انڈیا، چین سرحدی کشیدگی اور تجارت: کیا دو بڑے ممالک بیرونی طاقتوں کی ایشیا میں ’پھوٹ ڈالو اور حکمرانی کرو‘ کی پالیسی کو ناکام بنا پائیں گے؟

  • زبیر احمد
  • بی بی سی نیوز، دہلی

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے رواں برس اپریل میں پہلی بار ’خود کفالت‘ کا نعرہ بلند کرنے اور اس سے اگلے ہی مہینے، یعنی مئی میں، چین کی سرحد کے ساتھ شروع ہونے والی کشیدگی کے باوجود گذشتہ تین مہینوں کے درمیان انڈیا اور چین کی دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔

سرحد پر پُرتشدد محاذ آرائی اور اس کے نتیجے میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ انڈین فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد سے انڈین حکومت نے چینی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جن میں چین سے ٹی وی اور موبائل فون کی درآمدات پر پابندی لگانا بھی شامل ہے۔

لیکن چین کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کے اثرات آئندہ تین ماہ تک ہی سامنے آ سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم میں بہت تیزی سے کمی واقع ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

دہلی کے فور سکول آف مینیجمینٹ (ایف او آر ای) سے وابستہ چینی امور کے ماہر ڈاکٹر فیصل احمد کہتے ہیں کہ ’یہ (چین کے خلاف پابندی) سرحدی کشیدگی پر ناراضگی ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی تجارت میں عدم توازن کو کم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’چین کے ساتھ منفی دو طرفہ تجارتی توازن انڈیا کے لیے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت ہند علاقائی جامع معاشی شراکت داری (آر سی ای پی) تنظیم سے الگ رہنے پر مجبور ہو گئی ہے کیونکہ اس سے چین کی درآمدات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

گذشتہ برسوں کی طرح سنہ 2019 میں بھی دو طرفہ تجارتی توازن مکمل طور پر چین کے حق میں تھا۔ تقریبا 100 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت میں چین کا حصہ لگ بھگ دو تہائی تھا۔

تجارت میں توازن

انڈیا کے ان اقدامات کی وجہ سے چین کے ساتھ باہمی تجارت کو متوازن کرنے میں انڈیا کے حق میں معمولی بہتری آئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف جنوری سے جون تک چین سے درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے تو دوسری طرف انڈیا سے چین بھیجے جانے والے سامان یعنی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

اپریل میں انڈیا نے چین کو تقریبا دو ارب ڈالر مالیت کی اشیا فروخت کیں جو جولائی میں بڑھ کر تقریبا 4.5 ارب ڈالر ہو گئیں۔ رواں سال جنوری سے جون کے درمیان انڈین برآمدات میں 6.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

چین نے دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین شش ماہی رپورٹ کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال جنوری سے جون کے دوران انڈیا کے لیے چینی درآمدات میں 24.7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن اگر ہم اپریل سے جولائی تک درآمدات پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ اس میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی درآمدات اپریل میں 3.2 ارب ڈالر تھیں جو جولائی میں بڑھ کر 5.6 ارب ڈالر ہو گئیں۔

چینی درآمدات میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی دو اہم وجوہات ہیں: لاک ڈاؤن کے دوران درآمدت اور برآمدات رکی رہی ہیں اور دونوں ممالک یعنی چین اور انڈیا کی معیشت لاک ڈاؤن پابندیوں کی وجہ سے سکڑ گئی ہے۔

بین الاقوامی تجارت پر وائرس کا اثر بُری طرح محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ انڈین بندرگاہوں پر چینی سامان کی کلیئرنس میں تاخیر بھی ایک وجہ بتائی جاتی ہے۔

معاشی ماہر وویک کول کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما اور تاجر عوامی سطح پر جو بھی رویہ اپنائے ہوئے ہوں جب حقیقی کاروبار کی بات کی جائے تو وہ وہی کر رہے ہیں جو اُن کے مفاد میں ہے۔

انڈیا کے تاجروں اور کارپوریٹس کو لگتا ہے کہ چین کے ساتھ کاروبار کرنا ٹھیک ہے اس لیے وہ کاروبار کر رہے ہیں۔ لیکن اگر انڈیا کی جانب سے محصول (ٹیکس) بڑھتا ہے تو کیا وہ اس صورت میں بھی چین کے ساتھ کاروبار کریں گے؟ یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔

بہرحال چین کی سیچوان یونیورسٹی میں سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے پروفیسر ہوانگ یانگ سونگ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وبائی بیماری کے باوجود معیشت کی اپنی ایک رفتار ہے۔

