انڈیا میں ہلاک ہونے والے ہندو خاندان نے پاکستان سے ہجرت کیوں کی تھی؟

  • ناراین باریٹھ
  • بی بی سی ہندی، راجستھان
جودہ پور

انڈیا کی ریاست راجستھان کے ضلع جودھپور میں ایک کھیت سے اتوار کے روز ایک ہی خاندان کے 11 ایسے افراد کی لاشیں ملی تھیں جو سنہ 2015 میں پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا منتقل ہو گئے تھے۔

پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا آباد ہونے والے اس ہندو خاندان کا اب صرف ایک ہی فرد، 37 سالہ کیول رام، ہی زندہ بچا ہے جس سے انڈین پولیس فی الحال تفتیش کر رہی ہے۔

بی بی سی ہندی کے مطابق جائے وقوعہ سے کیڑے مار ادویات ملی ہیں۔ جودھپور کے دیہی علاقے کے پولیس اہلکار راہُل بارہٹ کا کہنا ہے کہ فارنزک معائنے کے ماہرین نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی وجہ خاندان کا ’اندرونی مسئلہ‘ ہو سکتی ہے۔

صحافی علی حسن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کو تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کی بھیل برادری سے تھا۔ ضلع سانگھڑ کے علاقے شہداد پور سے 30 کلومیٹر کے فاصے پر واقع چھوٹے سے گاﺅں تاجن ڈاہری میں کھیٹی باڑی کرنے والے اس خاندان کے یہ افراد سنہ 2015 میں انڈیا منتقل ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس خاندان کا سربراہ بڈھا بھیل تھے جو ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ بڈھا تاجن ڈاہری کی مقامی سیاست میں بھی حصہ لیتے تھے اور وہ عوامی تحریک نامی سیاسی جماعت کے سرگرم رکن تھے۔

پاکستان میں مقیم بڈھا بھیل کے 40 سالہ بھتیجے میوو بھیل کا کہنا ہے کہ بڈھا اپنے خاندان کے لوگوں کو لے کر پہلے شہداد پور گئے، وہاں سے حیدرآباد اور سنہ 2015 میں یہ خاندان ریل گاڑی کے ذریعے انڈیا پہنچ گیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

خاندان کا زندہ بچ جانے والا رکن کیول رام

میوو کا کہنا ہے کہ انھیں علم تھا کہ بڈھا انڈیا جانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہ بات ان کے علم میں نہیں تھی کہ وہ کب ایسا کریں گے۔

پاکستان میں بڈھا بھیل اور ان کے خاندان کے دیگر افراد پروفیسر محمود ڈاہری کی زمین پر ہاری کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ اس علاقے کے رہائشی نواز منگی کہتے ہیں کہ آبپاشی کے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے کھیتی باڑی کا کام بہت کم رہ گیا تھا اور اسی وجہ سے اس گاﺅں میں بسنے والے بہت سے گھرانے دیگر علاقوں میں منتقل ہو گئے تھے۔

فی الوقت تاجن ڈاہری میں صرف چار بھیل خاندان آباد ہیں جبکہ ہندو خاندانوں کے علاوہ بیشتر مسلمان گھرانے بھی یہاں سے منتقل ہو گئے ہیں۔

خود پروفیسر محمود اور ان کے بیٹے حیدر آباد آ کر آباد ہوئے ہیں۔ پروفیسر محمود کے بیٹے حمید اللہ جو حیدرآباد میں وکالت کرتے ہیں بتاتے ہیں کہ پانی کی قلت تو ایک وجہ ہے لیکن ان کے والد ریٹائرمنٹ کے بعد حیدرآباد میں آباد ہو گئے تھے۔ حمید اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد اور دیگر رشتہ داروں کی 45 ایکڑ زمین ہے۔

پروفیسر محمود کہتے ہیں کہ پانی کی قلت ضرور ہے لیکن لوگ کھیتی باڑی تو کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ہاری بڈھا بھیل کے بیٹوں کی سسرال انڈیا میں آباد ہے۔ ’ان کے رشتہ داروں نے انھیں کہا تھا کہ انڈیا آ جاﺅ، خوشحال ہو جاﺅ گے۔‘

انھوں نے کہا کہ بڈھا کے بھائی، بھتیجے اور دیگر رشتہ دار تاجن ڈاہری گاﺅں میں موجود ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کر رہے ہیں۔

خاندان کا ایک فرد زندہ

جودھپور پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کرائے پر کھیت لے کر محنت مزدوری کرتا تھا اور اسی سے اپنا پیٹ پالتا تھا۔

مرنے والوں میں کیول رام کے والدین کے علاوہ ایک بھائی اور تین بہنیں، ایک بیٹی اور دو بیٹے بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں 75 سالہ بُڈھا رام خاندان کے سرپرست تھے۔

متاثرہ خاندان جودھپور میں واقع کھیت میں ہی قائم مکانوں میں رہتا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کیول رام اس لیے زندہ بچ گئے کیونکہ وہ اس رات گھر سے دور جا کر سوئے تھے۔ مقامی افراد کو جیسے ہی اس واقعے کے بارے میں پتا چلا انھوں نے پولسی کو مطلع کیا۔

پولیس اہلکار بارہٹ نے بی بی سی سے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وجہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان سے پناہ کی درخواست لے کر انڈیا آنے والے ہندوؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیمانت لوک کے سربراہ ہندو سنگھ سوڑھا نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ خاندان انڈین شہریت کا مطالبہ بھی کر رہا تھا۔

سوڑھا نے کہا کہ ’یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ پاکستان سے انڈیا آنے والے ہزاروں ہندو اس پر افسردہ ہیں۔ اس وقت کم از کم 20 ہزار پاکستانی ہندو افراد انڈین شہریت کے حصول کی تگ و دو میں ہیں۔ ان میں سے دس ہزار شہریت حاصل کرنے کے لیے طے شدہ شرائط پر پورا بھی اترتے ہیں۔‘

رام چند بھیل ضلع عمر کوٹ میں ایک نجی سکول میں استاد ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف ذاتوں کے ہندو مختلف وجوہات کی وجہ سے انڈیا منتقل ہوئے ہیں۔ وہ کم عمر ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے مذہب تبدیل کروانے اور ان کے ساتھ شادیاں کرنے کو سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