افغان امن معاہدہ: تصدیق کے طریقۂ کار کے بغیر طالبان پر بھروسہ ایک جان لیوا بھول ہوگی، افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح
،تصویر کا کیپشن

افغان نائب صدر امراللہ صالح

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ امریکہ نے طالبان کے کئی مطالبات تسلیم کر کے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔ امریکہ جلد افغانستان سے مزید 2500 فوجیوں کو وطن واپس بلانے جا رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کا یہ مشن، جو 20 سال قبل شروع ہوا تھا، ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ‘

گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ طے کیا جس میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی شرط بھی شامل تھی۔

افغان نائب صدر کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا سے ان کے غیر مستحکم ملک میں پُرتشدد واقعات بڑھنے کے خدشات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان کی حکومت کئی برسوں سے طالبان کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ سخت گیر اسلامی گروہ ملک کے کئی حصوں میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کر چکا ہے۔

نائن الیون کے دہشتگرد حملے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں 2001 میں مداخلت کی اور اس کے فوجیوں نے طالبان کی حکومت کو ختم کیا۔

لیکن اس تحریک نے ایک بار پھر زور پکڑا اور 2018 میں یہ دو تہائی ملک میں متحرک رہی۔ اس نے افغانستان کی منتخب حکومت کو بھی دھمکیاں دیں۔

اس جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں جن میں 2400 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو افغانستان سے وطن واپس بلانے کے لیے ان کے ارادے پختہ ہیں۔

افغان نائب صدر صالح کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات ایک غلطی تھی۔ ’ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس گروہ کو بڑی رعایت دے کر غلطی کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

امریکہ اور طالبان کے مابین یہ معاہدہ فروری 2020 میں طے پایا۔ اس میں کہا گیا کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی آئندہ 14 ماہ میں اپنے تمام فوجیوں کا انخلا یقینی بنائیں گے، بشرط یہ کہ طالبان ان پر حملے نہ کرنے کے اپنے وعدے پر قائم رہتے ہیں۔

طالبان نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ یا کسی اور مسلح گروہ کو اپنے علاقوں میں کام کرنے نہیں دیں گے۔

افغان حکومت سے بات چیت کے آغاز کے لیے طالبان نے سب سے پہلے اپنے 5000 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ گذشتہ سال اگست میں آخری 400 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

اس تاریخی معاہدے کے بعد بین الاقوامی فورسز پر تو طالبان کے حملے رُک گئے۔ لیکن افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ ان کی جھڑپیں جاری رہی۔

امراللہ صالح کہتے ہیں کہ ’میں یہ انھیں (امریکہ کو) دوست سمجھ کر یہ بتا رہا ہوں اور ایک اتحادی کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ کسی تصدیق کے طریقۂ کار کے بغیر طالبان پر بھروسہ ایک جان لیوا بھول ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی وفد ہمارے پاس آیا اور الہامی کتاب پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اگر آپ ان 5000 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیں گے تو کوئی پُرتشدد واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

’ہم نے انھیں اعلیٰ سطح پر بتایا کہ ہماری انٹیلیجنس نے اس سے الگ نشاندہی کی ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے تو پُرتشدد واقعات بڑھیں گے اور ایسا ہی ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے خود کو القاعدہ سے الگ نہیں کیا اور اُن کے رہنما طالبان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اکتوبر میں اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ طالبان اور القاعدہ کے بیچ آج بھی قریبی تعلقات ہیں۔

افغان نائب صدر کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ دہشت گردی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا فیصلہ ہے۔ لیکن ہم آپ کو بتا رہے ہیں، دھوکے میں نہ آئیں۔‘

’طالبان ہی دہشتگرد تھے۔ وہ آج بھی دہشتگرد ہیں۔ وہ خواتین کارکنان، شہری حقوق کے کارکنان کو قتل رہے ہیں۔‘

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان امریکی فوجیوں سے یہ بھیک نہیں مانگ رہا کہ ان کے ملک میں موجود رہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغان حکومت امریکی فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔

’ہم ان کی مدد کے شکر گزار ہیں۔ میرے ملک کی تقدیر امریکہ کے آخری فوجی ہیلی کاپٹر پر منحصر نہیں۔‘

افغانستان میں جنگ کے عروج پر 88 ہزار امریکی فوجی موجود رہتے تھے۔ لیکن جمعے کو ہونے والے فوجی انخلا کے بعد اب یہ تعداد محض دو ہزار رہ گئی ہے۔

طالبان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت اگر موسم بہار تک تمام غیر ملکی فوجی اپنے وطن واپس نہیں گئے تو وہ بین الاقوامی فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔

افغان حکومت بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے لیکن یہ غیر واضح ہے کہ آیا وہ کب اور کیسے کوئی امن معاہدہ طے کر پائیں گے۔

کئی لوگوں کو یہ ڈر ہے کہ اگر غیر ملکی افواج کسی حتمی معاہدے کے بغیر افعانستان سے چلی گئیں تو یہ ممکن ہے کہ طالبان دوبارہ ملک میں اپنی حکومت بنا لیں۔

ٹرمپ کے جانشین اور نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن 20 جنوری کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کے دور کے آغاز میں کچھ بڑے فیصلوں میں سے ایک افغانستان میں باقی بچنے والے امریکی فوجیوں کا مستقبل طے کرنا ہونا۔