کورونا سے بدلتے شادیوں کے منظرنامے: خواب پر تعیش شادی کے لیکن بارات میں گنتی کے چار لوگ

شادی

،تصویر کا ذریعہSAHIL ARORA

،تصویر کا کیپشن

نتن اور چیتالی کی شادی میں صرف 16 افراد نے شرکت کی

کورونا وائرس کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انڈیا بھر میں شادی کی تقریبات کو ملتوی کر دیا گیا ہے لیکن کچھ لوگوں نے اپنی پرتعیش اور دھوم دھام والی شادی کی جگہ چھوٹی اور قریبی لوگوں پر مبنی تقریبات کو ترجیح دی ہے۔

تو کیا یہ نیا معمول ہو سکتا ہے؟ دلی سے بی بی سی کی گیتا پانڈے کی رپورٹ پڑھیے۔

نتن اروڑا اور چیتالی پوری کی چھ سال قبل کالج میں ملاقات ہوئی تھی اور ایک سال بعد انھوں نے ڈیٹنگ شروع کر دی تھی۔

جب انھوں نے مئی کے شروع میں اپنی شادی کی تاریخ مقرر کی تھی تو وہ ایک پرتعیش شادی کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس شادی کی تقریبات کا آغاز مارچ میں ایک منگنی کی تقریب سے ہوا تھا جس میں 170 افراد شریک تھے اور یہ چنڈی گڑھ شہر میں پوش کلب کے لان میں منعقد ہوئی تھی۔ پنڈال کو سفید اور سبز پھولوں سے سجایا گیا تھا اور ہر طرف سنہری پریوں کی طرح چمکتی ہوئی روشنی تھی۔

چیتالی کہتی ہیں: ’یہ ایک پنجابی فنکشن تھا۔ وہاں بہت سی شراب، بہت سارے کھانے، پرشور موسیقی تھی۔ اور ہم ساری رات ناچتے رہے۔ ہم اسی وقت رکے جب ڈی جے کے جانے کا وقت ہو گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

دو مئی کو ہونے والی ان کی شادی کی تین روزہ تقریبات کے لیے شہر کے مضافات میں ایک وسیع و عریض پر تعیش ریسٹوران بک کیا گیا تھا جہاں شادی سے قبل کاک ٹیل پارٹی، میوزک اور ڈانس ایونٹ اور کئی دیگر رسومات ہونی تھی۔

شادی کی اصل تقریب جس میں دلہا اور دلہن آگ کے گرد سات پھیرے لیتے ہیں وہ ریستوران کے اندر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ہونی تھی جس میں غروب آفتاب کے ساتھ تصویر کے لیے بہترین پس منظر مہیا کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSahil Arora

،تصویر کا کیپشن

نتن اور چیتالی کی منگنی کی رسم بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مہمانوں کی فہرست میں 450 نام تھے اور دس صفحات پر مشتمل کھانے کے مینیو میں چار مختلف طرز کے پکوان تھے اور بعد کی پارٹی کے لیے ایک ڈی جے کا انتظام کیا گیا تھا۔

دلہن کے لیے ہلکے گلابی ریشم کا سکرٹ، بلاؤز اور سکارف تھا اور دولھے کا لباس ان کے حساب سے بنانے کا آرڈر دے دیا گیا تھا جبکہ زیورات کے آرڈر بھی دیے گئے تھے۔

اور پھر 24 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ ہو گیا۔ انڈیا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ جوڑا منتظر رہا کہ لاک ڈاؤن کھلے اور نرمی برتی جائے اور پھر یہ اپنی شادی اپنے منصوبے کے مطابق بہترین ڈھنگ سے کر سکیں۔

لیکن لاک ڈاؤن ختم ہونے کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔ پھر انھوں نے 15 اپریل کو شادی کو نومبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ تقدیر کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔

نتن نے چندی گڑھ سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا: ’یکم مئی کی دوپہر کو میرے والد کو ایک دوست کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ اب بھی دو مئی کو شادی کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہمارے لیے چنڈی گڑھ سے دلی جانے کے کرفیو پاس کا بندوبست کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSahil Arora

،تصویر کا کیپشن

نتن اروڑا اور چیتالی پوری نے مئی کے شروع میں اپنی شادی کی تاریخ مقرر کی تھی اورایک پرتعیش شادی کا منصوبہ بنایا تھا

