انڈین سپاہیوں کی چینی فوجیوں کے ساتھ مبینہ جھڑپ کی وائرل ویڈیو کی سچائی کیا ہے؟

جھیل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

انڈیا اور چین کی سرحد پر واقع پانگونگ تسو جھیل

چینی اور انڈین فوجیوں کے مابین مبینہ تصادم کی دو ویڈیوز گذشتہ ایک دو روز میں منظر عام پر آئیں ہیں جن میں سے ایک میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے مابین کشیدگی اور پتھربازی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ دوسری ویڈیو میں تصادم کی پرتشدد شکل بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ دونوں ویڈیوز اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں اور اِن کے متعلق سوشل میڈیا پر بہت گرما گرم بحث جاری ہے۔

واضح رہے کہ انڈین فوج نے چینی اور ہندوستانی فوجیوں کے مابین مبینہ تصادم کی ویڈیو کی تصدیق نہیں کی ہے اور وائرل ہونے والی ان ویڈیوز کے متعلق انڈین فوج نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ 'بھیجی جانے والی ویڈیوز مستند نہیں ہیں۔'

دوسری طرف چین کی جانب سے بھی ان ویڈیوز پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم انڈین فوج نے بھی اپنے بیان میں یہ واضح کر دیا ہے کہ ان ویڈیوز کو موجودہ چین، انڈیا کشیدگی سے جوڑنا ایک 'شر انگیز' عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فوج کے ایک سینیئر افسر نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کسی بھی قسم کے پر تشدد واقعات نہیں ہوئے۔

انڈین فوج نے کہا ہے کہ 'فوجی افسران کے مابین پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔'

فوج نے قومی سلامتی کے معاملے کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش کی بھی مذمت کی ہے۔

تاہم انڈین فوج نے اس ویڈیو کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہYAWAR NAZIR

تنازعے کا آغاز

انڈیا اور چین کے درمیان اکسائی چین میں وادی گالوان کے متعلق کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب انڈیا نے الزام لگایا کہ چینی فوج نے وادی گالوان کے کنارے کچھ خیمے نصب کیے ہیں۔

گالوان وادی لداخ اور اکسائی چین کے درمیان ہند چین سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) چین کو انڈیا سے علیحدہ کرتی ہے۔ یہ وادی چین میں جنوبی سنکیانگ اور انڈیا میں لداخ تک پھیلی ہوئی ہے۔

اس کے بعد انڈیا نے وہاں فوج کی تعیناتی میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا۔ دوسری طرف چین نے الزام لگایا کہ انڈیا وادی گالوان کے قریب سکیورٹی سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کررہا ہے۔

اس کے علاوہ مشرقی لداخ میں پانگونگ تسو جھیل کے قریب انڈین اور چینی فوجیوں کے مابین تصادم کے بعد لداخ کے خطے میں چین اور انڈیا کے درمیان تعطل دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سکم کے دارالحکومت سے تقریبا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہند چین سرحد پر یہ ناتھولا گیٹ ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

نو مئی کو شمالی سکم کے ناکو لا سیکٹر میں انڈین اور چینی افواج کے مابین تصادم ہوا تھا۔ اس وقت لداخ میں ایل اے سی کے قریب چینی فوج کے ہیلی کاپٹرز دیکھے گئے تھے۔ اس کے بعد انڈین فضائیہ نے سکھوئی اور دیگر جنگی طیاروں کے ساتھ بھی وہاں گشت شروع کیا تھا۔

دونوں اطراف میں اصل کنٹرولر لائن (ایل اے سی) پر چار مقامات پر ایک ہزار سے زیادہ جوان تعینات ہیں جبکہ دونوں ممالک اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کے عمل میں مصروف ہیں۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نیوز چینل آج تک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایل اے سی پر کشیدگی کم کرنے اور معاملے کو مستقل طور پر حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ڈوکلام میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

سنہ 2017 میں ڈوکلام پر انڈیا اور چین کے مابین کافی تنازع ہوا تھا اور یہ کشیدگی 70-80 دنوں تک جاری رہی تھی۔ لیکن پھر اس مسئلے کو مذاکرات سے حل کیا گیا۔

مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب انڈیا نے سطح مرتفع کے علاقے ڈوکلام میں چین کی جانب سے سڑک بنانے کی کوشش کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

ویسے ڈوکلام انڈیا کے بجائے چین اور بھوٹان کے مابین ایک متنازع علاقہ ہے۔ لیکن یہ انڈیا کی سکم سرحد کے قریب ہی واقع ہے اور اس لیے یہ ایک سہ رخی مقام ہے جہاں چین کی سرحد بھی قریب میں ہی واقع ہے۔ بھوٹان اور چین دونوں اس علاقے پر اپنا اپنا دعوہ پیش کرتے ہیں اور انڈیا اس تنازع میں بھوٹان کی حمایت کرتا ہے۔