انڈیا کی بڑی کمپنی ٹاٹا انڈین پارلیمان کی نئی عمارت تعمیر کرے گی

انڈین پارلیمان کی عمارت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈین پارلیمان کی موجودہ عمارت سو سال پرانی ہے

انڈیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک نے ملک کی پارلیمان کی نئی عمارت تعمیر کرنے کا ٹھیکہ جیت لیا ہے۔

ٹاٹا پروجیکٹس قومی دارالحکومت دلی کے وسط میں 117 ملین ڈالر مہنگی عمارت تعمیر کرے گا۔ نئی عمارت نو آبادیاتی دور سے قائم پارلیمان کی جگہ لے گی اور توقع ہے کہ اس کی تعمیر 2022 تک مکمل ہو جائے گی جب انڈیا آزادی کے 75 سال منائے گا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ پیسہ کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کے لیے خرچ کرنا چاہیے۔

انڈیا میں اب تک پچاس لاکھ سے زیادہ کورونا کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اب تک اس وائرس سے 80 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے لیے ایک نئی عمارت کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ عمارت 1920 کی دہائی کی ہے اور عمارت میں ’زیادہ استعمال اور نقصان‘ کے آثار دکھا دے رہے ہیں۔ جبکہ ارکان پارلیمان اور پارلیمان کے عملے میں بھی اضافہ ہونے کی باعث مزید جگہ کی ضرورت ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق نئی عمارت جو موجودہ عمارت سے بڑی ہو گی اس میں چودہ سو ممبران پارلیمان بیٹھ سکیں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس نئی عمارت کا ڈھانچہ سہ رخی ہو گا اور یہ تین منزلہ ہو گی۔ یہ دلی میں نوآبادیاتی دور کی پرانی سرکاری عمارتوں کو جدید بنانے کے 2.7 بلین ڈالر کے حکومتی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

تاہم یہ منصوبہ تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور ناقدین نے اس منصوبے کی جمالیات اور اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پارلیمان کی نئی عمارت کا مطالبہ تقریباً پچھلی ایک دہائی سے کیا جا رہا ہے اور پارلیمان کے متعدد سپیکرز نے نئی عمارت کی ضرورت کی حمایت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اطلاعات کے مطابق اس نئی عمارت کا ڈھانچہ سہ رخی ہو گا اور یہ تین منزلہ ہو گی۔ یہ دلی میں نوآبادیاتی دور کی پرانی سرکاری عمارتوں کو جدید بنانے کے 2.7 بلین ڈالر کے حکومتی منصوبے کا ایک حصہ ہے

برطانوی معمار ہربرٹ بیکر نے پارلیمان کی موجودہ دائرہ نما عمارت کی تعمیر کو ایک بڑے گنبد والے ہال کے ساتھ 1927 میں مکمل کروایا تھا۔

مورخ دینار پٹیل نے لکھا ہے کہ عمارت کے مکمل ہونے کے بعد اس کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک معروف برطانوی سیاسی شخصیت فلپ ساسون نے ایک بار کہا تھا کہ یہ عمارت 'گیسومیٹر (گیس کا زخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے گول حوض) کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ جو یہ ہے!'

یہاں تک کہ بیکر نے اپنی عمارت کے نقائص کو خود بھی تسلیم کیا۔

ڈاکٹر پٹیل نے لکھا 'مرکزی ہال کے اوپر اٹھنے والا گنبد 'جیک ان دا باکس' کی طرح تھا جو کونسل ہاؤس کے اوپر دکھائی دینے کی ناکام جدوجہد کرتا تھا۔