ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے پر لڑائی: آرمینیا کا آذربائیجان پر تاریخی چرچ کو نشانہ بنانے کا الزام

گرجا گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آرمینیا نے الزام عائد کیا ہے کہ آذربائیجان نے متنازع علاقے ناگورنو قرہباخ میں جاری لڑائی کے دوران ایک تاریخی گرجا گھر کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے۔

تصاویر میں شوشا شہر کے ہولی سیویئر گرجا گھر کے اندر اور باہر ہونے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

27 ستمبر کو شروع ہونے والے اس تنازعے میں اب تک 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ، روس اور فرانس کے بین الاقوامی ثالثوں نے تشدد کے خاتمے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور جمعرات کے روز وہ جینیوا میں آذربائیجان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

آرمینیا کے وزیر خارجہ سوموار کو ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔

حالیہ برسوں میں ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ہونے والی یہ سخت ترین لڑائی ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پُرتشدد کارروائیوں کے الزامات لگائے ہیں۔

لڑائی کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

جائے وقوعہ پر موجود غیر ملکی صحافیوں کے مطابق آرمینیا کے اپوسلک چرچ کی مشہور ہولی سیویئر چرچ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

چرچ کی چھت کا ایک حصہ گر گیا ہے، فرش پر ملبہ پڑا ہے اور عمارت کے اندرونی حصے کی دیواریں دھول سے بھری ہوئی ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایک مقامی شخص نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہاں کوئی فوج نہیں، کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی، ایک چرچ کو کیسے ننشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ آرمینیائی باشندوں کے لیے بہت اہم چرچ ہے۔ خدا فیصلہ کرے گا۔‘

آرمینیا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے ’دشمن آذربائیجان‘ پر گرجا گھر کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس کے علاوہ جمعرات کے روز آرمینیا نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی قومی سلامتی سروس کے سربراہ کو برخاست کردیا ہے لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

دوسری جانب آذربائیجان نے کہا ہے کہ اس کے دوسرے سب سے بڑے شہر گینجہ اور گوران بائے کے علاقے میں آرمینی فوج نے گولہ باری کی ہے جس میں کم از کم ایک شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

خطے میں انسانی حقوق کے محتسب ارتک بیگلارئن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتاتا کہ جھڑپوں کی وجہ سے ناگورنو قرہباخ کی آدھی آبادی یعنی تقریباً 70 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

ناگورنو قرہباخ کا اہم شہر سٹیپاناکرٹ کئی دن سے گولہ باری کی زد میں ہے۔ یہاں کے رہائشی تہہ خانوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی نہیں ہے۔

ہفتے کے آخر میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے ’اندھا دھند گولہ باری اور دیگر مبینہ غیر قانونی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑی تعداد‘ میں عام شہری مارے گئے ہیں۔

اس بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ جانی نقصان کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

لڑائی پر علاقائی ردعمل کیا ہے؟

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک، آذربائیجان اور آرمینیا، کے درمیان جاری لڑائی وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ ناگورنو قرہباخ کے متنازع علاقے میں جھڑپوں کے بعد خطے میں ’استحکام کی بحالی‘ کی امید رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

’ہمیں اس حوالے سے دھیان دینا چاہیے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ علاقائی جنگ نہ بن جائے‘

بدھ کے روز صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’ہمیں اس حوالے سے دھیان دینا چاہیے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ علاقائی جنگ نہ بن جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امن ہمارے ہر عمل کی بنیاد ہے اور ہم خطے میں پُرامن طریقے سے استحکام کی بحالی کی امید رکھتے ہیں۔‘

حسن روحانی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کے گولہ باری اور میزائلوں کا دغا جانا ’سراسر ناقابل قبول ہے۔‘

حسن روحانی کا یہ بیان ایران کے ساتھ آرمینیا اور آذربائیجان کی شمالی سرحد کے دیہاتوں میں گولہ باری کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا تھا۔

بدھ کے روز روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جاری جنگ کو ’سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بہت زیادہ تشویش ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تنازع مستقبل قریب میں ختم ہو جائے گا۔ لوگ مر رہے ہیں اور دونوں اطراف شدید نقصان ہوا ہے۔‘

روس کا آرمینیا کے ساتھ فوجی اتحاد ہے جبکہ اس ملک میں ان کا ایک فوجی اڈہ بھی ہے تاہم اس کے آذربائیجان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بڑے شہروں پر بمباری اور توپ خانے کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر دونوں ممالک میں عام شہریوں کی اموات کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے

ناگورنو قرہباخ کے حوالے سے اہم حقائق

  • یہ تقریباً 4400 مربع کلومیٹر پر محیط پہاڑی علاقہ ہے
  • روایتی طور پر یہاں آرمینیائی مسیحی اور ترک مسلمان آباد رہے ہیں
  • سوویت دور میں یہ جمہوریہ آذربائیجان کے اندر ایک خودمختار خطہ بنا
  • بین الاقوامی طور پر اسے آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس کی اکثریتی آبادی آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے
  • خود ساختہ حکام کو آرمینیا سمیت اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن تسلیم نہیں کرتا
  • یہاں سنہ 1988 سے سنہ 1994 کے دوران ہونے والی جنگ کے دوران تقریباً 10 لاکھ لوگ بےگھر ہوئے جبکہ 30 ہزار لوگ ہلاک ہوئے
  • علیحدگی پسند قوتوں نے آذربائیجان کے اندر اس خطے کے گرد اضافی علاقوں پر قبضہ کیا
  • سنہ 1994 میں جنگ بندی کے بعد سے اس تنازع کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
  • ترکی آذربائیجان کی واضح حمایت کرتا ہے
  • آرمینیا میں روس کا فوجی اڈہ موجود ہے