بابا رام دیو کی تیار کردہ کورونا کی دوا ’کورونیل‘ پر وزیر صحت سے جواب طلب

  • اننت پرکاش
  • نمائندہ بی بی سی ہندی، دلی
رام دیو کے ساتھ انڈیا کے دو مرکزی وزرا

،تصویر کا ذریعہSONU MEHTA/HINDUSTAN TIMES VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

بابا رام دیو کے ساتھ انڈیا کے دو مرکزی وزرا ڈاکٹر ہرش وردھن اور نتن گڈکری

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے سوموار کو مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن سے یوگا گرو بابا رام دیو کی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ 'کورونا کی نام نہاد دوا' کورونیل کو لانچ کرنے پر وضاحت طلب کی ہے۔

آئی ایم اے نے سوموار کو ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں ڈاکٹر ہرش وردھن سے متعدد سوالات پوچھے گئے ہیں۔

آئی ایم اے کی طرف سے جاری ایک بیان میں مرکزی وزیر صحت پر میڈیکل کونسل آف انڈیا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

بیان میں لکھا گیا ہے کہ 'قواعد کی رو سے کوئی بھی ڈاکٹر کسی دوا کو فروغ نہیں دے سکتا، لیکن مرکزی وزیر جو خود ایک ڈاکٹر ہیں، ان کے ذریعے دوا کو پروموٹ کیا جانا حیران کن ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس معاملے کو میڈیکل کونسل آف انڈیا میں لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم اے کی ڈاکٹر ہرش وردھن سے ناراضگی کی کیا وجہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

معاملہ کیا ہے؟

مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے گذشتہ جمعہ کو دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں بابا رام دیو کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس پروگرام میں مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے بھی شرکت کی تھی۔

بابا رام دیو نے اس پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کے انسٹی ٹیوٹ کی تیار کردہ دوا کورونیل سے متعلق تحقیقی مقالے کئی بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں دونوں مرکزی وزراء نے کورونیل کے ساتھ تصاویر کھنچوائیں۔

پریس کانفرنس کے بعد رام دیو نے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ايچ او) کی طرف سے کورونیل کو دنیا کے 154 ممالک میں بھیجنے کی منظوری دی گئی ہے۔

لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔ اس وقت سے آئی ایم اے اس پروگرام میں مرکزی وزیر صحت کی موجودگی پر سوال اٹھا رہا ہے۔

آئی ایم اے کے مطابق مرکزی وزیر صحت کے ذریعے غیر سائنسی دوا کا جاری کیا جانا اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس کی فوری تردید اس ملک کے عوام کی توہین ہے۔

آئی ایم اے کے سخت سوالات

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے رام دیو کے دعوے کی تردید کے بعد انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے مرکزی وزیر صحت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آئی ایم اے نے مرکزی وزیر صحت سے یہ سوالات پوچھے ہیں:

  • ملک کے وزیر صحت کی حیثیت سے یہ کتنا مناسب اور منطقی ہے کہ آپ اس طرح کی غلط معلومات پورے ملک کے سامنے رکھیں؟
  • ملک کے وزیر صحت کی حیثیت سے یہ کتنا جائز ہے کہ آپ غیر سائنسی مصنوعات کو غلط معلومات کے ساتھ ملک کے عوام کے لیے جاری کریں؟
  • ملک کے وزیر صحت کی حیثیت سے یہ بات کتنی اخلاقی ہے کہ آپ کسی بھی مصنوعات کو غیر اخلاقی، غلط اور جھوٹے طریقے سے پورے ملک کے سامنے پیش کریں؟
  • ملک کے وزیر صحت اور جدید طب کے ڈاکٹر کی حیثیت سے آپ کا غیر سائنسی مصنوعات کو عوام کے سامنے پیش کرنا کتنا اخلاقی ہے؟
  • ملک کے وزیر صحت اور جدید طب کے ڈاکٹر کی حیثیت سے کیا آپ خود سے جاری اینٹی کورونا مصنوعات کے نام نہاد کلینیکل ٹرائلز کی ٹائم فریم اور وقت کی وضاحت کرسکتے ہیں، اگر وہ واقعی ہوئے ہیں؟
  • ملک کے وزیر صحت اور جدید طب کے ڈاکٹر کی حیثیت سے کیا آپ اپنے ہاتھوں جاری کردہ نام نہاد اینٹی کورونا مصنوعات کے نام نہاد کلینیکل ٹرائلز کے لیے ڈبل بلائنڈ اور سنگل بلائنڈ کلینیکل ٹرائلز میں شامل مریضوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔ کیا ان مریضوں کو اس کے بارے میں معلومات دے کر ان سے منظوری لی گئی تھی؟
  • لانچ کے بعد ایک انٹرویو میں بابا رام دیو نے جدید طبی نظام پر تنقید کی اور اسے ’طبی دہشت گردی‘ قرار دیا۔ ملک کے وزیر صحت اور جدید میڈیسن کے ڈاکٹر ہونے کے ناطے کیا آپ بابا رام دیو کے ان انتہائی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز بیانات کی وضاحت کرسکتے ہیں؟
  • آپ کی موجودگی میں بتایا گیا ہے کہ اس دوا کو ڈی جی سی آئی نے منظور کیا ہے۔ یہ کس بنیاد پر کیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کورونیل کورونا سے بچانے کے لیے اتنا موثر ہے تو حکومت ویکسینیشن پر 35 ہزار کروڑ کیوں خرچ کر رہی ہے؟

