لداخ: وادی گلوان میں سرحدی جھڑپ میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر چین کا موقف کہ وہ جھڑپ کے لیے ذمہ دار نہیں

चीनी विदेश मंत्रालय के प्रवक्ता झाओ लिजियान

،تصویر کا ذریعہANI

چین نے کہا ہے کہ اسے وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور انڈین فوجیوں نے سرحدی پروٹوکول کی خلاف وزری کی تھی۔

15 جون کی شب لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چین کی جانب سے تاحال جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ ’وادی گلوان پر خودمختاری ہمیشہ سے چین کی ہی رہی ہے۔ انڈین فوجیوں نے سرحدی معاملات پر ہمارے پروٹوکول اور کمانڈرز کی سطح کے مذاکرات پر طے شدہ اتفاقِ رائے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں‘۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ’چین مزید تنازعات نہیں چاہتا‘۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال اب مستحکم اور قابو میں ہے۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر کے مطابق اس معاملے پر 19 جون کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انڈین حکومت کی جانب سے جھڑپ پر پہلا سرکاری بیان بدھ کو وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے دیا۔ انھوں نے کہا کہ 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت پریشان کن اور تکلیف دہ نقصان ہے اور ’قوم سرحد پر مارے جانے والے فوجیوں کی بہادری اور قربانی کبھی فراموش نہیں کرے گی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اس سے قبل چینی فوج کے ایک ترجمان نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان چینگ شویلی کا بیان پی ایل اے کے مصدقہ ویبو اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

اس بیان میں چانگ نے کہا کہ انڈیا سختی کے ساتھ اپنے فوجیوں کو روکے اور تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کے صحیح راستے پر آگے بڑھے۔

چینگ نے کہا: 'انڈین فوجیوں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور پھر سے ایک بار ایل اے سی کو عبور کیا۔ دانستہ طور پر چینی فوجیوں کو اکسایا اور ان پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے مابین آمنے سامنے کا تصادم ہوا اور یہی بات اموات کی وجہ بنی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انڈیا اپنی فوجیوں کو سختی کے ساتھ روکے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سکم کے دارالحکومت سے تقریبا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہند چین سرحد پر یہ ناتھولا گیٹ ہے

منگل کی صبح بتایا گیا تھا کہ پیر کی شب چینی فوج کے ساتھ وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک افسر سمیت تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں تاہم منگل کی شب انڈین فوج نے کہا کہ جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے مزید 17 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں اور ہلاک شدگان کی کل تعداد 20 ہو گئی ہے۔

چین اور انڈیا کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکت کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔

انڈین فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جھڑپ پیر کی شب متنازع وادی گلوان کے علاقے میں ہوئی تھی جہاں فریقین کی افواج کی پسپائی کا عمل جاری تھا۔

اس سے پہلے انڈین فوج کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق اس واقعے کے بعد انڈیا اور چین کے سینیئر فوجی حکام وادی گلوان میں ملاقات کر رہے تھے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

وادی گلوان لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحدی لائن کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔

صورتحال کشیدہ کیوں ہوئی؟

مئی میں بیجنگ میں چین کے سرکاری میڈیا میں کہا گیا تھا کہ 'مغربی سیکٹر کی گلوان وادی میں انڈیا کے ذریعے یکطرفہ اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بدلنے کی کوشش کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے۔'

مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کے نزدیک پانچ اور چھ مئی کو چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی۔

انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی نے انٹیلیجنس ماہرین کے اوپن سورسز ڈیٹریسفا کے حوالے سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ چین پینگوگ جھیل سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بیجنگ میں انڈین سفارتخانے کے باہر پیرا ملٹری پولیس کے دو چینی اہلکار پیٹرول کر رہے ہیں

اس نے چھ اپریل کی ایک سٹیلائٹ تصویر پیش کی ہے اور اس کا مقابلہ 21 مئی کی سیٹلائٹ تصویر سے کیا ہے جس میں واضح فرق دکھایا گیا ہے۔

اس سے قبل انڈیا نے کہا تھا کہ چینی فوج کے کچھ خیمے چین میں وادی گالوان کے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا نے بھی وہاں فوج کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔

اسی کے ساتھ ہی چین کا الزام ہے کہ انڈیا وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔

انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع کیا ہے؟

انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا اور چین کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیشمیں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔

بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔

انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ سنہ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے۔ چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔

مجموعی طور پر چین اروناچل پردیش میں میک موہن لائن کو قبول نہیں کرتا اور اس نے اکسائی چین سے متعلق انڈیا کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