لداخ سے گلگت بہہ کر آنے والی خاتون کون ہیں؟ ’انڈیا پاکستان کے صاب میری بیٹی کی لاش میرے حوالے کر دیں‘

  • فرحت جاوید
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
جنازہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/Sher Ali

’انڈیا کے صاب اور پاکستان کے صاب میری بیٹی کی لاش میرے حوالے کر دیں، ہمارا پھول ہمارے ہاتھوں میں دے دو، بس یہ مہربانی کرو۔‘

یہ درخواست ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے خِیرالنسا کے بوڑھے والدین نے ریکارڈ کرائی اور انڈیا کے زیرانتظام علاقے لداخ کی مشہور لوک گلوکارہ شیریں فاطمہ بلتی نے اسے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر شیئر کیا۔

30 برس کی خیرالنسا کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام علاقے لداخ کے سرحدی گاؤں بیوگانگ سے ہے مگر ان کے لاش پیر کی صبح گلگت بلتستان میں سرحد کے قریب تھونگموس نامی مقام سے ملی۔

ان کی لاش ملنے سے قبل ہی خیرالنسا کی تلاش جاری تھی اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے ان کی تصویر کے ساتھ ایک اشتہار لداخ کے ان سرحدی دیہات میں بھیجا جا رہا تھا۔ ان کی موت کی اصل وجوہات معلوم نہیں اور ذرائع کے مطابق مقامی پولیس تحقیق کر رہی ہے کہ آیا خیرالنسا کی موت خودکشی ہے، حادثہ ہے یا قتل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم ان کی لاش فی الحال سکردو کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے سرد خانے میں موجود ہے اور حکام کے مطابق ان کی میت کو انڈیا اس وقت بھیجا جائے گا جب انڈیا کی جانب سے درخواست موصول ہو گی۔

دوسری جانب میت کی انڈیا حوالگی کے لیے طویل راستے اور طویل تر قواعد و ضوابط کے خلاف ایک بار آواز بلند ہو رہی ہے اور سرحد کی دونوں ہی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دونوں سرحدوں کے درمیان محض دس کلومیٹر کا یہ راستہ ہی کیوں نہیں کھول دیا جاتا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی کئی بار دریائے شیوک میں بہہ کر آنے والی لاشیں پاکستان کے ان علاقوں سے ملتی رہی ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

تھنگ سے فرآونو کا فاصلہ صرف 10 کلومیٹر ہے

شیوک بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’موت‘ ہیں اور اسے یہاں کا خطرناک ترین دریا سمجھا جاتا ہے۔

اس دریا میں ہر سال جہاں حادثات کا شکار ہو کر لوگ ہلاک ہوتے ہیں وہیں اس دریا میں خودکشی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض اوقات یہ دریا انڈیا کے زیرانتظام علاقوں سے لاشیں اپنے ساتھ بہا لاتا ہے۔

دریا کے ساتھ آنے والی ان لاشوں کی تدفین عام طور پر بلتستان کے ان سرحدی علاقوں میں کر دی جاتی ہے۔ یہ تدفین ’امانتاً‘ کی جاتی ہے تاکہ کسی موقع پر ورثا میت کا مطالبہ کریں تو انھیں واپس پہنچائی جا سکے۔ مگر کسی میت کی سرحد کی دوسری جانب موجود لواحقین کو حوالگی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

خیرالنسا کے لواحقین نے لداخ کے کمشنر کو ایک خط کے ذریعے درخواست کی ہے کہ ان کی لاش پاکستان سے براستہ فرانو ان تک پہنچائی جائے تاکہ ان کی تدفین جلد از جلد کی جا سکے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سرحد پر موجود فوجی اہلکار لاش کی حوالگی میں مدد کریں۔

لیکن ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ کئی دہائیاں پہلے محض دس کلومیٹر کا یہ فاصلہ ہزاروں میل کی مسافت میں بدل گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/Sherine Fatima Balti

