بابری مسجد انہدام کیس میں عدالتی فیصلے کے انڈیا میں ہندو، مسلم ہم آہنگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

  • نیاز فاروقی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا کی سپریم کورٹ نے گذشتہ برس نومبر میں اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد منہدم کرنا ایک مجرمانہ فعل تھا۔

لیکن دوسری جانب بابری مسجد انہدام کیس میں انڈیا کے شہر لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے 30 ستمبر کو اس کیس کے تمام ملزموں کو بری کر دیا ہے۔

خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ 28 برس قبل بابری مسجد کا انہدام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا اور اس میں نامزد ملزمان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے لہذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

یہ انڈیا کی ہندو مسلمان مشترکہ تاریخ میں ایک ایسا مرحلہ ہے جب ماہرین کے خیال میں ملک اپنی سیکولر حکمت عملی سے ہٹ کر تیزی سے ہندوتوا کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مذہب کی بنیاد پر شدت پسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن کو سیاسی رہنماؤں نے لگام کسنے کے بجائے نظرانداز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملک میں مسلمانوں كے خلاف نفرت انگیز بیانیہ عام بات ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پارلیمان میں بھی مسلم نمائندگی ملکی تاریخ میں کم ترین سطح پر ہے۔ جبکہ حکومت شہریت کا ایک ایسا قانون لانا چاہتی ہے جسے ماہرین ’غیرآئینی ‘اور ’مسلمانوں سے تعصب پر مبنی‘ قرار دیتے ہیں۔

’گیتا پریس اینڈ دی میکنگ آف ہندو انڈیا‘ کے مصننف اکشے مکل موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ عام طور پر امید کا ساتھ نہیں چھوڑتے لیکن ان کے لیے یہ فیصلہ افسوس ناک ہے۔

’یہ فیصلہ مسلمانوں کو پوری طرح سے ہار کا احساس دے گا۔ اور آخر وہ کس سہارے، کس بھروسے رہیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اکشے مکل کہتے ہیں کہ ’اس بات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ہم بہت تیزی سے ایسے حالات کی طرف گامزن ہیں۔‘

انڈیا کے مسلمان اس بات پر ذہنی طور پر سمجھوتا کر چکے تھے کہ ایودھیا میں مسجد کو دوبارہ بنانے کی کوئی صورت نہیں ہے اور اگر مندر بننے سے ہندو مسلم تعلقات میں بہتری آ جائے تو موجودہ ملکی حالات میں مسلمانوں کے لیے یہ راحت کی بات ہوگی۔

اس ضمن میں بابری مسجد کے مقدمے میں مدعی اقبال انصاری نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اچھا ہوا یہ سب ختم ہوا۔‘

لیکن انڈیا کی عوام خصوصاً مسلم اقلیت کو یہ بھی توقع تھی کہ آخرکار یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا، گنہگاروں کو سزا ملے گی اور ایودھیا کے طرز پر دوسری مساجد اور مذہبی مقامات کو توڑنے کے مطالبے نہیں ہوں گے۔

لیکن اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انڈیا میں ایک اہم مثال بن سکتا ہے خاص طور پر متھرا اور واراناسی کی دو اہم مساجد کے لیے۔ جہاں متھرا میں شاہی عید گاہ مسجد اور کرشن جنم بھومی مندر ایک ساتھ ہیں۔ اور ہندو برادری اس جگہ کو دیوتا کرشن کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔

اور دوسری طرف واراناسی میں گیان واپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر۔

رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اپنی پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بابری مسجد انہدام کیس میں عدالتی فیصلے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’آج آپ لوگوں نے بابری مسجد كے گرائے جانے میں ملوث افراد کو مقدمے سے بری کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ چلو آگے بڑھو، کاشی متھورا پر جو چاہو کرو، ہم تمھیں کلین چٹ دیتے جائیں گے، جہاں تمھارے آستھا کا معاملہ آئے گا ہم اس پر تمھاری مدد کرتے جائیں گے۔‘

یاد رہے کہ اس مقدمے کے ملزمان میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے شریک بانی اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی، سابق مرکزی وزرا مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت کئی سینیئر سیاستدان شامل تھے۔

بابری مسجد کی انہدام سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما ایل کے اڈوانی اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت دیگر رہنماوں اور ان کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس كے کارکنان نے ایک رتھ یاترا نکالی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس یاترا نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی منظر نامے پر ابھرنے اور تقویت بخشنے میں تو ضرور مدد کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ یاترا فسادات کا باعث بنی تھی۔ ان فسادات میں کم از کم 2000 لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

اس زمانے میں ہندو اکثریت پسندوں کا نعرہ تھا 'ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی (وارانسی) متھرا ابھی باقی ہیں۔'

اگرچہ چند عناصر اب بھی متھرا اور وارانسی کی مساجد کو بھی توڑنے کی بات کرتے ہیں تاہم بابری مسجد کیس کے نومبر 2019 کے فیصلے كے بعد آر ایس ایس نے متھرا اور کاشی کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔

یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، یہ کیا شکل اختیار کر سکتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ہندو اکثریت پسندوں کا ماننا ہے کی انڈیا میں ایسی 2000 سے زیادہ مساجد ہیں جنھیں مندر توڑ کر بنایا گیا ہے۔

لیکن یہ معاملہ انڈیا كے ماضی کی بحث سے باہر نکل کر آج كی سیاست کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

آج كے بحث مباحثوں میں 1947 کا قانون جو كہ مذہبی ڈھانچوں کو اس وقت كے حساب سے بیان کرتا ہے، ثانوی چیز بنتا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN

یہ وہ معاملہ ہے جس کی پورے ملک کے مسلمان اور سیکولر افراد نے حمایت کی تھی۔ لیکن ماہرین کے مطابق پھر ایک بھی شخص قصوروار نہ پایا جانا مسلمانوں اور معاشرے كے دوسرے کمزور فرقوں كے مستقبل کے لیے ایک تشویش ناک بات ہے۔

اکشے مکل کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ اس طرح کے خیالات رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر بابری مسجد اور اس کے انہدام کے بعد کے واقعات کے حوالے سے بات کریں تو دو افراد، پانچ ہوں یا 200 افراد، اس سے اب کچھ فرق نہیں پڑتا، ہم نے دنیا کو ایک ریڈی میڈ ماڈل دے دیا ہے۔‘

اگر ہم 30 ستمبر کے فیصلے كے بات کریں تو اس میں 850 سے زیادہ گواہوں کو پیش کیا گیا، سینکڑوں دستاویزات اور تصاویر بھی عدالت کے سامنے رکھی گئیں لیکن اس کے باوجود ایک بھی ملزم کو قصور وار نہیں پایا گیا۔

عدالت نے فیصلے سے پہلے دونوں فریقین کی دلیلوں پر ضرور باریکی سے غور کیا ہوگا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کی مسجد منہدم ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک بھی شخص کا قصوروار نہ پایا جانا مسلمانوں اور معاشرے كے دوسرے کمزور فرقوں كے مستقبل کے لیے ایک تشویش ناک بات ہے۔

اکشے مکل کہتے ہیں کے اس فیصلے سے ’ قانون شہادت کو یکسر الٹا کر دیا گیا ہے۔‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جو کہ اس کیس میں ایک مدعی ہے کے وکیل ظفریب جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس افسر، سرکاری عہدیدار اور سینئر صحافی موجود تھے جو بطور گواہ پیش ہوئے۔ ان کی گواہی کا کیا ہو گا؟ عدالت کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ آیا یہ عینی شاہدین جھوٹ بول رہے ہیں۔‘