ان کے خیال میں وبا کی وجہ سے تجارت میں کمی آئی ہے لیکن یہ وقتی بات ہے۔ انھوں نے کہا ’اعداد و شمار یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ ایشیا کے دو طاقتور ممالک کی معیشتوں کو الگ کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ یہ اکیسویں صدی کی ضرورت ہے۔‘

انڈیا کی برآمدات میں اضافہ

گذشتہ تین ماہ میں انڈین برآمدات میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل وجہ چین کو خام لوہا تیزی سے برآمد کرنا ہے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

چینی محصول کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جون تک انڈیا سے خام لوہے کی کھیپ دو کروڑ ٹن ہو گئی ہے۔ سنہ 2019 کے پورے 12 مہینوں میں یہ صرف 80 لاکھ ٹن تھی۔

چین اپنی معیشت کو بحال کرنے کے لیے سٹیل کی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے جس کے لیے اسے انڈیا کے خام لوہے کی ضرورت ہے اور وہ یہ سامان انڈیا کے علاوہ آسٹریلیا سے بھی درآمد کر رہا ہے۔

تقریبا 60 چینی ایپس پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ انڈیا کی حکومت نے 15 جون کو گلوان تصادم کے بعد سے چینی سامان کی درآمد کو کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں۔

انڈیا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے غیر ملکی تجارت (ڈی جی ایف ٹی) نے دو ہفتے قبل مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے رنگین ٹیلی ویژن سیٹوں کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

ڈی جی ایف ٹی نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا ’رنگین ٹی وی کی درآمد مفت سے محدود کے زمرے میں کر دی گئی ہے۔‘

کسی چیز کو درآمدات کے محدود زمرے میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کی درآمد کے لیے وزارت تجارت کے ڈی جی ایف ٹی محکمے سے لائسنس لینا ہو گا۔

کیا چین پر انحصار کم ہو گا؟

چین سے تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد سے انڈین حکومت نے خود انحصاری پر زور دینا شروع کیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ کوشش چینی برآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

دہلی میں چینی سامان کے ایک تاجر دیپک چوپڑا سوال کرتے ہیں کہ چینی رنگین ٹی وی پر پابندی لگانے سے خود کفالت کہاں سے آئے گی؟

ان کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ پانچ برسوں سے ہائی اینڈ چینی ٹی وی استعمال کر رہے ہیں جسے انھوں نے 40 ہزار روپے میں خریدا جبکہ اسی معیار کا سونی یا ایل جی ٹی وی ایک لاکھ روپے میں آئے گا۔

چوپڑا کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا ’نقصان صرف صارفین کو ہو گا۔‘

ڈاکٹر فیصل احمد کہتے ہیں کہ خود انحصاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ممالک کے مابین انحصار ختم ہو جائے۔

پروفیسر ہوانگ بھی انڈیا میں چینی سامان کی آمد روکنے کی کوششوں کو دونوں ممالک کے مفاد کے منافی کہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کبھی بھی چین یا انڈیا کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ بیرونی طاقتیں ایشیا کے دو بڑے ممالک میں 'پھوٹ ڈالو اور حکمرانی کرو‘ کی حکمت عملی استعمال کر رہی ہیں۔ چینیوں کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہے کہ انڈیا ان طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔'

’دنیا کا ہر ملک اپنی مصنوعات کی لاگت کو کم کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ممالک درآمدات اور برآمدات پر پوری طرح انحصار نہیں کرتے ہیں۔ ہر ملک کم لاگت پیداوار اور ویلیو چین پر فوکس کر کے مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اور انھیں ایسا کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے مالی مفاد میں ہے۔‘

کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہتا، لہذا یہ ضروری ہے کہ چین اور مشرقی ایشیائی ممالک یعنی آسیان ممالک سمیت انڈیا کے تمام تجارتی شراکت داروں کو سمجھنا چاہیے کہ خود انحصاری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کا معاشی انحصار ختم ہو جائے گا۔

ڈاکٹر فیصل احمد کا خیال ہے کہ سرحدی اختلافات معاشی اور کاروباری تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تین ماہ بعد اس کا صحیح اندازہ ہو گا۔

چین کو ان کا مشورہ تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ چین اپنے جیو پولیٹیکل عزائم پر کنٹرول کرنے کے لیے آگے بڑھے اور میک ان انڈیا کے ساتھ میڈ ان چائنا 2025 کے پروگراموں میں سب کی جیت کی والی صورت پیدا کرنے میں مدد کرے۔‘