پانی پوری اور گول گپے: لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ یاد آنے والا سٹریٹ فوڈ

  • چاروکیسی رامادورئی
  • بی بی سی ٹریول
پانی پوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں کسی بھی معمول کی شام بڑے شہر ہوں کہ چھوٹے وہاں کے بازار اور مرکزی شاہراہوں پر بھیڑ ہوتی ہے اور ایک جیسا سماں ہوتا ہے اور کسی کونے پر پانی پوری یا گول گپے کی دکان کے سامنے ایک بھیڑ ہوتی ہے جس کے گرد شوقین خریداروں کا شور سنائی دیتا ہے۔

پانی پوری والے کے ہاتھ اڑتے دکھائی دیتے ہیں جب وہ بے صبر گاہکوں کے لیے پُوریوں (آٹے اور سوجی کے تلے ہوئے گول گپے) کو مختلف پیالوں میں مسالے بھرنے اور چٹنیوں میں ڈبونے کا کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے گاہکوں میں ہر عمر کے لوگ ہر طبقے سے آتے ہیں۔ کوئی شاندار کاروں سے نکل کر ان کی جانب آ رہا ہے تو کوئی اپنے گھروں سے چہل قدمی کرتا ہوا۔ انڈیا کے لوگوں کو پانی پوری یا دوسرے قسم کے چاٹ (تلے ہوئے چٹپٹے ناشتے) کی محبت جتنا جوڑتی ہے شاید کوئی دوسری چیز نہیں۔

'چاٹ' ایک عوامی لفظ ہے جو چاٹنے سے نکلا ہے اور اس سے لفظ 'چٹورا' اور 'چٹپٹا' بھی بنتا ہے۔ اس میں مختلف قسم کے سٹریٹ فوڈ آتے ہیں اور مختلف قسم کی تلی بھنی چیزوں کو توڑ اور مسل کر اور مختلف قسم چٹنیوں کے ساتھ ایک مرکب بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انڈیا میں اسے ذوق و شوق سے پسند کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اس وقت بھوک کو مٹاتا ہے جب لنچ ہضم ہو چکا ہوتا ہے اور رات کے کھانے میں ابھی وقت بچا ہوتا ہے اور تمام قسم کے لذیذ چاٹ میں پانی پوری ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی نظر میں پانی پوری کچھ خاص محسوس نہیں ہوتی ہے۔ یہ لفظ خود پانی اور پوری کا مرکب ہے جس میں ایک قسم کا پانی ہوتا ہے جس میں چٹنیاں گھلی ہوتی ہیں اور پوری ہوتی ہے جس میں پانی بھرا ہوا ہوتا ہے۔ پوری کا سائز اتنا ہی ہوتا ہے جتنا آپ جب انگلی اور انگوٹھے کو ملاتے ہیں تو بیچ میں جو جگہ بنتی یا دائرہ بنتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

تاہم پانی پوری کو کھانے کے لیے زیادہ احتیاط اور تھوڑی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پوری میں اپنی انگلی سے سوراخ کریں پھر اس میں اپنے منتخب اجزا جیسے ابلے اور مسلے ہوئے آلو کے ٹکڑے، صحت مند سپراؤٹ، باریک کٹی ہوئی پیاز یا پھر مٹر اور پھر اس میں املی کی کھٹی میٹھی مسالے دار چٹنی والے پانی کو ڈالیں اور گپ سے کھا جائیں اور پھر منھ میں ایک ساتھ مختلف ذائقے کا مزا لیں۔ خیال رہے کہ یہ سارے کام جلدی جلدی کرنے ہیں ورنہ پوری گیلی ہوکر ٹوٹ جائے گی اور اس سے پانی بہہ نکلے گا۔ یہ ایک ساتھ آپ کے ذائقے کی کئی پرتوں کو کھول دیتا ہے اور ناک اور منھ میں ایک قسم کا ذائقے کا دھماکہ ہوتا ہے۔

