قطب مینار: کیا دلی میں قطب الدین ایبک کا بنایا ہوا ورثہ پہلے ہندوؤں کا مندر تھا؟

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو، دہلی
قطب مینار

دلی کے قطب مینار کمپلیکس میں موجود قطب مینار اور قوت السلام مسجد انڈیا میں مسلم سلاطین کی تعمیر کردہ اولین عمارتیں ہیں۔ قطب مینار اور اس سے ملحقہ شاندار قوت اسلام مسجد کی تعمیر میں وہاں موجود درجنوں ہندو اور جین مندروں کے ستونوں اور پتھروں کو استعمال کیا گیا تھا۔

بعض ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ قوت الاسلام مسجد دراصل مندر ہے اور یہاں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ مندر کی بحالی کے لیے انھوں نے عدالت میں ایک درخواست بھی جمع کروائی ہے۔

دلی کے مہرولی علاقے میں واقع قطب مینار دنیا کے عجائبات میں شامل رہا ہے۔ صدیوں تک اسے دنیا کی سب سے اونچی عمارت ہونے کا درجہ حاصل تھا۔ اس سے ملحقہ مسجد قوت الاسلام کے نام سے جانی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ انڈیا میں مسلم سلاطین کی تعمیر کردہ اولین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اس مسجد میں صدیوں پرانے مندروں کا بھی ایک بڑا حصہ شامل ہے ۔ صحن کے اطراف میں واقع ستونوں اور در و دیوار پر آج بھی دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں اور مندر کا طرز تعمیر واضح طور پر پر نظر آتا ہے۔

قطب مینار کے داخلی دروازے پر ایک کتبے میں لکھا ہے کہ اس مسجد کو 27 ہندو اور جین مندروں کے ملبے سے تعمیر کیا گیا تھا۔

معروف مورخ پروفیسرعرفان حبیب کہتے ہیں ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مندر کا حصہ ہیں ۔لیکن یہ جو مندر تھے یہ وہیں تھے یا آس پاس میں کہیں تھے جہاں سے یہ ستون وغیرہ لائے گئے۔ ظاہر ہے کہ 25 یا 27 مندر ایک جگہ تو نہیں رہے ہوں گے۔ تو یہ ستون وغیرہ ادھر ادھر سے جمع کر کے یہاں لائے گئے ہوں گے۔‘

'قطب میناراینڈ اٹس مونومنٹس' کے عنوان سے لکھی گئی کتاب کے مصنف اور مورخ بی ایم پانڈے کا خیال ہے کہ ’جو اصل مندر تھے وہ یہیں تھے۔ اگر آپ مسجد کے مشرقی جانب سے داخل ہوں تو وہاں جو سٹرکچر ہے وہ اصل ڈھانچہ ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ اصل مندر یہیں پر تھے۔ کچھ اِدھر اُدھر بھی رہیں ہوں گے۔ جہاں سے انھوں نے ستون اور پتھر کے دوسرے حصے لا کر استعمال کیے۔‘

راجپوت راجہ پرتھوی راج چوہان کی شکست کے بعد محمد غوری نے اپنے جنرل قطب الدین ایبک کو دلی کا حکمراں مقرر کیا تھا۔ مہرولی میں واقع قطب مینار قطب الدین ایبک اور ان کے جانشین شمس الدین التمش نے 1200 صدی عیسوی میں تعمیر کرایا تھا۔ قوت السلام مسجد ایبک کے زمانے میں تعمیر کی گئی اور بعد میں اس میں توسیع ہوتی رہی۔

مسجد کے قبلے کی طرف کا جو حصہ ہے وہ ابتدائی اسلامی طرز پر بنایا گیا ہے۔ محراب کی دیواروں میں قرآن کی آیات اور گل بوٹے نقش ہیں۔ لیکن مسجد میں مندر کے باقیات جا بجا نظر آتے ہیں۔ کہیں کہیں پرانےمندر کا پورا ڈھانچا موجود ہے۔

بعض ہندو تنظیمیں ایک عرصے سے دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ قطب کمپلیکس دراصل ہندو مذہب کا مرکز تھا۔ ہندو جاگرن تنظیم کے بعض کارکنوں نے حال میں عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ یہ احاطہ ہندوؤں کی پوجا پاٹ کے لیے بحال کیا جائے۔

ہندو کارکن اور وکیل ہری شنکر جین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں آج بھی لگی ہوئی ہیں جو ٹوٹی ہوئی پڑی ہیں۔ یہ نیشنل شیم ہے۔ اسے لے کر ہم نے دعویٰ دائر کیا ہے کہ ہم کو وہاں پوجا پاٹ کا حق دیا جائے۔‘