پریس کانفرنس کیوں تنازعے کی زد میں آگئی

پریس کانفرنس میں رام دیو نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے مشہور جرائد میں کورونیل کے حوالے سے نو تحقیقی مقالے شائع ہوئے ہیں اور 16 تحقیقی مقالے قطار میں ہیں۔

اس پروگرام میں موجود مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا 'اب تک آیور وید میں یہ بات ہوتی تھی کہ یہ دوائیں لے لو ہم لے لیتے تھے کیوں کہ ہمیں یقین تھا۔ فائدہ بھی ہوتا تھا۔ لیکن اب انھوں (اچاریہ بالکرشن) نے سائنسی جانچ اور تجزیے کے ساتھ اس کے تحقیقی مقالے کو پیش کرنے کا کام کیا ہے۔'

جبکہ اسی کے ساتھ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ آیور وید کی صلاحیتوں کے بارے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ بھی لکھا ہے کہ ’آیوروید کا خواب حکومت ہند کا خواب ہے۔'

ڈاکٹر ہرش وردھن نے آیوروید ادویات کے بارے میں دعویٰ کہ کووڈ سے پہلے آیوروید کا بازار 15 سے 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا تھا لیکن کوڈ کے بعد اس کا بازار پچاس سے نوے فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔

اس کے ساتھ انھوں نے بابا رام دیو اور آچاریہ بالکرشن کو کورونیل کی تحقیق کے لیے مبارکباد پیش کی۔

رام دیو نے اس کے بعد ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ کورونیل کو ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) سے اجازت مل گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے 154 ممالک میں اس دوا کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

پتنجلی آیوروید نے بھی اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لکھا ہے کہ 'پتنجلی کی کورونیل گولی اب کووڈ کا علاج کرے گی۔ وزارت نے کورونیل کی ٹیبلیٹس کو بطور کورونا دوا قبول کرلیا ہے۔'

پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر آچاریہ بالکرشنا نے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: 'ہم یہ بتاتے ہوئے بہت خوش ہیں اور فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جی ایم پی کوالٹی اپروول کو ملحوظ رکھتے ہوئے کورونیل کو ڈی جی سی آئی نے سی او پی پی دی لائسنس دے دیا ہے۔'

عالمی ادارہ صحت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس کے متلعق وضاحت جاری کی گئی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے جنوب مشرقی ایشیاء کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا گیا ہے کہ 'عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے کسی روایتی دوا کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا ہے اور نہ ہی کسی بھی دوا کی تصدیق کی گئی ہے۔'

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی وضاحت کے بعد رام دیو کے دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

آچاریہ بال کرشن نے وضاحت دی ہے

اس معاملے پر تنازعے کے بعد آچاریہ بالکرشن نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کر کے اپنی کمپنی کا موقف پیش کیا ہے۔

بالکرشن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: 'ہم اسے واضح کرنا چاہتے ہیں تاکہ کوئی ابہام نہ ہو۔ کورونیل کو جو ڈبلیو ایچ او- جی ایم پی کے تحت سی او پی پی سرٹیفیکیشن دیا گيا ہے وہ ڈی جی سی آئی، حکومت ہند نے جاری کیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ عالمی ادارہ صحت کسی بھی دوا کو منظور یا نا منظور نہیں کرتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پوری دنیا کے لوگوں کے لیے ایک بہتر اور صحت مند مستقبل کے لیے کام کرتا ہے۔‘

بہر حال ابھی بھی اس دوا کے متعلق تنازع برقرار ہے۔