واقعتا پانی پوری کھانے میں آپ کے منھ کے دونوں کناروں سے رس نکل پڑیں گے اور آنکھوں سے آنسو۔ یہ ایسا تجربہ ہے جو بیان سے کہیں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی پوری گلیوں بازاروں میں ملنے والا وہ سنیک ہے جسے ملک میں 25 مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن کے سبب سب سے زیادہ یاد کیا گيا ہے۔ بہر حال بہت سے باورچیوں نے گھر میں ہی اس کا جادو جگانے کی کوشش اور اس کی کچھ وجہ تو اپنے چٹورے ذائقے کی کمی کو دور کرنا تھا اور جزوی طور پر پھر سے گلیوں میں جا کر چاٹ کھانے کی کمی کو پورا کرنا تھا کیونکہ انڈیا کے بعض حصوں میں ابھی تک لاک ڈاؤن جاری ہے۔

آزاد خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق دی ہندو اخبار نے لکھا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران گوگل انڈیا پر پانی پوری بنانے کی ترکیب تلاش کرنے والوں میں 107 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

نیز پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا چینلز پر پانی پوری کے قصیدے نظر آئے ہیں اور اس کے بہترین ذائقے پر باتیں ہوتی رہی ہیں اور لوگوں کو اس کی یاد کتنی ستاتی رہی ہے وغیرہ کا تذکرہ دیکھا گيا ہے۔ دہلی سے آنے والی ایجوکیشن ایڈوائزر میتا سینگپتا نے ای میل پر مجھے لکھا: 'پانی پوری لطف سے بھرپور ہے۔ پھوڑو، بھرو، نگلو اور پھر ذرا دم لو۔'

،تصویر کا ذریعہAlamy

ممبئی کی صحافی کرشمہ اپادھیا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: 'میرا خیال ہے کہ میری خواہش ایسی جگہ سے آئی ہے جہاں ہمیں خوشی اور 'نارمل' محسوس ہو۔ جب آس پاس کی چیزیں اس طرح بے ترتیب ہوں اور پھر آپ کے منھ میں وہ ذائقہ آئے جس سے آپ کا منھ اور دماغ ہم آہنگ ہو۔ جب آپ پانی پوری کو اپنے منہ میں ڈالتے ہیں تو آپ کو معلوم ہے کہ ایک ساتھ ٹھنڈے، مسالہ دار، تیز ترش، میٹھا اور کرکرے کا بہترین مرکب ملتا ہے۔ اور بس ان چند لمحوں کے لیے آپ کو سب کچھ ٹھیک محسوس ہوتا ہے۔'

جبکہ کچھ بہادر باورچی جیسے فوڈ بلاگر امریتا کور نے بالکل ہی شروع سے پوری (اخیر میں ترکیب بنانے کی ترکیب درج ہے) بنانا شروع کیا جس میں انھوں نے آٹے گوندھے، پھر درجنوں پوریاں تل کر نکالیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ دکان سے خرید کر پوری لاتے ہیں۔

پانی پوری کی ابتدا کے بارے میں بہت ساری کہانیاں ہیں۔ طباخی کے ماہر عمرانیات ڈاکٹر کروش دلال کہتے ہیں کہ چاٹ (شاید پانی پوری کا پیش رو) تیار کرنے کی ابتدا سترہویں صدی کے آخر میں شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت کے زمانے میں شمالی ہندوستانی خطے یعنی موجودہ اتر پردیش میں ہوئی۔ دلال کے مطابق شاہی ڈاکٹروں نے عام لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ زیادہ تلی ہوئی اور مسالہ دار نمکین (اور دہی) کا استعمال کریں تاکہ دریائے جمنا کے پانی کے الکلین کے معیار کو متوازن کیا جا سکے۔ خیال رہے کہ اس وقت ہندوستان کا نیا درالحکومت دلی جمنا کے کنارے ہی آباد ہوا تھا۔ پوری ایک لقمے کی سائز کی ہوتی تھی اور اس میں چاٹ مسالہ بھرا جاتا تھا جس میں میش پوٹیٹو یعنی ابلے اور کچلے ہوئے آلو ہوتے تھے وہ تارکین وطن کارکنوں کے ذریعہ ملک کے باقی حصوں میں پھیلے جو گذشتہ صدی میں دہلی اور ممبئی میں روزگار کے سلسلے میں آئے۔

