چین کی اویغور برادری: اویغور ماڈل کو ’کورونا بچاؤ مرکز‘ میں رکھا گیا ہے، سنکیانگ حکومت کا دعویٰ

  • جون سڈورتھ
  • بی بی سی نیوز
اویغور

چین کی اویغور برادری سے تعلق رکھنے والے فیشن ماڈل، جنھوں نے چین کے صوبے سنکیانگ کے حراستی مرکز میں اپنی ویڈیو بنائی تھی جس میں انھیں لوہے کے بستر کے ساتھ ہتھکڑی لگے دیکھا جا سکتا ہے، کی حراست کا دفاع کرتے ہوئے چینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں سنکیانگ کے ’وبا سے بچاؤ کے مرکز‘ میں قانون کے مطابق قید کیا گیا ہے۔

مردن گھاپر نامی اس اویغور ماڈل نے چین کے صوبے سنکیانگ کے حراستی مرکز سے فروری میں اپنی ایک ویڈیو اور چند ٹیکسٹ مسیجز اپنے خاندان کو بھیجے تھے جو بی بی سی کو بھی موصول ہوئے اور انھیں رواں ماہ شائع کیا گیا تھا۔

ان پیغامات نے چین کے صوبے سنکیانگ کے حراستی مراکز کے بارے میں غیرمعمولی تفصیلات سے آگاہی دی تھی۔

اپنے بیان میں گھاپر نے بتایا تھا کہ انھیں 18 روز تک 50 دیگر افراد کے ساتھ سر پر بوری ڈال کر اور بیڑیوں میں باندھ کر ایک انتہائی تنگ جیل میں رکھا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھیں کورونا وبا سے بچاؤ کے ایک مرکز میں الگ تھلگ رکھا گیا جہاں انھوں نے اپنی ویڈیو بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہWU ZI YANG AGENCY

،تصویر کا کیپشن

مردن گھاپر نے سنکیانگ آرٹس یونیورسٹی سے ڈانس کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ رواں برس جنوری میں 31 سالہ مردن گھاپر کو چین کے شہر فوشان سے، جہاں وہ منشیات فروخت کرنے کے الزام میں 16 ماہ قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد زندگی گزار رہے تھے، زبردستی سنکیانگ منتقل کیا گیا تھا۔

بی بی سی کی جانب سے اس معاملے پر چینی حکام کو دو ہفتے سے زائد عرصے سے بھیجے گئے سوالات پر سنکیانگ حکومت کے پریس دفتر کی جانب سے ایک تحریری بیان کی صورت میں ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 'عوامی جمہوریہ چین کے جیل قانون کے آرٹیکل 37 کے مطابق حکومت رہائی پانے والے قیدیوں کو دوبارہ آباد کرنے میں مدد کرے گی۔'

اس میں مزید کہا گیا کہ 'مردن گھاپر نے منتقلی کے دوران خود کو نقصان پہنچانے کے عمل کے ساتھ ساتھ پولیس کے خلاف بھی بدسلوکی کی جس پر پولیس نے انھیں روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی اور ان کا مزاج بہتر ہونے کے بعد ان پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔'

مردن نے چینی شہر فوشان میں برسوں بتائے جہاں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کے مطابق انھوں نے ملبوسات کی ماڈلنگ کر کے اچھے پیسے بھی کمائے۔

رواں برس 15 جنوری کو گھاپر کو چینی حکام کی جانب سے فوشان سے سنکیانگ میں ان کے آبائی شہر کچا لے جایا گیا تھا۔

ہم نے چینی حکومت کا بیان مردن گھاپر کے چچا عبدالحکیم گھاپر کو دکھایا جو سنہ 2011 میں سنکیانگ چھوڑنے کے بعد اب نیدرلینڈز میں مقیم ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ 'اگر پولیس انھیں نوکری یا کسی اور کام کے لیے دوبارہ آباد کرنے میں مدد کرنا چاہتی تو انھیں ان کی مدد فوشان میں کرنی چاہیے تھے کیونکہ وہ وہاں پر کام کر رہے تھے اور ان کا وہاں گھر بھی تھا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'انھیں زبردستی کچا نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔'

انھوں نے کہا کہ 'جب گھاپر کو جنوری میں لے جایا گیا تھا تب خاندان سے اس کو دوبارہ آباد کرنے کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔'

بی بی سی نے ایسے ثبوت بھی دیکھے جن میں حکام کا یہ کہنا تھا کہ '(گھاپر) کو اپنی مقامی برادری میں چند دن تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔'

مردن گھاپر کے اہلخانہ کا خیال ہے کہ 'تعلیم و تربیت' چینی حکام کی جانب سے حراستی مراکز میں بند کیے جانے کا دوسرا نام ہے۔

ایک اندازے کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران دس لاکھ سے زیادہ چینی اویغور اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو چین نے جبری طور پر سنکیانگ صوبے کے سرکاری حراستی مراکز میں مقید رکھا ہے۔

چین ان کو ’انسداد شدت پسندی کی تربیت کے رضاکارانہ سکول‘ قرار دیتا ہے۔

ہزاروں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر دیا گیا ہے جبکہ حالیہ تحقیق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ان مراکز میں موجود خواتین کو جبری طور پر مانع حمل کے طریقے اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

حکومتی بیان میں گھاپر کی جانب سے بدسلوکی کے الزامات کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

گھاپر نے الزام لگایا تھا کہ انھیں بیڑیوں میں جکڑنے کے ساتھ ساتھ ان کے سر پر بوری ڈالی گئی تھی اور انھیں جیل کے دیگر حصوں سے تشدد کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

انھوں نے اپنے ایک پیغام میں لکھا تھا کہ 'ایک مرتبہ میں نے صبح سے شام تک کسی شخص کو چلاتے سنا تھا۔'

