نریندر مودی: انڈین وزیرِ اعظم سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد بحال

مودی، ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہReuters

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ذاتی ویب سائٹ کے لیے بنایا گیا ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا، تاہم اب یہ بحال ہو چکا ہے۔

ہیکنگ کے بعد اس اکاؤنٹ کے ذریعے متعدد ٹویٹس کی گئیں اور لوگوں سے ایک امدادی فنڈ میں ’کرپٹو کرنسی‘ عطیہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

ٹوئٹر نے بیان میں کہا ہے کہ یہ معاملہ اُن کے علم میں ہے اور انھوں نے اس اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔

یہ ٹوئٹر پر بااثر اکاؤنٹس کی ہیکنگ کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ اس سے قبل جولائی میں امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور مائیکرو سافٹ کے بانی بِل گیٹس سمیت دیگر شخصیات کے اکاؤنٹس ہیک کیے گئے تھے اور ان کے ذریعے بھی کرپٹوکرنسی کے متعلق ایک جعلی سکیم کی تفصیلات پوسٹ کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTWITTER

انڈیا کے وزیرِ اعظم سے منسلک جو اکاؤنٹ ہیک کیا گیا وہ ان کی ذاتی ویب سائٹ کا تصدیق شدہ ٹوئٹر ہینڈل ہے اور اس کے 25 لاکھ فالوورز ہیں۔

نریندر مودی کا ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ اس حملے کے دوران محفوظ رہا، اس اکاؤنٹ کے چھ کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

ٹوئٹر کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو ای میل کے ذریعے دیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ ’ہم اس صورتحال کی فوری تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں مزید اکاؤنٹس کے متاثر ہونے سے متعلق معلوم نہیں ہے۔‘

اکاؤنٹ سے کی جانے والی متعدد ٹویٹس کو اب ہٹا دیا گیا ہے جن میں وزیرِ اعظم کے ریلیف فنڈ میں کرپٹوکرنسی عطیہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

بااثر شخصیات کے اکاؤنٹس پر حملے

دو ماہ سے بھی کم عرصہ قبل ٹوئٹر کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ معروف شخصیات کے اکاؤنٹس پر کیے جانے والے ایک بڑے سائبر حملے کے ذریعے 130 اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان 130 اکاؤنٹس میں سے ’انتہائی کم‘ اکاؤنٹس کا مکمل کنٹرول حملہ آور کے پاس آیا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس سائبر حملے کے نتیجے میں سابق امریکی صدر باراک اوباما، ایلون مسک، کانیے ویسٹ، اور بل گیٹس کے اکاؤنٹس کے ذریعے ایک بٹ کوائن کی جعلی سکیم کروڑوں فالوورز تک پہنچایا گیا تھا۔ اس حوالے سے تحقیقات کے لیے ایف بی آئی کی مدد بھی مانگی گئی تھی۔

اس سائبر حملہ نے سیلیبرٹی اکاؤنٹس جیسا کہ کم کارڈیشیئن ویسٹ کے علاوہ بڑی کمپنیوں کے اکاؤنٹس جیسے ایپل اور اوبر کو بھی متاثر کیا۔

حملہ آوروں کو اکاؤنٹس کی سکیورٹی بائی پاس کرنے کا موقع اس لیے ملا کیوںکہ انھوں نے ٹوئٹر کے اندرونی ایڈمنسٹریشن ٹولز تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

ٹوئٹر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حملے کے بعد سے ہم نے اپنے اندرونی ٹولز اور سسٹمز تک رسائی محدود کر دی ہے تاکہ اکاؤنٹ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس دوران ہم اپنی تحقیقات بھی مکمل کر لیں۔‘

حالانکہ یہ زیادہ تر افراد کے لیے ایک عام فہم بات تھی کہ یہ ایک جعلی سکیم ہے لیکن پھر بھی ہیکرز کو اس کے ذریعے ہزاروں افراد نے کرپٹوکرنسی ٹرانسفر کی جس کی مالیت تقریباً ایک لاکھ ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

کرپٹوکرنسیز کو ٹریس کرنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے کہ اور ہیکرز کی جانب سے جس اکاؤنٹ کی تفصیلات دی گئی تھیں اسے فوراً ہی خالی کر لیا گیا تھا۔