انڈیا، نیپال تعلقات: دونوں ممالک کی اکثریتی آبادی کا ہندو ہونا باہمی تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

  • رجنیش کمار
  • بی بی سی ہندی
انڈیا نیپال

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES

انڈیا اور نیپال دنیا کے دو ایسے ممالک ہیں جن کی اکثریتی آبادی ہندو ہے اور دونوں ممالک میں نہ صرف مذہبی بلکہ ثقافتی یکسانیت بھی ہے۔ اگر ہم ہندی اور نیپالی زبان پر بھی نگاہ ڈالیں تو رسم الخط نہ صرف دیو ناگری ہی ہے بلکہ الفاظ بھی ایک جیسے ہیں۔ جو بھی ہندی جانتا ہے یا پڑھتا ہے وہ تھوڑا بہت نیپالی بھی پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ نیپال اور انڈیا کے مابین ’بیٹی روٹی‘ کا رشتہ ہے۔ نیپال کی سرحد انڈیا کے ساتھ تین اطراف سے جڑی ہوئی ہے اور ایک طرف یہ تبت سے منسلک ہے۔

ان تمام تر مذہبی اور ثقافتی رشتوں کے باوجود نیپال اورانڈیا کے تعلقات آج کل ٹھیک نہیں ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے گذشتہ دورِ حکومت میں نیپال کے تین دورے کیے۔ مودی کا نیپال کا تیسرا دورہ مئی 2018 میں ہوا تھا۔ تیسرے دورے میں، مودی نے نیپال کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے مذہبی راستہ استعمال کیا تھا اور اس دورے کے دوران مودی براہ راست جنک پور اور پھر مکتی ناتھ گئے تھے، یہ دونوں مقامات ہندو مذہب میں کافی اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہVladimir Gerdo

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مودی نے نیپال کے اپنے گذشتہ دورے میں پشوپتی ناتھ مندر کا بھی دورہ کیا تھا۔ یہ واضح ہے کہ جب مودی نیپال کے مندروں میں جائیں گے تو ان کے ذہن میں دونوں ممالک میں یکساں مذہبی شناخت کی ہی بات ہو گی۔

اس کے باوجود مودی کے دور حکومت میں نیپال کے ساتھ تعلقات تاریخی طور پر کئی معاملات میں خراب ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال اور دیگر بہت سارے مسائل کا جواب جاننے کے لیے بی بی سی ہندی نے نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ گیوالی سے بات کی ہے۔

دونوں ممالک کی اکثریتی آبادی کا ہندو ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟

اس سوال پر پردیپ گیوالی کہتے ہیں ’انڈیا اور نیپال میں کئی سطحوں پر مساوات ہے۔ ثقافتی مساوات دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے سب سے اہم کڑی ہے۔ دونوں ممالک ایک شاندار تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک متمول روایت ہے۔ انڈیا اور نیپال دونوں کے لیے آیور وید، یوگا ایک جیسے ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ثقافت لوگوں کے مابین باہمی تعلقات کو تقویت بخشتی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے ’نیپال اور انڈیا کے تعلقات میں کبھی کبھار اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن ثقافتی تعلقات کی جڑیں بہت گہری ہیں لہذا دونوں ممالک کے عوام کے مابین تعلقات گرم جوش ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ثقافت اور مذہب کو ملایا نہیں جا سکتا۔ مذہب اور ثقافت دونوں کے مختلف پہلو ہیں اور مذہب ذاتی عقیدے کا معاملہ ہے۔ یہ بالکل نجی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مذہب کو نہ تو ملک کے اندرونی معاملات میں لانا چاہیے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک سے تعلقات کے دوران۔ انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ نیپال سیکولر ریاست بنے۔‘

،تصویر کا ذریعہPRAKASH MATHEMA

سنہ 2008 میں جب ایک طویل احتجاج کے بعد نیپال میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو جمہوریت قائم ہوئی اور آئین سازی کا عمل شروع ہوا۔ ستمبر 2015 میں نیپال نے اپنا نیا آئین نافذ کیا اور نیپال کے سیکولر ریاست ہونے کا اعلان کیا گیا۔ یہ اس وقت ہوا جب انڈیا میں نریندر مودی کو ہندوتوا نظریاتی پارٹی کا پوسٹر بوائے سمجھا جاتا تھا۔

26 مئی 2006 کو اس وقت کے بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’نیپال کی اصل شناخت ہندو قوم کی ہے اور اس شناخت کو مٹانا نہیں چاہیے۔ بی جے پی خوش نہیں ہو گی کہ ماؤ نوازوں کے دباؤ میں نیپال اپنی اصل شناخت کھو بیٹھے۔‘