یہ تین چار گھنٹے بڑے مضطرب رہے۔ ابتدائی درخواست کے مسترد ہو جانے کے بعد بالآخر شام ساڑھے پانچ بجے کرفیو پاس مل گیا۔

چیتالی کہتی ہیں: ’انھوں نے کہا کہ شادی اسی دن ہو گی۔ اس کے بعد ہمیں شادی کے لیے ایک پنڈت کو ڈھونڈنا پڑا۔ ہمارے مقامی پنڈت نے پہلے ہاں کہا، پھر انھوں نے منع کر دیا کیونکہ ان کے بچے ان کے وائرس کی زد میں آنے کے بارے میں فکر مند تھے۔ آخر کار ہم نے ساڑھے سات بجے ایک اور پنڈت کو تیار کر لیا۔‘

اگلے دن صبح ساڑھے نو بجے نتن اپنے والدین اور اپنے بھائی کے ساتھ دلی پہنچے۔ پنڈت ساڑھے دس بجے پہنچا اور شادی کی تقریب 11 بجے شروع ہوئی۔

چیتالی نے ہنستے ہوئے کہا: ’میرا کمرہ شادی کا منڈپ بنا، میں نے اپنی ماں کی ساڑھی اور دادی کا زیور پہنا۔ نتن کے بھائی نے تصاویر کھینچی اور ہم نے جو موجود تھا وہ لنچ کے طور پت لیا۔‘

تقریب میں پنڈت سمیت 16 افراد نے شرکت کی۔ ایک زوم لنک قائم کیا گیا تاکہ دوست اور رشتہ دار اس شادی کو دیکھ سکیں۔

چیتالی نے بتایا کہ نتن خوش نہیں ہیں کیونکہ ان کے وسیع کنبے کے افراد ان کے کزنز، آنٹیاں اور ماموں وغیرہ ان کی شادی میں شرکت نہ کر سکے لیکن ان کا منصوبہ ہے کہ اگر کووڈ 19 کا خطرہ کم ہو جاتا ہے تو وہ رواں سال کے آخر میں ایک بری پارٹی دیں گے۔ تاہم اس کے ساتھ چیتالی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم اپنے ستاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ایسا ہو سکا۔‘

کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار نئی نویلی دلہن سوکنیا وینکٹ رمن اور ان کے دولہے شانتھو جیکب پال نے کیا۔ انھوں نے بنگلور کے ایک دھول زدہ پارکنگ والے حصے میں شادی کی انگوٹھی ایک دوسرے کو پہنائی۔

،تصویر کا ذریعہSUKANYA VENKATARAMAN

،تصویر کا کیپشن

شانتھو اور سوکنیا نے اپنی شادی کی تقریب ساحل سمندر پر رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا

چند منٹ قبل ہی انھوں نے شادی بیاہ کے رجسٹرار کے دفتر میں دلہن کی ماں اور دولہے کے چچا اور چچی کے ساتھ بطور گواہ شادی کی تھی۔

اس شادی کے لیے کاغذی کارروائی ضروری تھی کہ یہ بین المذہب شادی تھی۔ دلہن ہندو تھی تو دولہا مسیحی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ شادی کی تقریب بس اتنے ہی تک محدود ہوتی۔

سوکنیا نے بنگلور سے مجھے فون پر بتایا: ’شانتھو چینئی میں ساحل سمندر پر شادی کی تقریب چاہتے تھے جہاں ان کے والدین رہتے ہیں۔ چینئی (سابقہ مدراس) اور بنگلور میں پرتعیش استقبال کے منصوبے تھے۔ ہم 200 مہمانوں کی توقع کر رہے تھے۔‘

’میں ہمیشہ ہی عروسی جوڑا پہننا چاہتی تھی، میں سرخ ریشم کی ساڑھی پہننا چاہتی تھی، اپنے بالوں کو مخصوص ڈیزائن دینا اور اپنے ہاتھوں میں مہندی رچانا چاہتی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ آخر میں انھوں نے خود سے مہندی لگائی اور سنہری کناری والی سفید سارھی پہنی جو کہ شانتھو نے دو سال قبل انھیں تحفے میں دی تھی۔

دولہے کے چچا نے شادی کی تصاویر لیں جبکہ ان کی چچی نے زوم لنک قائم کیا جس کے ذریعے سکاٹ لینڈ، ناروے، متحدہ عرب امارات اور امریکہ سے ان کے دوست اور رشتہ دار شریک ہوئے اور ان کے لیے براہ راست کمنٹری بھی کی گئی۔

