انڈیا میں زرعی اصلاحات اور کسانوں کا احتجاج: بی جے پی کی مجوزہ زرعی اصلاحات ’کسان دوست‘ ہیں تو احتجاج کیوں؟

انڈیا کے کسانوں کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں تین متنازع قوانین کسانوں کے لیے بڑی تبدیلی لے کر آئے ہیں اور ان کی وجہ سے ملک کی پارلیمان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان پر شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں اور دیہات کی سڑکوں پر آ گیا ہے۔

ملک کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اتوار کو حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے قوانین کے دو مسودوں کو منظور کروا لیا۔

یہ قوانین صدر سے توثیق کے بعد ملک میں لاگو ہو جائیں گے۔ پارلیمان سے منظوری کے بعد صدر کی توثیق صرف ایک رسمی سی چیز رہ جاتی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ حکومتی جماعت نے پارلیمانی قواعد و ضوبط کی خلاف ورزری کرتے ہوئے ان قوانین کو منظور کروایا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پارلیمان میں پیش کیے جانے سے قبل ان مسودہ قوانین کو متعلقہ کمیٹیوں میں بحث کے لیے بھیجنے کے جائز مطالبے کو بھی حکومتی بینچوں نے نظر انداز کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

پارلیمان میں ان قوانین پر حزب اختلاف کے احتجاج کی وجہ سے اس کے آٹھ اراکین کی رکنیت بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی جو پارلیمان کی عمارت کے باہر پیر کی رات سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

ان قوانین پر ملک میں منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ ان سے قوانین سے جو اصلاحات کی جا رہی ہے وہ زراعت کے شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی۔ دوسری طرف ملک کی حزب اختلاف نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔

ملک میں کسانوں کی تنظیمیں بھی ان پر احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ’غیر منصفانہ‘ ہیں اور ان سے کسانوں کا استحصال ہو گا۔ قانونی اصلاحات کے حامی معاشی ماہرین نے جزوی طور پر ان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے اور اس سے متوقع نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان قوانین میں آخر کیا تجویز کیا گیا ہے؟

مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہیں جو ملک میں طویل عرصے سے رائج ہے اور جس کا مقصد کسانوں کو آزاد منڈیوں سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔

پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں ’کانٹریٹک فارمنگ‘ کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا ہوں گی جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی۔

سب سے بڑی تبدیلی یہ آئے گی کہ کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں گے۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں۔

اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے کچھ قواعد اور اصول ہیں اور جس میں ذاتی اور کارروباری تعلقات کا بھی بہت عمل دخل ہے۔۔

نئی اصلاحات کہنے کی حد تک تو کسانوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہیں کہ وہ روایتی منڈیوں سے ہٹ کر بھی اپنی پیداوار فروخت کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پنجاب کے کسان سب سے زیادہ احتجاج کر رہے ہیں

پھر مسئلہ کیا ہے؟

ابھی تک واضح نہیں کہ اس پر حقیقی طور پر کس طرح عمل ہو گا۔ انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں اب بھی کسان اپنی پیداوار نجی خریداروں کو فروخت کر سکتے ہیں لیکن یہ قوانین اس کو قومی سطح پر لے جائیں گے۔

کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

انڈیا کی ریاست پنجاب کے ایک کسان ملتان سنگھ رانا نے بی بی سی پنجابی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں خدشہ یہ ہے کہ ابتدا میں کسانوں کو اپنی اجناس نجی خریداروں کو فروخت کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور چند برس میں منڈی ختم ہو جائیں گی جس کے بعد کسان ان نجی خریداروں اور کاروباری اداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور وہ جو چاہیں گے وہ قیمتیں لگائیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ منڈیوں کا نظام جاری رہے گا اور وہ کم از کم امدادی قیمت جسے (ایم ایس پی) بھی کہا جاتا ہے اسے ختم نہیں کیا جا رہا۔ لیکن کسان اس پر یقین نہیں رکھتے۔

ایک کسان سکھ دیو سنگھ کوکری نے بی بی سی پنجابی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ چھوٹے اور درمیانی سطح کے کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ہے ۔ اس کا مقصد بڑی کارپوریشن کو زراعت اور منڈیاں حوالے کرنا ہے جس سے کسان ختم ہو جائیں گے۔ وہ ہماری زمین چھیننا چاہتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔'