بادشاہت کے دوران نیپال ہندو قوم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ نیپال اس وقت دنیا کا واحد ہندو ملک تھا۔

انڈیا نیپال سرحدی تنازع

انڈیا کا سرحدی تنازع اب تک چین اور پاکستان کے ساتھ تھا۔ سرحدی تنازع پر ان ممالک کے درمیان جنگیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن مودی حکومت کے دور میں نیپال کے ساتھ بھی سرحدی تنازع سامنے آیا۔

رواں برس آٹھ مئی کو انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دھرچُلا سے چین کے سرحد لیپو لیکھ تک جانے والی سڑک کا افتتاح کیا تھا۔ نیپال کا دعویٰ ہے کہ سڑک اس کے علاقے سے ہو کر گزری ہے۔

ابھی یہ علاقہ انڈیا کے کنٹرول میں ہے۔ اس سے قبل گذشتہ سال نومبر میں انڈیا نے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد اپنے سیاسی نقشے کو اپ ڈیٹ کیا تھا، جس میں لیپو لیکھ اور کالا پانی بھی شامل تھے۔ نیپال نے اس پر سخت اعتراض کیا اور اس کے جواب میں اپنا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا۔

نیپال نے لیپو لیکھ اور کالاپانی کو نیپال کا حصہ دکھایا۔ نیپال کے وزیر دفاع ایشور پوکھریل نے رائزنگ نیپال کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ نیپال آرمی ضرورت پڑنے پر لڑنے کے لیے بھی تیار ہے۔

کالا پانی میں انڈو تبت سرحد پر پولیس بھی تعینات ہے۔ اس سارے تنازع پر انڈین آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے کہا تھا کہ نیپال چین کی شہ پر فرضی دعویٰ کر رہا ہے۔

پاکستان کی طرح کا سرحدی تنازع

جس طرح پاکستان یہ کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے ، کیا نیپال کو اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ کالا پانی اور لیپو لیکھ تنازع حل کیے بغیر نیپال اور انڈیا کے تعلقات صحیح نہیں ہوں گے؟

،تصویر کا ذریعہAFP Contributor

اس پر نیپال کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے ’نیپال اور انڈیا کے مابین سرحدی تنازع کو حل کرنا ضروری ہے اور جب تک یہ حل نہیں ہوتا ہے یہ مسئلہ پریشان کرتا رہے گا۔ اس حل کے بغیر تعلقات میں اعتماد پیدا نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کے حل طلب سوالات جو ہمیں وراثت میں ملے ہیں ان کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہو گا۔‘

نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع کتنا سنگین ہے؟

انڈیا چین سے سرحدی تنازع پر بات کر رہا ہے۔

15 جون کو مشرقی لداخ میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اب بھی چینی فوجی ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) کے ان علاقوں میں ہیں، جن پر انڈیا نے اعتراض کیا تھا۔

لیکن انڈیا کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے بارے میں دونوں ممالک میں بات چیت ہوئی ہے۔ نیپال کا کہنا ہے کہ انڈیا سرحدی تنازع پر پاکستان اور چین کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے، تو وہ نیپال کے ساتھ کیوں ہچکچا رہا ہے؟

کیا انڈیا نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے؟ نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ گیوالی کا خیال ہے کہ انڈیا اس اہم مسئلے کو نظرانداز کر رہا ہے، جبکہ نیپال کے لیے یہ نظر انداز کرنے والا مسئلہ نہیں ہے۔

پردیپ گیوالی کا کہنا ہے ’نیپال ایک طویل عرصے سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے نہیں معلوم کہ انڈیا اس معاملے پر کیوں حساس نہیں ہے اور اس کو نظرانداز کر رہا ہے۔‘

انڈیا نے حکومت گرانے کی کوشش کی

نیپال کی کے پی شرما اولی حکومت انڈیا اور نیپال میں تناؤ کے درمیان بحران کی زد میں آ گئی ہے۔ حکمران نیپالی کمیونسٹ پارٹی کے دو سینیئر قائدین پشپ کمال دہل پراچنڈا اور وزیر اعظم اولی کے مابین تنازع اس قدر بڑھ گیا کہ وزیر اعظم نے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی کہا گیا تھا کہ اولی اپنی کم ہوئی مقبولیت کو چھپانے کے لیے انڈیا مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔ ان تنازعات کے درمیان وزیر اعظم اولی نے الزام لگایا تھا کہ انھیں دہلی اور کھٹمنڈو میں انڈیا کے سفارت خانے میں وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹانے کی سازش جاری ہے؟ کیا اولی کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کی سازش میں واقعتاً انڈیا کا ہاتھ تھا؟

