپنا مانتے ہیں مگر ہم (انڈیا) سمجھتے ہیں کہ وہ متنازعہ علاقہ ہے، اپنے مصرف میں لائیں اور چین گاہے بگاہے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں جاری رکھتا ہے۔

سابق آرمی چیف کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

’جب ہم نے جموں و کشمیر (انڈیا کے زیر انتظام کشمیر) میں آئینی تبدیلی کی تھی اور وہاں آئین کے آرٹیکل 35 A کا نفاذ کیا تھا تو چین نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ ان کو قابل قبول نہیں ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ چین کا پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک اشتراک ہے۔‘

چین کے اندرونی معاملات اور بین الاقوامی تنقید

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وی پی ملک کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ چین کے اندرونی معاملات کیا چل رہے ہیں۔

کورونا کے پس منظر میں چین کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ ’شی جن پنگ کو لگ رہا ہے کہ ان کا چین کے لیے خواب (چائنا ڈریم) شاید کووِڈ 19 کی وجہ سے پورا نہیں ہو پائے گا۔ شی جن نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی ایسے علاقے جن پر چین کا دعویٰ ہے وہ واپس لے لیں گے، مگر ایسا ہوتا دکھتا نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے چین پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس تنقید کا جواب دینے کے لیے نہ صرف انفارمیشن وار کی استعداد کار بڑھائی ہے بلکہ عسکری کارروائیوں بھی بڑھائی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کئی وجوہات کی بنا پر چین ہمارے (انڈیا) مخالف چل رہا ہے اور پہلے سے موجود بھروسہ اب ختم ہو رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آیا انڈیا کی جانب سے مختلف سرحدی علاقوں میں ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں موجودہ کشیدگی کی وجہ ہو سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انڈیا ایسا (تعمیراتی سرگرمیاں) آج سے نہیں بہت عرصے سے کر رہا ہے۔

’سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں کرنے کا منصوبہ سنہ 2000 میں بن چکا تھا جبکہ اس پر عملدرآمد سنہ 2012 سے شروع ہو چکا ہے۔ یہ نئی بات نہیں ہے، گذشتہ کئی برسوں سے وہاں (سرحدی علاقوں) سٹرکوں اور پُلوں کی تعمیر ہو رہی ہے۔ مگر یہ بات ضرور ہے کہ یہ سرگرمیاں چین کو کھٹکتی ضرور ہیں مگر صرف یہ وجہ نہیں ہو سکتی۔‘

کیا انڈیا کو چین سے اس فوجی ردِعمل کی توقع نہیں تھی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

'ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس نوعیت کے معاملات پیش نہیں آئے مگر اس مرتبہ جو ہوا ہے وہ میرے خیال میں تیکنیکی سطح پر نہیں ہوا بلکہ سٹریٹیجک سطح پر ہوا ہے‘

اس سوال کے جواب پر سابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی علاقوں میں امن کے حوالے سے بہت سے معاہدے موجود ہیں اور جب بھی کسی سرحدی علاقے میں جھگڑے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو متاثرہ علاقے میں چین اور انڈیا کی افواج کے نمائندے ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔

’ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس نوعیت کے معاملات نہیں ہوئے ہیں مگر اس مرتبہ جو ہوا ہے وہ میرے خیال میں تیکنیکی سطح پر نہیں ہوا بلکہ سٹریٹیجک سطح پر ہوا ہے۔ شاید (اوپر بیان کی گئی) وجوہات کی بنا پر انھوں نے فیصلہ کیا ہو کہ تمام سرحدی علاقے میں اشتعال انگیزی دکھانی ہے۔ مگر کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے کہ انھوں نے ہمیں سرپرائز دیا ہو کیونکہ ان علاقوں میں ہماری افواج ہمہ وقت تیار رہتی ہیں اور اب بھی تیار ہیں۔‘

سابق آرمی چیف کے مطابق چین اور انڈیا کے درمیان سرحد پر امن کے حوالے سے معاہدے ہیں مگر اب چین ان معاہدوں کو نظر انداز کرنا شروع ہو گیا ہے۔

’گذشتہ کئی برسوں میں یہ بات میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ چین ایسے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں انڈین حکومت کو اس کو دیکھنا ہو گا اور میرے خیال میں وہ دیکھ بھی رہے ہوں گے۔‘

کیا صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ وی پی ملک کا کہنا ہے اب شاید یہ معاملہ سیاسی اور سفارتی سطح پر ہی حل ہو گا

اس سوال کے جواب میں وی پی ملک کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے جیسی چین کی جانب سے ماضی میں حرکتیں ہوتی رہی ہیں۔

’ایک ہی وقت میں اتنے وسیع سرحدی علاقے میں ایسا ہونا ایک مختلف بات ہے۔ میرے خیال میں فوجی سطح پر اس معاملے کے حل کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ میرے خیال میں یہ کشیدگی ابھی کافی لمبی چلے گی اور اب شاید اس کا حل سیاسی اور سفارتی سطح پر ہی ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کے حل تک سرحد کے دونوں اطراف فوجیں الرٹ رہیں گی اور ایسا کرنا پڑے گا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’حال ہی میں جہاں جہاں کشیدگی ہوئی وہاں وہاں چین کو ہزیمت ہی اٹھانی پڑی اور ان کی فوج کو واپس جانا پڑا ہے۔ مگر اگر پھر بھی وہ ایسا کر رہے ہیں تو اس کا کوئی سیاسی مقصد ہی ہو گا۔‘