انتہائی عمدہ چاٹ کی طرح ہی پانی پوری کا بہترین لطف سڑکوں کے کنارے ہی لیا جاتا ہے۔ ہرچند کہ اعلی درجے کے ریستوراں نے پچھلے کچھ سالوں میں اسے قدرے مختلف انداز میں پیش کرنا شروع کیا ہے جس میں چٹنی کی جگہ وودکا شاٹس، شڈر اور گواکامول کا بھرنا ہے لیکن یہ بہت مقبول نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گلیوں کے دکاندار اپنے صارفین کا ذائقہ جانتے ہیں اور اسی کے مطابق ہر پانی کی پوری ترتیب کے مرکب کو تیار کرتے ہیں۔ 'صرف کھٹی میٹھی املی کی چٹنی، 'اس میں سپراوٹ نہ ڈالیں'، 'اور مسالہ ڈالیں' اور ہر ایک کا اپنا پراسرار پانی اور مرکب پیار کرنے کا دعوی ذائقے کو منفرد بناتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy

کھانے کے بارے میں لکھنے والی مصنف انوبھوتی کرشنا اتر پردیش سے تعلق رکھتی ہیں اور پانی کی پوری کی فین ہیں لیکن انھوں نے کبھی اسے گھر میں بنانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ 'مجھے معلوم ہے کہ میں گھر میں اپنے پسندیدہ ذائقوں کی نقل نہیں بنا سکتی اور یہ ہم یوپی والے (اترپردیش والے) کے لیے قابل احترام ہے۔'

اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پانی پوری ہاتھ سے (یا شاید صرف ہاتھ) کھانے میں ہی بہتر ہوتی ہے اس کے لیے چھری کانٹے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ طباخی کی کنسلٹینٹ اور ہندوستانی گلیوں کے کھانے سے متعلق کتاب 'دی ٹریولنگ بیلی' کی مصنف کلیان کرماکر پانی پوری کھانے کو 'فوڈ ایڈونچر اسپورٹ' کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'ریستوراں میں وہ مزا اور جوش پیدا ہی نہیں ہو سکتا جو ‎سڑک کے کنارے سنسی خیز ماضی کے کھانے سے جڑا ہے۔ آپ کی نگاہ پانی پوری والے پر مرکوز ہے۔ جب آپ کی باری آتی ہے تو آپ اسے اپنے منھ میں لےجانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

اگرچہ پانی پوری ملک بھر میں بارہ مہینے یکساں پسند کیے جاتے ہیں لیکن یہ کہیں بھی ایک ہی جیسی نہیں ہوتے یعنی اس کے معیار کا تعین نہیں ہے۔ اگر دیکھیں تو ہر جگہ اس کا نام بھی مختلف ہے۔ پانی پوری ممبئی کی اصطلاح ہے، جبکہ دہلی میں اسے گول گپا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کولکتہ میں اسے پھچکا کے نام سے جانتے ہیں اور اتر پردیش میں اشے پانی کے پتاشے یا بتاشے کہتے ہیں۔ یہ اختلاف پوری بنانے کے بنیادی اجزا کی وجہ سے بھی ہے، کہیں یہ سجی کے ہوتے ہیں تو کہیں آٹے کے اور پر اس میں جو چیزیں بھری جاتی ہیں وہ بھی مختلف ہوتی ہیں۔ اور سیاست یا کرکٹ کی طرح انڈیا کے لوگ اس بات پر بھی بحث کرنا پسند کرتے ہیں کہ کس قسم کی پانی پوری بہتر ہے اور کس شہر کی بہتر ہے اور کون سا پانی پوری والا سب سے زیادہ چٹپٹا بناتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سینگپتا تیار پوری (اسٹورز میں ملنے والی) کا استعمال کرتے ہیں۔ انھوں اپنے بنگالی-پنجابی گھر کے بارے میں بتایا جہاں پانی 'ادرک کے ذائقے سے میٹھا ہوتا ہے اور اس میں بہت سی ہینگ اور پودینہ ڈالا جاتا ہے جس س کئی طرح کا ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔ اور کرشنا کا کہنا ہے کہ یہ بحث بے کار ہے لیکن ان ھیں لکھنؤ کا ذائقہ پسند ہے کیونکہ اس میں 'نرم مٹر کے دانے ہوتے ہیں جو مسالے دار پانی کے ساتھ مل کر بالکل ہی مختلف ذائقہ دیتے ہیں اور وہاں کی پوری یا بتاشہ زیادہ خاستہ ہوتی ہے۔'

