کورونا وائرس: پارلے جی کی ریکارڈ فروخت، لاک ڈاؤن میں بسکٹ کمپنیوں کا بول بالا

پارلے جی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سال جتنی بات لاک ڈاون کی ہو رہی ہے پچھلے سال اتنی ہی بات سلو ڈاون یا معاشی مندی کی ہو رہی تھی۔ اس وقت ایک خبر پر کافی بات ہوئی تھی کہ معاشی مندی کا عالم یہ ہے کہ مزدور پانچ روپے کی پارلے جی بسکٹ تک نہیں خرید پا رہے، اور فروخت کم ہونے کی وجہ سے کمپنی کو بڑے چیلینج کا سامنا ہے۔

اور اس سال لاک ڈاون کے دور میں یہ پانچ روپے والا بسکٹ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے ۔۔۔

پارلے جی بسکٹ بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کے دوران ان کے اتنے بسکٹ فروخت ہوئے جتنے پچھلی چار دہائیوں میں نہیں بکے تھے۔ یعنی لاکڈاون میں کمپنی کو زبردست منافع ہوا ہے۔

پارلے جی بنانے والی کمپنی پارلے پروڈکٹس کے ایک اعلیٰ اہلکار مینک شاہ نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ، ’لاک ڈاون کے دوران زبردست اضافہ ہوا ہے، کم سے کم پچھلے تیس چالیس سالوں میں تو ایسا اضافہ کبھی نہیں ہوا۔‘

انہوں نے بتایا کہ بسکٹ کے کافی سخت مقابلے والے شعبے میں کمپنی نے پچھلے دو ماہ میں اپنا حصہ بڑھا کر پانچ فیصد کر لیا ہے۔

ایسا کیوں ہوا؟

مینک شاہ اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ عام لوگوں نے وبا کے دوران پارلے جی کا سٹاک جمع کر لیا۔ اور دوسرا یہ کہ حکومتوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے بھی لوگوں کی مدد کے لیے جو کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے ان میں پارلے جی کو بھی شامل کیا جس کا چھوٹا پیکیٹ دو روپے میں بھی ملتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے بھی قدرتی آفات کے دوران جیسے کہ سونامی یا زلزلے کے وقت پارلے جی کی فرخت میں اضافہ ہوتا تھا۔

مینک شاہ نے اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ لاک ڈاون کے دوران ہر طرح کے بسکٹوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے لیکن کفایتی ہونے کی وجہ سے سفر کرنے والے ورکرز اور متوسط طبقے میں پارلے جی کو ترجیح دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

شاہ نی کہا، ’دوسرے لوگوں نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے مگر ہم نے سب کچھ منظم طریقے سے کیا اور کمپنی کی تاریخ کے سنہرے دنوں میں سے ایک اچھا وقت دیکھا۔‘

حالانکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے پارلے کے کاروبار میں رکاوٹیں بھی آ رہی ہیں۔ پارلے پروڈکٹس کے مارکیٹنگ مینیجر کرشنا راو بدھا نے بی بی سی نامہ نگار ندھی رائے سے کہا کہ صرف پچاس فیصد ورکرز کو ہی کام پر بلانے کی اجازت ہونے کی وجہ سے ان کی پیداوار پر اثر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا، ’مزدوروں کی کمی سے ہمارے کاروبار پر پندرہ سے بیس فیصد اثر پڑا ہے اور یہ یقینا ہمارے لیے ایک مشکل وقت ہے۔‘

کرشنا راو بدھا نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ لاک ڈاون کے وجہ سے لوگ زیادہ تر گھر پر بنا کھانا کھا رہے ہیں، یا پیک کیا ہوا کھانا لے رہے ہیں اور اس وجہ سے ان دنوں میں وہ بسکٹ، نمکین، نوڈلز اور خشک میوے جیسی کھانے کی اشیا خرید رہے ہیں۔

بسکٹ بنانے والی ایک اور کمپنی برٹینیا کو بھی لاک ڈاون میں منافع ہوا ہے۔ لاک ڈاون شروع ہونے کے بعد سے ان کے شئیرز کی قیمت میں اڑتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بریٹینیا کے سربراہ ورون بیری نے اکنامک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی اس وبا کو ایک موقع میں تبدیل کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’پچھلے دو ماہ میں ہماری فروخت کافی بڑھی ہے۔ خریداروں کی عادتیں بدل رہی ہیں۔ عام دنوں میں وہ سٹریٹ فوڈ، ریستوراں، مالز، کہیں بھی جا کر کھا سکتے تھے۔ اب صرف گھر پر کھانا کھایا جا رہا ہے اور اس سے ہمیں مدد مل رہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ساتھ ہی ایسے مشکل وقت میں لوگ جانے پہچانے برینڈز کو ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں اور بریٹینیا ایک بھروسہ مند برینڈ ہے جس وجہ سے اس مشکل وقت میں لوگ ہمارا سامان خرید رہے ہیں۔

پارلے ۔ نو دہائی پرانی کمپنی

،تصویر کا ذریعہPARLE G

پارلے کمپنی کی بنیاد موہن لال دیال نے 1939 میں صرف بارہ لوگوں کے ساتھ ڈالی تھی۔ ممبئی کے ولے پارلے علاقے میں اپنی سب سے پہلی فیکٹری شروع کی۔ ولے پارلے کے ہی نام پر کمپنی کا نام بھی پارلے رکھا گیا۔ شروع میں کمپنی چاکلیٹ اور پیپرمنٹ بنایا کرتی تھی۔

1938 میں کمپنی نے پہلی بار بسکٹ بنایا جس کا نام رکھا پارلے۔ گلو کہ اسّی کی دہائی میں اس کا نام بدل کر پارلے ۔ جی رکھا گیا۔

اس کے بعد پارلے نے کئی دوسری پروڈکٹس بنائیں جو صارفین میں مقبول ہو گئیں۔ جیسے مونیکو، میری، کریک جیک، ہائیڈ اینڈ سیک، مینگو بائیٹ وغیرہ۔

پارلے کی وہ پہلی فیکٹری چار سال قبل 2016 میں بند ہو گئی۔

فی الحال کمپنی کے اپنے دس کارخانے ہیں۔ ان کے علاوہ کمپنی کا سامان دیگر 125 پارٹنر کارخانوں میں بھی تیار ہوتا ہے۔

کمپنی میں لگ بھگ ایک لاکھ لوگ کام کرتے ہیں۔

پارلے ہر سال دس ہزار کروڑ روپے کی اشیا فروخت کرتی ہے۔

کچھ اندازوں کے مطابق دنیا کے 100 ممالک میں ہر سیکنڈ پارلے جی کے ساڑھے چار ہزار بسکٹ کھائے جاتے ہیں۔

لیکن کمپنی کی کل فروخت میں آدھی سے زیادہ دیہی علاقوں میں ہوتی ہے۔