شاہین باغ کی ’دادی بلقیس‘ مودی کے ساتھ دنیا کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل

نریندر مودی، بلقیس

،تصویر کا ذریعہTime/ANI

امریکہ کے مقبول جریدے ٹائم نے دنیا کے 100 بااثر افراد کی فہرست جاری کی ہے جس میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ چند دیگر ا1نڈین نام بھی شامل ہیں۔

گوگل کے سی ای او سندر پیچائی، اداکار آیوشمان کھرانا، ایچ آئی وی پر ریسرچ کرنے والے سائنسدان پروفیسر رویندر گپتا اور انڈیا کے متنازع شہریتی ترمیمی قانون کے خلاف دلی کے شاہین باغ میں ہونے والے مظاہروں کا چہرہ بن کر سامنے آنے والی 82 سالہ خاتون بلقیس بانو کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔

ٹائم میگزین نے وزیر اعظم مودی کو فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کے بارے میں مختصراً جو کچھ لکھا ہے، اس بارے میں ان کے حامیوں کی جانب سے تلخ رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

جریدے نے لکھا ہے: 'جمہوریت کے لیے بنیادی بات محض آزادانہ انتخابات نہیں ہیں۔ انتخابات محض یہی طے کرتے ہیں کہ کسے سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ لیکن اس سے زیادہ اہمیت ان لوگوں کے حقوق کی ہے، جنھوں نے جیتنے والوں کو ووٹ نہیں دیا۔ انڈیا گذشتہ سات دہائیوں سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر برقرار ہے۔ یہاں 1.3 ارب آبادی میں مسیحی، مسلمان، سکھ، بودھ، جین اور دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ سب انڈیا میں رہتے ہیں، جس کی دلائی لاما ہم آہنگی اور استحکام کی مثال کے طور پر تعریف کرتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

جریدے نے لکھا ہے کہ 'نریندر مودی نے ان تمام باتوں کو تشویش کے دائرے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ حالانکہ انڈیا کے اب تک کے تقریباً سبھی وزیر اعظم ہندو برادری سے آئے ہیں جو کہ آبادی کا 80 فیصد ہیں، لیکن مودی اکیلے ہیں جنھوں نے ایسے حکومت چلائی جیسے انھیں کسی اور کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ ان کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکمران اشرافیہ کے علاوہ تکثیریت کو بھی مسترد کیا، خاص طور پر مسلمانوں کو ہدف بنا کر۔ وبا ان کے لیے مخالف آوازوں کا گلا گھونٹنے کا بہانہ بن گئی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مزید تاریکی کی گہرائیوں میں چلی گئی۔'

نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے بیرون ممالک کے اخباروں اور جریدوں نے انھیں کئی بار صفحہ اول پر جگہ دی ہے۔ ان کے کام کرنے کے طریقے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

ٹائم نے گذشتہ برس بھی عام انتخابات سے قبل انھیں اپنے کور پیج پر جگہ دی تھی جس پر خاصہ تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

تب ٹائم نے اپنے جریدے کے کور پر مودی کو ’انڈیاز ڈیوائڈر ان چیف‘ (انڈیا کو سب سے زیادہ تقسیم کرنے والا شخص) لکھ کر پیش کیا تھا۔

ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ’کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی کو مزید پانچ برس برداشت کر سکتی ہے؟‘

اس وقت بی جے پی نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ مواد عام لوگوں کی نظر میں وزیر اعظم مودی کا تشخص خراب کرنے کی ایک کوشش ہے۔ پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے تب کہا تھا کہ 2014 میں بھی متعدد غیر ملکی جریدوں نے مودی پر تنقید کرنے والا مواد شائع کیا تھا۔

2015 میں مئی کے مہینے میں بھی ٹائم نے وزیرِ اعظم مودی پر کور سٹوری کی تھی اور تب اس کا عنوان تھا ’وائے مودی میٹرز‘ (مودی کیوں اہم ہیں)۔

،تصویر کا ذریعہTime

بلقیس بانو

شہریت کے متنازع قانون یعنی سی اے اے کے خلاف دلی کے شاہین باغ کے علاقے میں ہونے والے مظاہروں کا مقبول چہرہ بننے والی 82 سالہ بلقیس بانو کو بھی ٹائم میگزین نے دنیا کے 100 سب سے بااثر افرد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بلقیس بانو ’شاہین باغ کی دادی‘ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ شاہین باغ میں سی اے اے کو واپس لیے جانے کے مطالبے کے ساتھ تقریباً 100 روز تک شدید سرد موسم میں جاری رہنے والے مظاہروں میں شامل رہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلقیس بانو ریاست اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کی رہنے والی ہیں۔ ان کے شوہر کا تقریباً 10 برس قبل انتقال ہو گیا تھا۔ وہ کھیتی اور مزدوری کرتے تھے۔ بلقیس بانو فی الحال دلی میں اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتی ہیں۔

ٹائم میگزین نے بلقیس بانو کے لیے لکھا ہے کہ ’وہ انڈیا میں دیوار سے لگا دیے گئے لوگوں کی آواز بنیں۔‘ وہ کئی بار مظاہرے میں صبح آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک شامل رہتی تھیں۔ ان کے ساتھ ان مظاہروں میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین موجود ہوا کرتی تھیں اور خواتین کے اس مظاہرے میں شامل ہونے کو ’مزاحمت کی علامت‘ کے طور پر دیکھا گیا۔

جریدے نے لکھا ہے کہ بلقیس بانو نے سماجی کارکنان اور خاص طور پر سیاستدانوں کو جنھیں جیل میں ڈال دیا گیا، مسلسل امید بندھائی اور یہ پیغام دیا کی ’جمہوریت کو بچائے رکھنا کتنا ضروری ہے۔‘

شاہین باغ مظاہروں کے دوران ایک بار انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ ’سی اے اے پر ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘ اور اس کے جواب میں بلقیس بانو نے کہا تھا ’اگر وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ وہ ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے تو میں کہتی ہوں کہ ہم ایک بال کے برابر بھی نہیں ہٹیں گے۔‘

آیوشمان کھرانا

ٹائم میگزین کی 100 بااثر افراد کی فہرست میں بالی وڈ اداکار آیوشمان کھرانا بھی شامل ہیں۔

انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاوٴنٹس پر لکھا: ’ٹائم میگزین کی دنیا کے 100 بااثر لوگوں کی فہرست میں شامل ہو کر فخر کا احساس ہو رہا ہے۔‘

ٹائم میں آیوشمان کھرانا کے بارے میں اداکارہ دیپیکا پادوکون نے تعارف لکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

دیپیکا نے لکھا ’میں آیوشمان کھرانا کو ان کی پہلی فلم وکی ڈونر سے جانتی ہوں۔ بے شک وہ اس سے قبل بھی مختلف طریقوں سے بالی وڈ سے وابستہ رہے ہیں، لیکن آج اگر ہم اور آپ ان کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس کی وجہ ہے ان کی وہ یادگار فلمیں اور ان کے دم دار کردار۔ جہاں زیادہ تر اداکار طاقت اور مردانگی کے گھسے پٹے کرداروں میں پھنسے رہے، وہیں آیوشمان نے اس تصور کو توڑتے ہوئے کئی مشکل کردار ادا کیے اور وہ بھی کامیابی کے ساتھ۔‘