ایران: مظاہروں میں گرفتار کیے جانے والوں پر سخت تشدد

ایران

،تصویر کا ذریعہReuters

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایرانی سکیورٹی حکام نے ان افراد کے خلاف ’بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیاں کی ہیں‘ جنھوں نے ملک میں گذشتہ نومبر کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

ایمنسٹی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق درجنوں مرد اور خواتین نے انھیں بتایا کہ حکام کی جانب سے اُن پر تشدد کیا گیا، کوڑے مارے گئے، بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور کئی نے دعویٰ کیا کہ اُن کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی گئی تاکہ وہ جھوٹی گواہیاں دیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق سات ہزار سے زیادہ افراد کو، جس میں دس سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں، حراست میں لیا گیا جبکہ زیر حراست کئی افراد کی موت بھی واقع ہو گئی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایران کی جانب سے اس رپورٹ پر اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن ماضی میں وہ اس نوعیت کی رپورٹس کو ہمیشہ غلط قرار دیتے رہے ہیں۔

نومبر میں ہونے والے احتجاج شروع ہونے کی وجہ ایرانی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ تھا۔

اس فیصلے پر حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سلسلے میں 304 افراد کے معاملے پر دستاویزی ثبوت جمع کیے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی حکام نے انھیں پانچ دن میں قتل کیا۔

ایران کے وزیر داخلہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 225 سے کم ہے۔

ایرانی حکام نے مزید کہا کہ سات ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا لیکن میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

'ایران، انسانیت کی پامالی' کے نام سے جاری کی گئی ایمنسٹی کی رپورٹ 60 افراد جن کی گرفتاری ہوئی تھی اور وہ 14 افراد جو حکومتی اقدامات کے عینی شاہد تھے کی گواہیوں پر مبنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

گرفتار ہونے والے افراد کی گواہیوں میں کہا گیا ہے کہ ان کو باقاعدگی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا تاکہ وہ 'اپنے جرائم کا اعتراف کر سکیں' جو کہ نہ صرف ان مظاہروں کے حوالے سے ہوں بلکہ وہ یہ بھی تسلیم کریں کہ ان کا تعلق مخالف جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور غیر ملکی میڈیا اور غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ہے۔

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گرفتار افراد پر تشدد کرنے کے لیے 'واٹر بورڈنگ، مار پیٹ، کوڑے، بجلی کے جھٹکے، ناخن اکھاڑنا، تنہائی میں قید رکھنا جیسے طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا۔'

ایک شخص نے جسے بجلی کے جھٹکے لگائے گئے تھے، کہا: 'مجھے ایسا لگا کہ میرے پورے جسم میں لاکھوں سوئیاں چبھوئی جا رہی ہیں۔ میں نے جواب دینے سے انکار کیا تو وہ بجلی کے جھٹکوں کی قوت بڑھا دیتے تھے۔۔۔ اس تشدد سے میری ذہنی اور جسمانی صحت پر شدید اثر پڑا ہے۔'

ایک شخص نے بتایا کہ اسے ایک کھمبے سے ہاتھوں اور پیر کے بل لٹکا دیا گیا تھا اور اس پر تشدد کرنے والے اسے 'چکن کباب' کے نام سے پکارتے تھے۔

'یہ ناقابل برداشت درد تھا۔ میرے جسم پر اتنا دباؤ اور اتنا درد تھا کہ میں خود پر پیشاب کر دیتا تھا۔ میرے خاندان کو معلوم ہے کہ مجھ پر تشدد ہوا ہے، لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ کیسے ہوا ہے۔'

ایمنسٹی نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد پر بند کمروں میں غیرمنصفانہ مقدمات چلائے گئے اور ان میں شامل ججز بھی جانبدار تھے جنھوں نے تشدد کی مدد سے حاصل کیے گئے اعترافی بیانات کو استعمال کرتے ہوئے فیصلے سنائے اور ان افراد کو قید کی سزا دی اور کئی کو موت کی سزا سنائی۔