افغان امن عمل اور بین الافغان مذاکرات کیا اہم اور پیچیدہ مرحلہ شروع ہونے والا ہے؟

  • خدائے نور ناصر
  • بی بی سی، اسلام آباد
غني

،تصویر کا ذریعہARG

افغانستان میں قیام امن کے لئے سب سے اہم اور پیچیدہ مرحلے کا آغاز عنقریب ہونے والا ہے تاہم یہ مذاکرات کہاں یا کس ملک میں ہوں گے یہ اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔

رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے مطابق امن عمل کے دوسرے مرحلے کے شروع ہونے سے پہلے افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو اور طالبان نے افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا جس کے بعد دوسرے مرحلے یعنی بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

کابل میں افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے لئے ابھی تک کسی ملک کا انتخاب نہیں کیا گیا ہے تاہم اُن کے مطابق افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اس سلسلے میں پہلی ملاقات آئندہ چند دنوں میں قطر میں ہوگی۔

اتوار کو بعض افغان اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے یہ خبر چلائی کہ بین الافغان مذاکرات بھی دوحہ میں ہوں گے جس کے بعد ٹوئٹر پر وضاحت کرتے ہوئے صدیق صدیقی نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات تو نہیں تاہم دونوں فریقوں کے درمیان پہلی ملاقات دوحہ میں ہوگی اور طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغان صدر اشرف غنی نے حال ہی میں کہا تھا کہ طالبان کے مزید دو ہزار قیدی جلد رہا کر دیے جائیں گے۔ افغان حکومت اب تک طالبان کے تین ہزار قیدیوں کو، جو افغانستان کے مختلف جیلوں میں موجود تھے، پہلے ہی رہا کر چکی ہے۔ طالبان نے فروری میں معاہدہ ہونے کے بعد سے ہی اصرار کرنا شروع کر دیا تھا کہ حکومت جلد جز جلد ان کے قیدی چھوڑے تاکہ بین الافغان مذاکرات جلد شروع ہو سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دونوں فریقوں کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پہلی ملاقات دوحہ میں ہوگی

بین الافغان مذاکرات کہاں ہوں گے؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

جب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں تب سے لے کر آج تک طالبان، افغان حکومت اور میڈیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ امن عمل کا یہ دوسرا مرحلہ کس ملک میں ہوگا۔

پاکستان کے علاوہ قطر، جرمنی، ناروے اور کئی دیگر ممالک پہلے ہی دن سے اس کوشش میں ہیں کہ بین الافغان مذاکرات اُن کی سرزمین پر منعقد ہوں لیکن طالبان اور افغان حکومت دونوں کے مطابق ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ یہ مذاکرات کہاں ہوں گے۔

قطر، جس نے لگ بھگ دو سال امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی اور 2013 سے طالبان مذاکراتی ٹیم کی میزبانی کر رہا ہے، کی سب سے زیادہ خواہش ہیں کہ افغان امن عمل کے پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے کے مذاکرات بھی دوحہ ہی میں ہوں۔

بعض طالبان ذرائع کے مطابق اُن کی مذاکراتی ٹیم کی بھی یہی کوشش ہے کہ بین الافغان مذاکرات دوحہ میں ہی ہوجائیں لیکن کابل میں بعض حکومتی ذرائع کے مطابق افغان حکومت قطر میں مذاکرات کرنے کے حق میں نہیں اور وہ اس سلسلے کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کے حق میں ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس کی ایک وجہ ماضی میں طالبان اور افغان وفود کے درمیان ہونے والے ملاقاتوں میں قطر کی حکومت پر طالبان کی حمایت کا الزام بھی ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMOFA

،تصویر کا کیپشن

افغان وزیر خارجہ اور قطری سفارت کار کے درمیان ملاقات

تاہم گذشتہ ہفتے قطر کے وزیر خارجہ کے نمائندہ خصوصی برائے انسداد دہشت گردی مصلحت کار مطلق بن ماجد القحطانی نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد بعض افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے افغان حکومت کا دوحہ ہی میں بین الافغان مذاکرات ہونے کی خبر نشر کی تھی لیکن افغان صدر کے ترجمان نے اس کی تردید کی۔

جرمنی، ناروے، ترکی، پاکستان، چین، ازبکستان اور ترکمانستان سمیت کئی ممالک ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ ان میں کئی ممالک افغانستان کے ہمسایہ ہونے کے ناطے اور کئی افغانستان کی تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کرنے کی وجہ سے ان مذاکرات کی میزبانی میں دلچسی رکھتے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان امن عمل کا یہ دوسرا مرحلہ اس لئے سب سے زیادہ پیچیدہ ہوگا کیونکہ اس میں مستقبل میں افغانستان میں طالبان کے رول، خواتین اور انسانی حقوق سمیت کئی اہم موضوعات پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوگی جبکہ طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان میں جنگ بندی بھی بین الافغان مذاکرات کے ایجنڈے میں ہوگی۔