سوکنیا ہنستے ہوئے کہتی ہیں: ’میں بہت مطمئن ہوں۔ مجھے ذاتی طور پر شادی کی نجی تقریب زیادہ پسند ہے لیکن میرے شوہر کو بہت افسوس ہے، ان کے پاس ایک بڑی فہرست تھی۔‘

شانتھو نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ ہماری زندگی کا ایک اہم دن تھا۔ میرے ذہن میں اس کے لیے ایک منصوبہ تھا کہ اسے کیسا ہونا چاہیے تھا۔ میں ایک مہینہ تک میوزک اور ڈانس ریہرسل چاہتا تھا، ایک بڑا جشن منانا چاہتا تھا، میں چاہتا تھا کہ میرے اہلخانہ اور دوست ہمارے ساتھ وہاں حاضر ہوں جو ہمارے اس بڑے دن کے گواہ ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہSUKANYA VENKATARAMAN

،تصویر کا کیپشن

شانتھو نے سوکنیا کو انگوٹھی کسی شادی کے منڈپ کی جگہ ایک پارکنگ والے حصے میں پہنائی

بہرحال انھوں نے بڑے جشن کے خیال کو اب تک ترک نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’ایک بار جب حالات محفوظ ہو جائيں اور کورونا وائرس کا خطرہ کم ہو جائے تو ہم چینئی اور بنگلور میں استقبالیہ کا پروگرام رکھیں گے۔ ہم ہنی مون کے لیے پیرس جائیں گے چونکہ ہم ساحل سمندر کی شادی سے محروم ہو گئے لہذا ہم چھٹیاں منانے ماریشیس یا مالدیپ جائيں گے۔‘

انڈیا کی معروف ویڈنگ پلانر وندنا موہن جنھوں نے اٹلی کے لیک کومو میں بالی وڈ سپر سٹار اداکارہ دیپکا پاڈوکون اور اداکار رنویر سنگھ کی شادی کا اہتمام کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ مئی میں ہونے والی شادیاں کچھ مخلتف تھی۔

’میں نے اپنے تمام کلائنٹس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپریل اور مئی میں ہونے والی شادیوں کو اگلے برس کے لیے ملتوی کر دیں اور ان سب نے اس پر اتفاق کیا ہے۔‘

وندنا موہن کا کہنا ہے کہ سال کے آخر میں شادی کے بارے میں لوگ بہت زیادہ سوال کر رہے ہیں۔ لیکن وہ کسی بھی جوڑے کو اکتوبر کے وسط سے پہلے کے بارے میں کوئی بھی منصوبہ بنانے کا مشورہ نہیں دے رہی ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ 250 سے 300 افراد کو مدعو کرنا چاہتے ہیں لیکن ابھی صرف 50 افراد کو ہی شادی میں شرکت کی اجازت ہے۔

انھوں نے کہا: ’شادی زبردست جشن کا، خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف دو افراد بلکہ خاندانوں اور معاشروں کو ساتھ لاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں کبھی یہ تصور نہیں کر سکتی کہ انڈیا میں شادی ہو اور اس میں آپ کی برادری شامل نہ ہو۔‘

ایک برائیڈل میگزین کی سابق ایڈیٹر نوپور مہتا کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی کووڈ 19 کی ویکسین کا منتظر ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ شادی کی صنعت ملک کی بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ انڈیا میں ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ شادیاں ہوتی ہیں۔ اکاؤنٹنگ اینڈ ریسرچ فرم کے پی ایم جی کا اندازہ ہے کہ شادی کا کاروبار 50 ارب ڈالر سے زیادہ کا کاروبار ہے۔

نوپور مہتا کہتی ہیں کہ لاک ڈاؤن نے ملوسات کی صنعت اور زیورات بنانے والوں کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے لیکن یہ تیزی سے اس بحران سے باہر آ جائيں گے کیونکہ شادی انڈین ثقافت کا ایک لازمی جزو ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’یہ زیادہ تر لوگوں کی زندگی کا سب سے بڑا موقع ہوتا ہے۔ ہم اپنی ساری زندگی شادی کا انتظار کرتے ہیں۔ کچھ عرصے تک لوگوں کی شادیاں کم مہمانوں کے ساتھ ہوں گی لیکن وقت کے ساتھ بڑی تقریبات اور دھوم دھام والی شادی پھر سے عام ہو جائے گی۔‘