نیپال کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے ’مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم اولی انڈیا سے آنے والی خبروں کی کوریج کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ جس طرح کی خبروں کی کوریج ہو رہی تھی وہ بہت ہی ذلت آمیز تھی۔ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات یا وہاں کی حکومت میں فوری بحران جیسے معاملات کیسے ہو سکتے ہیں؟ جس طرح کی بات کی جا رہی تھی وہ بہت قابل اعتراض تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دوسرے ممالک یا وہاں کے نام نہاد دانشوروں کا میڈیا فیصلہ نہیں کرے گا کہ نیپال کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی اور ہم کس کے ساتھ تعلقات رکھیں گے۔ کوئی دوسرا یا تیسرا ملک نیپال کی خارجہ پالیسی کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔‘

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

نیپال نے انڈیا کو بلیک میل کیا؟

نیپال کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جب بات نیپال اور انڈیا تعلقات میں دوستی یا تلخی کی ہو تو چین کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ نیپال انڈیا کے چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے اور ایک طرف یہ تبت سے ملتا ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ تبت اب چین کے کنٹرول میں ہے۔ اس لحاظ سے نیپال ایک لینڈ لاک ملک ہے۔ ماضی میں نیپال کو بھی ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا جب انڈیا کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے۔ اس طرح کی ناکہ بندی نیپال میں ایک انسانی بحران پیدا کرتی ہے کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء اور ضروری سامان بھی ملنا مشکل ہوتا ہے۔

ایسی صورتحال میں نیپال چاہتا ہے کہ وہ انڈیا پر انحصار نہ کرے۔ اس کے لیے چین سے بھی نقل و حمل کی سہولت کو آسان بنانا ضروری ہے۔ نیپال اور چین نے بھی پچھلے کئی برسوں میں اسے بہتر کیا ہے۔ دوسری طرف انڈیا اور چین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

ایسی صورتحال میں انڈیا کو لگتا ہے کہ نیپال اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت اس کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ نیپال چین کے لیے ایک بہت چھوٹا اور غریب ملک ہے۔ اس کے باوجود چین دو طرفہ تعلقات میں نیپال کو بہت ترجیح دیتا ہے۔

انڈیا کو لگتا ہے کہ یہ توجہ اس کے خلاف ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں، چینی صدر شی جن پنگ انڈیا کے دورے پر گئے تو انھوں نے نیپال کا بھی دورہ کیا۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ نیپال انڈیا کو بلیک میل کرنے کے لیے چین کا استعمال کرتا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ نیپال ایک لینڈ لاک ملک ہے اور انڈیا اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ دونوں میں کتنی حقیقت ہے؟

پردیپ گیوالی کا کہنا ہے کہ ’یہ حقیقت ہے کہ نیپال ایک لینڈ لاک ملک ہے اور ایسے ملکوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایسے ممالک میں نقل و حمل مہنگا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پیداواری لاگت زیادہ ہے۔ ایسے ممالک کو عالمی منڈی کے مسابقت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے راہداری کی سہولت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے۔ یہ ایک لینڈ لاک ملک کا حق بھی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہم اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔ ہم ایک ملک پر بھی انحصار نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہم باہمی انحصار کے حق میں ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نیپال کی راہداری کی سہولت کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم یہ سہولت انڈیا کے توسط سے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اب چین کے ساتھ ٹرانزٹ سہولت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔یہ نیپال کی قومی ضرورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH

کیا نیپال انڈین فوج سے گورکھاؤں کو واپس بلائے گا

15 مئی کو انڈیا کے آرمی چیف نے ایک آن لائن سیمینار میں کہا کہ ’لیپو لیکھ پاس پر سڑک کی تعمیر پر نیپال کا اعتراض کسی اور کے اشارے پر تھا۔ اس کی کافی وجوہات ہیں، جن سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نیپال کسی اور کے اکسانے پر اعتراض کر رہا ہے۔ واضح ہے کہ ان کا اشارہ چین کی جانب تھا۔‘

انڈیا کے آرمی چیف کے اس بیان پر نیپال میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے پارلیمنٹ میں انڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا انھوں نے نیپال میں کووِڈ 19 کے لیے بھی انڈیا کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

تاریخی طور پر نیپالی گورکھاؤں کی انڈین فوج میں اہمیت دی ہے۔

اس کے علاوہ سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ میں گورکھاؤں کا اہم کردار تھا۔ ایسی صورتحال میں نیپال کے وزیر دفاع ایشور پوکھریل نے 25 مئی کو جنرل نروانے کے بیان کی سخت مخالفت کی تھی اور کہا تھا ’نیپالی گورکھا انڈین آرمی چیف جنرل نروانے کے بیان سے افسردہ ہیں۔ انڈیا کے لیے گورکھوں کو قربان کرنے کی ایک پرانی روایت ہے۔ فی الحال انڈین فوج میں 40 گورکھا رجمنٹس ہیں جو بنیادی طور پر نیپالی فوج کے ہیں۔

