ایران امریکہ تعلقات: ایران نئے امریکی صدر جو بائیڈن سے کیا چاہتا ہے؟

بائیڈن/روحانی

،تصویر کا ذریعہReuters/Getty

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے لیکن صدر بائیڈن کے دور میں کشیدگی میں کمی آنے کے امکانات کم ہیں۔

صدر جو بائیڈن کو حلف اٹھانے کے بعد داخلی مسائل کے انبار کا سامنا ہو سکتا ہے جن پر انھیں فوری طور پر توجہ دینی ہو گی، ان مسائل میں کووڈ-19 کی وبا کے صحت عامہ اور اقتصادیات پر پڑنے والے اثرات اور بلا شبہ کیپیٹل ہِل پر ہونے والے ہنگامے شامل ہیں۔

بین الاقوامی معاملات میں امریکہ کے اتحادیوں کی یہ جاننے کی خواہش ہے کہ صدر بائیڈن ایران کے موضوع پر کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔

رخصت ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2015 میں ایران کے جوہری منصوبے کے بارے میں پانچ عالمی قوتوں اور جرمنی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے (جے سی پی او اے) سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان سنہ 2018 میں کر دیا تھا اور دوبارہ سے ایران پر اُن امریکی پابندیوں کو نافذ کردیا تھا جو اس معاہدے کے طے پانے کے بعد ہٹا لی گئی تھیں۔

اس کے جواب میں ایران نے اسی معاہدے کی شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کی مقدار میں اضافہ کرنا شروع کردیا جو اب 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

مزید پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایران کیا چاہتا ہے؟

ایران کو توقع نہیں کہ صدر بائیڈن کے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں جو کشیدگی ہے وہ ختم ہو جائے گی، البتہ ایران یہ ضرور چاہتا ہے کہ اُس پر عائد امریکی پابندیاں ہٹا لی جائیں۔

ٹرمپ حکومت نے جے سی پی او اے سے دستبرداری کا اعلان کرنے کے بعد ایران پر پابندیوں کا ایک انبار عائد کردیا تھا، جن میں ساری پابندیاں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلقہ نہیں تھیں۔ ایران اس بارے میں واضح مؤقف نہیں رکھتا ہے کہ آیا وہ جوہری پروگرام سے متعلقہ پابندیوں کو ہٹوائے جانے میں دلچسپی رکھتا ہے یا وہ صدر ٹرمپ کی تمام پابندیوں کو ہٹوانا چاہتا ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای جن کے پاس ایران کے اہم فیصلے کرنے کا حتمی اختیار ہے۔ انھوں نے اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹوانے کی کوشش کرے تاہم ترجیح یہ ہونی چاپیے کے ان پابندیوں کے منفی اثرات غیر موثر ہو جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی صدر حسن روحانی تو کہتے ہیں کہ امریکہ کی جے سی پی او اے کی جانب واپسی اس مسئلے کا سب سے آسان حل ہے کیونکہ اس میں حریفین کو صرف فیصلہ کرنا ہے اور پھر اس کا اعلان کرنا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس واپسی کے راستے میں شاید اتنی زیادہ رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں کہ اب یہ واپسی ناممکن ہو چکی ہو گی۔

مزید یہ کہ صدر بائیڈن کی خـارجہ پالیسی کی ٹیم نے یہ کہا ہے کہ امریکہ جے سی پی او اے سے اتنی دور جا چکا ہے کہ اس کے لیے اس میں دوبارہ سے شامل ہونا شاید آسان نہ ہو۔

ایران جس کی جوہری تنصیبات اس وقت انتہائی مداخلت کرنے والی معائنہ کاری کے نظام میں جکڑی ہوئی ہیں، نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگر 21 فروری تک اس پر عائد پابندیاں نہ ہٹائی گئیں تو وہ اپنی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی بہت زیادہ محدود کردے گا۔ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ اس بارے میں اتنے کم وقت میں کوئی فیصلہ کر پائے گی۔

باوجود اس کے کہ ایران کو ان پابندیوں کی وجہ سے سے سنگین قسم کی اقتصادی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے، رہبرِ اعلیٰ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ان کے ملک کو بھی واشنگٹن کے اس معاہدے میں جلد واپسی کی کوئی زیادہ توقع نہیں ہے۔

ان کا یہ مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ایران کے اس متنازع قانون کے حامی ہیں جس میں حکومت سے یہ کہا جائے گا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام میں تیزی لائے۔

ایران کیا نہیں چاہتا ہے؟

صدر بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ اس معاہدے کی جانب واپسی کو ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے نکتہ آغاز کے طور پر لیا جائے گا جس میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی خطے میں دیگر سرگرمیوں کے خاتمے پر بھی بات چیت ہو گی۔ ان دونوں معاملات پر ایران مذاکرات نہیں کرے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات آغاز ہی سے بے فائدہ ہوں گے۔

ایران کی مسلح افواج سے لے کر حکومت کے اعلیٰ عہداروں تک، سبھی اس بات کو بار بار کہہ چکے ہیں ایران کا قابلِ رشک میزائل پروگرام پر کسی قسم کا سمجھتہ نہیں ہو سکتا ہے۔

،ویڈیو کیپشن

ایران جوہری معاہدہ تھا کیا اور اس کے کیا فوائد تھے؟

خود آیت اللہ خامنہ ای نے اس بارے میں ایک مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا تھا ایران کے میزائل پروگرام نے دشمن کو ایران پر حملہ کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کیا ہے اور ایران کو کسی بھی حالت میں اپنے دفاع کو کمزور کرنے کے لیے اس پروگرام کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔

انھوں نے خطے میں ایران کی سرگرمیوں کے بارے میں کہا تھا کہ ایران خطے میں استحکام لانے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اس خطے میں عدم استحکام امریکی مفاد میں جاتا ہے۔

ایران پہلے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں یہ کہتے ہوئے مزاحمت کرتا تھا کہ وہ اس پر کبھی مصالحت نہیں کرے گا لیکن ایران کا یہ مؤقف سنہ 2013 میں تبدیل ہوا تھا جب خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران ایک ’جرات مندانہ لچک‘ کا مظاہرہ کرے گا۔ دو برس بعد تاریخ ساز جے سی پی او اے معاہدہ طے پا گیا۔

لہٰذا یہ کوئی بہت حیران کن بات نہیں ہو گی اگر بہت زیادہ مستقبل بعید میں نہیں تو ایران ایک مرتبہ پھر ایک اور ’جرات مندانہ لچک‘ کا مظاہرہ کرے اور میزائل پروگرام پر بھی مذاکرات کے لیے آمادگی کا اشارہ دے دے اور شاید مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سرگرمیوں پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہو جائے۔

آخر کار جو بات ایران کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے وہ اسلامی جمہوریہ کو بچانا ہے اور اگر وہ یہ سوچے کہ ان اہم معاملات پر مذاکرات سود مند ہیں تو وہ اس کے لیے تیار بھی ہو جائے گا۔