نہ ہی حکومتی بیان میں گھاپر کی جانب سے بنائی جانے والی ویڈیو کے متعلق کچھ کہا گیا ہے جس میں وہ کورونا وبا سے بچاؤ کے ایک مرکز میں تنہا گندے کپڑوں میں بیٹھے ہیں اور ان کی دائیں کلائی کو ہتھکڑی کے ذریعے ایک لوہے کے بستر کے ساتھ باندھا گیا تھا ۔

اس کے برعکس حکومتی بیان میں ان کے پرتشدد رویے اور خود کو نقصان پہنچانے کے باعث ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو درست اور قانون کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔

چینی حکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ' جب وبا سے بچاؤ کے مرکز کے عملے نے ان کے جسم کا درجہ حرارت چیک کرنے کی کوشش کی تو گھاپر نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور انھیں زبانی طور پر بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ مار پیٹ بھی کی۔'

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'چونکہ اس طرز عمل سے ان پر جرم کا ارتکاب کرنے کا شبہ ہے لہذا پولیس نے ان پر جبری پابندیاں عائد کی ہیں اور ان کا کیس اب بھی جاری ہے۔'

سنکیانگ میں چین کی پالیسیوں کے ماہر جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جیمز ملورڈ نے مردن گھاپر کے پیغامات کا ترجمہ اور تجزیہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا: ' یہ دلچسپ بات ہے کہ سنکیانگ حکومت کے ردعمل میں کچا کے مقامی پولیس سٹیشن کے حالات کی وضاحت پر کوئی بھی بات نہیں کی گئی ہے۔ جہاں بہت زیادہ قیدیوں کو ایک ساتھ رکھنا، مار پیٹ کرنا، غیر محفوظ نقاصی آب کے صورتحال کے ساتھ ساتھ ، کھانے کے آٹھ برتنوں میں 50-60 افراد کو کھانا کھلانا شامل ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے قطع نظر کہ مردن کو کچا میں حراست میں کیوں رکھا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے اس صورتحال کے متعلق بتانا اور خصوصاً کورونا کے وبا کے دوران ایسے حالات بہت پریشان کن ہیں۔'

ڈیرن بائلر کولوراڈو یونیورسٹی ، بولڈر میں ایک ماہر بشریات ہیں جنھوں نے اویغوروں کے بارے میں وسیع پیمانے پر تحریر اور تحقیق کی ہے کا چینی حکام کے بیان کا مسودہ دیکھنے کے بعد کہنا تھا کہ 'چین کے ریاستی حکام کی جانب سے یہ بیان ایک طرح کی الزام تراشی کی عکاسی کرتا ہے جو وہاں کی پولیس اکثر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پکڑے جانے پر لگاتی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'سنہ 2017 میں جب سے دوبارہ تعلیم کی مہم کا آغاز ہوا ہے قیدیوں کو اپنی حراست کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ انھیں اچھا رویہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تشدد اور مار پیٹ کے خوف کے پیش نظر اپنا جرم قبول کرنے کا کہا جاتا ہے۔'

چینی حکومت کے بیان میں اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ کیسے مردن گھاپر سنکیانگ کے انتہائی حساس اور خفیہ حراستی مرکز سے باہر ہتھکڑی میں بیڈ سے بندھے ہوئے کی اپنی ویڈیو بنا کر بھیجنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

مردن کے اہلخانہ نے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جب وبا سے بچاؤ کے مرکز میں انھیں ان کے استعمال کی چند چیزیں مہیا کی گئی تو وہ گارڈ سے چھپا کر اپنا فون واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

اس چار منٹ 38 سیکنڈ کی ویڈیو میں ہی ان کے اہلخانہ نے انھیں آخری مرتبہ دیکھا تھا۔

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ میں چین سے تعلق رکھنے والی ایک اعلیٰ محقق مایا وانگ نے مجھے بتایا کہ 'چینی پولیس کی تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ سنکیانگ کے مسلمانوں پر بھی مظالم کر رہے ہیں۔ اگر دونوں باتوں کا موازنہ کیا جائے تو میرا نہیں خیال کہ حکام کی جانب سے مردن گھاپر پر وضاحتی بیان پر اثر ہے۔ اگر چینی حکومت کے پاس کچھ چھپانے کو نہیں ہے تو وہ اقوام متحدہ سمیت آزاد مبصرین کو سنکیانگ کے بلا روک ٹوک دورے کی اجازت دے۔'

اس حکومتی بیان میں بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے ہیں جیسا کہ مردن گھاپر پر کیا الزام ہے؟ کیا انھیں بیڑیاں اور سر پر بوری ڈال کر رکھا گیا؟ کیا ان کے چچا عبدالحکیم جو خود کو چین میں اشتہاری اور مطلوب قرار دیتے ہوئے اس کی وجہ پرامن تحریک بتاتے ہیں پر کیا کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے؟

جہاں تک مردن گھاپر کے اہلخانہ کا تعلق ہے تو ان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں گھاپر کو زیر حراست رکھنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

مردن گھاپر کی جانب سے مارچ کے اوائل میں چند دن کے رابطے کے بعد ہی ان کی پیغامات ملنا بند ہو گئے تھے۔

ان کے چچا کا کہنا ہے کہ 'میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں وہ خود کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، میرے خیال میں چین نے اسے نقصان پہنچایا ہے اور جو کچھ انھوں نے اس کے ساتھ کیا ہے اب وہ اس کا بہانہ تلاش کر رہے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'برائے مہربانی مجھے دکھاؤ کہ وہ زندہ اور ٹھیک ہے وگرنہ میں اس بیان کے ایک لفظ پر بھی یقین نہیں کرتا۔'