پنجاب اور ہریانا میں سب سے زیادہ احتجاج ہو رہا ہے جہاں منڈیوں کا نظام کافی مستحکم ہے اور زرعی پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں صرف حکومت ہی پیداوار طے شدہ قیمتوں پر خرید سکتی ہے۔

ایک معاشی ماہر اجیت رنادے کا کہنا ہے کہ کسان کو منڈیوں سے آزاد کرنا ایک اچھا اقدام ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ منڈیوں کے نظام کو بھی نئے نظام کے ساتھ برقرار رکھا جائے اور شاید حکومت کو ایک ایسا قانون بنانا ہو گا جس سے یہ یقین دلایا جائے کہ ایم ایس پی کو ختم نہ کیا جائے گا۔

دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نجی کارروبار کو اجارہ داری قائم کرنے سے روکا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاسی تنازع کیوں چھڑ گیا؟

کسان سیاسی جماعتوں کے لیے ووٹوں کے اعتبار سے ہمیشہ بڑے اہم رہیں ہیں۔

اس تنازع کی ایک وجہ وہ طریقہ کار بھی ہے جس کو اختیار کر کے سرکاری جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان قوانین کو پارلیمان سے منظور کروایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے قوانین پر بحث کو دوسرے دن تک لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ وہ اسے مزید غور و حوض کے لیے متعلق کمیٹی کو بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔

پارلیمان میں جب ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تو حزب اختلاف کے ارکان سپیکر کے سٹیج کے آگے جمع ہو گئے۔ انھوں نے اپنے مائیک توڑ دیے، کاغذات پھاڑ دیے اور اس دوران نائب چیئرمین نے ان قوانین پر رائے شماری کرا دی۔

حزب اختلاف کے احتجاج کے باوجود نائب چیئرمن نے ایوان کی رائے زبانی ہی حاصل کی اور اراکین کی رائے ان کے ہاتھ کھڑے کروا کر حاصل کرنے سے گریز کیا۔

زبانی رائے شماری کے بارے میں حزب اختلاف کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف جلد بازی میں کرائی گئی بلکہ وہ واضح بھی نہیں تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ تعین کرنا کہ بی جے پی کے پاس ایوان میں اتنے ووٹ تھے کہ وہ ان قوانین کو منظور کروا سکے صرف زبانی ووٹ کے ذریعے بہت مشکل تھا۔

نکل انعامدار، بی بی سی نیوز، ممبئی

کم پیداوار، بٹی ہوئی زمینوں، ذخیرے کے لیے مناسب گوداموں کا نہ ہونا اور کسانوں کا قرضوں میں مقروض ہونا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن سے ایک عرصے سے ملک کا زرعی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔

انڈیا کا زرعی شعبہ جس سے ملک کی نصف آبادی کا روزگار وابستہ ہے ایک عرصے سے اصلاحات کے انتظار میں ہے۔ لیکن حکومت کے متنازع قوانین سے کسانوں کے مسائل حل ہونے والے نہیں۔ ان کا مقصد بڑے کارروباریوں کے لیے ملک کے زرعی شعبے میں گنجائش پیدا کرنا ہے۔

ایک رائے یہ ہے کہ تازہ اصلاحات سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہو گا، سرمایہ کاری بڑھائے گی، ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

ان اصلاحات سے کسان اور صارفین کے درمیان آڑھت سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ لیکن ان اصلاحات کی وجہ سے ریاستی حکومتوں کے محصولات زر میں بھی کمی واقع ہو گی۔

یہ طبقہ اس احتجاج میں سب سے آگے ہے۔ لہذا مفاد پرست عناصر بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔

لیکن ایک رائے اور بھی ہے۔

زرعی شعبے کے ماہر دروندر شرما کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے تجربے سے سامنے آیا ہے کہ جہاں بھی زرعی شعبے میں بڑی کارپوریشنز کا عمل دخل بڑھایا گیا ہے اس کے منفی اثرات ہی ہوئے ہیں اور زرعی پیداوار سے آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسانوں کو بے رحم نجی کارروباری حضرات پر چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی بکری کو بھیڑیوں کے آگے ڈال دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں زرعی شعبے سے اس قدر بڑی تعداد میں لوگوں کا روز گار وابستہ ہے تو یہاں کسانوں کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مناسب نہیں ہو گا۔