ڈپٹی کمشنر گھانچے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’خاتون کی میت کو واہگہ بارڈر کے ذریعے ہی انڈیا بھیجا جائے گا تاہم فی الحال انھیں ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے ان خاتون کی لاش اس وقت ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاقے میں موجود کراسنگ نہایت قریب ہے مگر 1971 کی جنگ کے بعد یہاں سے آمدورفت پر پابندی کے وجہ سے ہمیشہ واہگہ کا راستہ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

سنہ 1971 میں کیا ہوا تھا؟

جب دسمبر 1971 میں انڈیا اور پاکستان اپنی تیسری جنگ لڑ رہے تھے تو انڈیا نے بلتستان کے بعض دیہات پر قبضہ کیا جن میں چلونکھا، تیاکشی، تھانگ اور ترتوک نامی گاؤں بھی شامل ہیں۔ اس طرح ایک نئی سرحد وجود میں آ گئی اور وہ خاندان جو سنہ 1947 کے بعد جدا ہوئے تھے، ان میں سینکڑوں نئے خاندان بھی شامل ہو گئے۔

کئی دہائیوں، خاص طور پر 1971 کی جنگ کے بعد سرحد کے دونوں جانب موجود خاندان دونوں ملکوں کی حکومتوں سے ان علاقوں میں موجود خپلو (پاکستان) اور ترتوک (انڈیا) روڈ اور کارگل، سکردو روڈ کھولنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دونوں جانب موجود قوم پرست طبقہ وقتا فوقتاً احتجاجی مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں جبکہ سنہ 1971 کے بعد جدا ہونے والے خاندانوں کے زندہ بچ جانے والے افراد بھی اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے دفتروں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق پہلے تو دونوں ملکوں کی حکومتیں ویزا ہی نہیں دیتیں اور اگر خوش قسمتی سے ویزا مل جائے تو سکردو سے لاہور کا سفر کرنا پڑتا ہے اور وہاں سے بذریعہ واہگہ بارڈر انڈیا جاتے ہیں۔

وہاں مزید کاغذی کارروائی اور این او سی لیا جاتا ہے تاکہ سرحدی علاقے لداخ پہنچ سکیں اور یوں یہ سفر جو راستہ کھلنے کی صورت میں چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے اب کئی دنوں پر محیط ہے۔

کچھ یہی حال لداخ سے پاکستان آنے والوں کا بھی ہوتا ہے۔ یہ راستہ کھلنے سے ان خاندانوں کے لیے ممکن ہو سکے گا کہ وہ اپنے اہلخانہ سے مل سکیں۔

یہ سفر کتنا طویل ہے؟

ڈسٹرکٹ گھانچے کے ڈپٹی کمشنر نے خاتون کی میت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد کی بندش کے باعث جو راستہ بند ہے وہ تقریباً دس کلومیٹر ہے لیکن پاکستان کی جانب سے آخری گاؤں یعنی فرانو سکردو سے تقریباً 168 کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔

سکردو سے لاہور کا زمینی فاصلہ تقریباً 984 کلومیٹر ہے، لاہور سے واہگہ بارڈر تک 28 کلومیٹر کے سفر کے بعد امرتسر داخل ہوتے ہیں اور امرتسر سے لداخ کے صدر مقام لیہہ تک یہ فاصلہ 898 کلومیٹر ہے۔

،تصویر کا کیپشن

شیوک بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’موت‘ ہیں اور اسے یہاں کا خطرناک ترین دریا سمجھا جاتا ہے

جبکہ لیہہ سے سکردو کے اس پار واقع گاؤں تھانگ کا فاصلہ 213 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یوں صرف دس کلومیٹر کے سفر کے بجائے یہاں بسنے والے کئی دہائیوں سے دو ہزار 291 کلومیٹر کے سفر کے لیے ویزا ملنے کی تگ و دو میں مگن ہیں۔

ان میں سے ہزاروں سرحد پار جانے کی آرزو دل میں لیے دنیا سے چل بسے تو کبھی موت کے دریا میں بہتی لاش صرف اس لیے امانتاً دفن کر دی جاتی ہے کہ ایک دن جب دس کلومیٹر کا راستہ کھلا تو وہ اپنی مٹی میں دفن ہو سکیں گے۔