اس مقدمہ کی سماعت دلی کی ایک عدالت میں اپریل کے پہلے ہفتے میں کی جائے گی۔

آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی عمارتوں اور واقعات کو آج کے تناظر میں دیکھنا صحیح نہیں ہے۔ انھیں جوں کا توں برقرار رکھنا اہم ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے سابق سربراہ سید جمال حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’آرٹ اور آرکیٹکچر سے متعلق جو بھی عمارتیں ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کی ہوں بودھ دھرم کی ہوں، جین ہوں، ہندو دھرم کی ہوں، اسلام کی ہوں۔ جو بھی ماضی کی وراثت ہیں، نشانیاں ہیں ان کو ہم ’ایز اٹ از‘ یعنی ویسے ہی برقرار رکھیں تاکہ آنے والی نسلیں یہ دیکھ کر سمجھ سکیں کہ یہ کس کا طرزِ تعمیر ہے، یہ گپتا طرز تعمیر ہے، یہ شونگا سٹائل ہے، یہ مورین طرز ہے، یہ معل سٹائل ہے۔ ہمارا یہی کام ہے کہ ہم اس سٹائل کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھیں۔‘

کئی ہندو تنظیمیں اور مورخین تاج محل، پرانا قلعہ، جامع مسجد اور اس جیسی ماضی کے مسلم حکمرانوں کی تعمیر کردہ متعدد عمارتوں کو ہندوؤں کی عمارتیں تصور کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مسلم حکمرانوں نے قدیم ہندو مندروں اور عمارتوں کو توڑ کر تبدیل کر دیا ہے۔

وکیل اور ہندو ایکٹیوسٹ رنجنا اگنی ہوتری وکیل ہیں اور قطب مینار کے احاطے میں مندر بحال کرنے کی درخواست میں وہ بھی درخواست گزار ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ہم لوگوں نے مل کر حلف لیا ہے کہ انڈیا میں جتنے بھی مندر تھے جنھیں مغل حملہ آوروں نے ہندوؤں کی تذلیل کے لیے توڑ کر مسجدیں بنا دیں، ہم وہاں انڈیا کے وقار کو دوبارہ قائم کریں گے اور ان مندروں کو آزاد کرائیں گے۔‘

پروفیسر عرفان حبیب کہتے ہیں کہ ’اس قسم کی جتنی باتیں ہیں وہ ہندوستان کے ہیریٹیج (میراث) کو ختم کرنے کی باتیں ہیں۔ اگر آپ اس طرح تاریخ کو دیکھیں گے تو ہمیں معلوم ہے کہ ایسے بودھ وہار ہیں جو مندر بنائے گئے۔ تو ان کو اب پھر سے کیا کیا جائے؟ آپ کو معلوم ہے کہ مہا بودھی مندر میں جو مورتی ہے جہاں تک مجھے یاد ہے وہ شیو جی کی مورتی ہے۔ اس طرح تو یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔‘

ماضی میں کئی تاریخی مذہبی عمارتوں میں عبادت شروع کرنے کی کوشش مسلمانوں نے بھی کی تھی۔ مورخ بی ایم پانڈے کا کہنا ہے کہ مذہبی نوعیت کی قدیم عمارتوں کے بارے میں آثار قدیمہ کی پالیسی بالکل واضح ہے۔

’جو قدیم عمارتیں آثار قدیمہ کے تحفظ میں لیے جاتے وقت مذہبی استعمال میں نہیں تھیں ان میں نماز یا پوجا کی ادائیگی بحال نہیں کی جا سکتی۔ جو عمارتیں مذہبی استعال میں تھیں وہاں عبادت سے نہیں روکا جا سکتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ قطب مینار کمپاؤنڈ کو جس وقت محکمہ آثار قدیمہ کے تحت لیا گیا اس وقت وہاں نہ نماز ہو رہی تھی اور نہ ہی پوجا۔ اس لیے آج کے دور میں اسے پوجا کے لیے بحال کرنے کی مانگ بالکل غلط ہے۔

قطب مینار کمپلکس آثار قدیمہ کا ایک ایسا کمپاؤنڈ (احاطہ) ہے جسے بہت اچھی طرح محفوظ رکھا گیا ہے۔ تاریخی قطب مینار، وہاں کے مقبرے، مساجد اور مدرسے ہر روز ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں۔

قطب مینار کا یہ احاطہ کئی سلطنتوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ حکومت نے اسے قومی میراث کے طور پر برقرار رکھا ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ بہتر ہو گا کہ اسے مذہبی خانوں میں تقسیم کرنے کے بجائے تاریخ کی ایک یادگار کے طور پر ہی دیکھا جائے۔