سینگپتا نے یاد کرتے ہوئے اس کے بارے میں کہا یہ 'منھ میں دھماکے جیسا ہے لیکن پھر بھی روح پرور غذا ہے۔' یہ ایک ایسی تعریف ہے جو لاکھوں پانی پوری کے شوقین کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔

امریتا کور کی پانی پوری بنانے کی ترکیب (40-50 پوریاں بنیں گی)

مسالہ دار پانی:

  • ایک کپ تازہ دھنیا
  • ایک کپ تازہ پودینہ
  • دو تین ہری مرچ
  • ایک چمچہ بھنا ہوا زیرہ پاؤڈر
  • نصف چمچہ ہینگ
  • کچی املی کی ایک چھوٹی سی گیند
  • ایک لیموں کا رس
  • ایک چمچہ کالی مرچ
  • ایک چمچا چاٹ مسالہ
  • دو تین چمچہ گڑ پاؤڈر
  • ذائقہ کے حساب سے نمک

سب کو ملائيں اور دو لیٹر ٹھنڈا پانی شامل کریں اور پھر اسے چھوڑ دیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کھٹا میٹھا پانی:

املی کی ایک چھوٹی سی گیند لیں اور گودا کو نکالنے کے لیے پانی میں بھگو دیں

  • تین چمچہ گڑ
  • چٹکی بھر کالا نمک
  • چٹکی بھر بھنا ہوا زیرہ پاؤڈر
  • چٹکی بھر کالی مرچ

املی اور گڑ کو ایک ساتھ پکائیں، اور پھر اس میں ایک چٹکی کالا نمک، بھنا زیرہ اور کالی مرچ پاؤڈر ڈال کر گھونٹیں اور چٹنی بنائیں۔

اس کے ساتھ اضافی چیزیں جیسے ابلے ہوئے اور چھلے ہوئے آلو اور/ یا کرکری بوندی (چھوٹی، تلی ہوئی مٹر کے دانے کی سائز کی) بنائیں۔

پوری:

  • ایک کپ سوجی
  • ایک چمچہ ریفائنڈ آٹا
  • ایک چمچہ تیل
  • نصف چمچہ بیکنگ سوڈا
  • چٹکی بھر نمک
  • تلنے کے لیے تیل

ان سب کو ملائیں اور تھوڑے سے پانی کے ساتھ گوندھیں اور نرم پیڑے بنا لیں۔ اسے 30 منٹ تک چھوڑ دیں۔ پھر گوندھیں اور پھر ایک بڑی سی روٹی کی طرح بیلیں اور پھر کسی کپ، کٹر یا ڈسک کی مدد سے اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے میں کاٹ لیں اور درمیانی آنچ پر ڈیپ فرائی یعنی زیادہ تیل میں فرائی کریں۔

اور ذائقے کے مطابق پانی کی پوری کو جمع کریں۔