انڈین فوج میں گورکھوں کی شمولیت سنہ 1816 میں اینگلو نیپالی جنگ کے بعد سگاولی معاہدے سے منسلک ہے۔ اس وقت انڈیا انگریزوں کا غلام تھا اور گورکھوں نے برطانوی حکمرانی کو سخت چیلنج کیا تھا۔

اگرچہ اینگلو نیپالی جنگ میں گورکھوں کو شکست ہوئی تھی لیکن انھوں نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا تھا۔ انگریزوں نے محسوس کیا کہ گورکھا بہت بہادر ہیں اور آخری سانس تک بہادری سے لڑتے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد انڈین فوج میں گورکھا رجمنٹ شروع ہوئی تھی۔

پردیپ گوالی کا کہنا ہے 'گورکھا کا مسئلہ دونوں ممالک کے مابین ایک حساس مسئلہ ہے۔'ہم اس مسئلے پر تفصیل سے بیان کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دونوں ممالک میں مشترکہ ثقافت ہے اور جس کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین بہت سے پیچیدہ امور ہیں اس کے بارے میں تنازعات موجود ہیں لیکن بات چیت کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

مودی حکومت اور نیپال

اگر انڈیا میں 2014 میں اقتدار میں تبدیلی آرہی تھی اور نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت اکثریت کے ساتھ آئی تھی تو امید کی جارہی تھی کہ نیپال کے ساتھ اس کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

اپنے پہلے دور حکومت میں مودی نے نیپال کے تین دورے کیے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ لیکن غیر اعلانیہ ناکہ بندی نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد 2015 میں شروع ہوئی۔

اس کی وجہ سے نیپال کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور تعلقات پٹڑی سے اتر گئے۔ اپریل 2015 میں نیپال میں ایک تباہ کن زلزلہ آیا تھا اور کچھ ہی مہینوں بعد اس پر ناکہ بندی شروع ہوگئی تھی۔

نیپال کے لیے یہ ایک مشکل دور رہا ہے زلزلے کے دوران انڈیا کی مدد کے بارے میں گو بیک انڈیا نے ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع کر دیا تھا۔

چین اور انڈیا کی دشمنی اور نیپال سے دوستی

انڈیا اور چین سرحد پر بہت کشیدگی ہے۔ 31 اگست کو انڈین فوج نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مشرقی لداخ میں چینی فوجیوں کو انڈین فوجیوں نے اس وقت پیچھے دھکیل دیا جب وہ 30 اگست کی رات کو سرحد پر حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس معاملے میں، نیپال پر یہ سوالات اٹھنے لگے کہ ایک طرف ملک کے گورکھ انڈیا کی سرحد کی حفاظت کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہاں کی حکومت چین کے ساتھ دوستی بڑھا رہی ہے۔ نیپال کے بارے میں بھی شکایت تھی کہ اس نے کوئی سخت بیان جاری نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

پردیپ گیوالی اس شکایت کے بارے میں کہتے ہیں ’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ہر تنازع کو باہمی بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے اور یہ اس علاقے کے امن و استحکام کے مفاد میں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہم کسی بھی طرح کا تصادم نہیں چاہتے۔ نیپال چاہتا ہے کہ اس کے دو ہمسایہ ممالک چین اور انڈیا ایک ساتھ رہیں اور یہ بھی نیپال کے مفاد میں ہے۔‘ وادی گلوان میں انڈیا اور چینی فوج کے مابین تصادم کے بعد نیپال نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔

انڈیا کا تعصب

وہ لوگ جو نیپال اور انڈیا کے تعلقات کو قریب سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ انڈیا اور بیشتر انڈین نیپال کو ایک خود مختار ملک کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔ نیپال کی سیاست پر بہت سی کتابیں لکھنے والے آنند روپ ورما کا بھی خیال ہے کہ انڈیا کی سیاست میں نیپال کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔

نیپال کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’نیپال اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ ، عالمی مساوات کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بہت سے معاملات میں ایک ملک دوسرے ممالک سے کم ہو۔‘

’یہ معاشی سطح پر ہو سکتا ہے، یہ سائز کی سطح پر ہو سکتا ہے لیکن خودمختاری سب کے لیے ایک ہے اور ہر ایک کو اپنی خود مختاری کے لیے کام کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کا ایک ہی حق حاصل ہے۔ نیپال کی خارجہ پالیسی میں خود مختاری کا احترام اور مساوات کا رشتہ سب سے اہم ہے۔‘