بنگلہ دیش کا وہ جہاز جو ساڑھے پانچ سال سے انڈیا کے ایئرپورٹ پر کھڑا ہے

  • آلوک پرکاش پوتول
  • رائے پور سے، بی بی سی ہندی کے لیے
بنگلہ دیشی ہوائی جہاز

،تصویر کا ذریعہALOK PRAKASH PUTUL

ذرا سوچیں، اگر ایک گاڑی باہر، کھلے آسمان تلے ساڑھے پانچ سال تک کھڑی رہے، اس پر کوئی کام نہ کیا جائے، تو کیا وہ چلنے کے لائق رہے گی؟

ایسی گاڑی کا آپ کیا کریں گے؟ شاید آپ گاڑی بیچنے کے بارے میں سوچیں گے یا اس کی مرمت کرا کر اسے استعمال کے لائق بنائیں گے۔

لیکن اگر گاڑی کی جگہ بات ایک ہوائی جہاز کی ہو اور وہ بھی دوسرے ملک کا، جو ساڑھے پانچ سال سے انڈیا میں کسی ائیرپورٹ پر کھڑا ہو تو۔۔۔؟

بالکل ایسا ہی ایک کیس انڈیا میں ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہوائی جہاز کا پارکِنگ کا کرایہ

بنگلہ دیش کا ایک مسافر بردار ہوائی جہاز پچھلے ساڑھے پانچ سال سے اسی طرح انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے رائے پور کے ائیرپورٹ پر کھڑا ہے اور اس پر ڈیڑھ کروڑ کی پارکنگ فیس بھی واجب الادا ہے۔

بنگلہ دیش کی یونائیٹیڈ ائیر ویز نے رائے پور کے سوامی وِویک آنند ائیرپورٹ میں کھڑے اپنے ہوائی جواز کو بیچ کر یہ پارکِنگ فیس ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

یونائیٹیڈ ائیرویز نے اس کے لیے نو ماہ کا وقت مانگا ہے۔ یونائیٹیڈ ائیرویز کا یہ ہوائی جہاز پچھلے 68 ماہ سے رائے پور ائیرپورٹ پر کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی خط وکتابت کے بعد بھی اس ہوائی جہاز کو لے جانے اور پارکنگ فیس دینے کا معاملہ اب بھی لٹکا ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہALOK PRAKASH PUTUL

،تصویر کا کیپشن

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے مسقط کے لیے روانہ ہونے والے اس ہوائی جہاز پر 173 لوگ سوار تھے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

رائے پور ائیرپورٹ کے ڈائیریکٹر راکیش سہائے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کمپنی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے جہاز کو بیچ کر فیس چکا دے گی۔ ہم نے ان کی اس پیشکش کو اپنے محکمہ قانون کے پاس بھیجا ہے۔ محکمہ قانون کی صلح کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘

راکیش سہائے کے مطابق پچھلے پانچ سال میں کمپنی کو پچاسوں بار میل کیا گیا لیکن کمپنی نے نہ تو اپنا ہوائی جہاز لے جانے میں کوئی دلچسپی دکھائی اور نہ ہی رائے پور ائیرپورٹ کی فیس چکائی۔ کمپنی نے میل کے جواب میں ہمیشہ یہی لکھا کہ وہ بنگلہ دیشی سِوِل ایوئیشن اتھارٹی کی منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔

اس کے بعد کمپنی کو قانونی نوٹس بھیجا گیا، تب کہیں جا کر کمپنی نے باقی رقم، جو کہ لگ بھگ 1.54 کروڑ روپے ہے، ادا کرنے کے لیے وقت مانگتے ہوئے نوٹس کا جواب دیا۔

ہم نے اس بارے میں فون اور ای میل کے ذریعے یونائیٹیڈ ائیرویز کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہمیں ان کا موقف نہیں مل پایا۔

بنگلہ دیشی ہوائی جہاز، انڈیا کیسے پہنچا؟

بنگلہ دیش کی یونائیٹیڈ ائیرویز کے اس میک ڈانلڈ دگلس ایم ڈی 83 ہوائی جہاز کو 7 اگست 2015 کے دن رائے پور ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈِنگ کرنی پڑی تھی۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے مسقط کے لیے روانہ ہونے والے اس ہوائی جہاز پر 173 لوگ سوار تھے۔

ہوائی جہاز جب وارانسی اور رائے پور کے فضائی علاقے کے درمیان تھا تو اس کے ایک انجن میں آگ لگ گئی۔ رائے پور ائیرپورٹ کے حکام کے مطابق ہوائی جہاز میں JT8D-200 کے دو انجن لگے تھے اور ایک انجن میں خرابی کے بعد اس کا اڑنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد اس ہوائی جہاز نے ہنگامی حالت میں رائے پور میں لینڈنگ کی اجازت مانگی۔

رائے پور ائیرپورٹ کے ایک اہلکار کے مطابق ’دیر شام کو کولکتہ ائیر ٹریفِک کنٹرول نے رائے پور ائیرپورٹ کو اس بارے میں مطلع کیا اور فوراً اس ہوائی جہاز کو لینڈ کرنے کی اجازت دی گئی۔ حالانکہ اس دوران خراب ہونے والے انجن کا ایک حصہ پہلے ہی گر گیا تھا لیکن ہوائی جہاز رن وے پر بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔‘

اس ہوائی جہاز کے مسافروں کے لیے یونائیٹیڈ ائیرویز نے اگلے دن خصوصی جہاز بھیجا اور 8 اگست کی رات کو تمام مسافروں کو رائے پور سے روانہ کر دیا گیا۔

ہوائی جہاز کے پائلٹ اور دیگر اہلکار بھی بنگلہ دیش لوٹ گئے لیکن جہاز رائے پور ائیرپورٹ پر ہی کھڑا رہ گیا۔

،تصویر کا ذریعہALOK PRAKASH PUTUL

،تصویر کا کیپشن

بنگلہ دیش کی یونائیٹیڈ ائیر ویز نے رائے پور کے سوامی وِویک آنند ائیرپورٹ میں کھڑے اپنے ہوائی جواز کو بیچ کر یہ پارکِنگ فیس ادا کرنے کا وعدہ کیا

جلدی لے جانے کا وعدہ

ہنگامی صورتحال میں اس ہوائی جہاز کی لینڈنگ کے 24 دن بعد بنگلہ دیش سے یونائیٹیڈ ائیرویز کے حکام رائے پور پہنچے اور انھوں نے انجن کو بدلنے کی اجازت کے لیے سِوِل ایوی ایشن کے محکمہ کو عرضی دی۔ اس کے بعد یہ حکام بھی بنگلہ دیش لوٹ گئے۔

رائے پور ائیرپورٹ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ’یونائیٹیڈ ائیرویز کے جو افسر رائے پور آئے تھے، انھوں نے یقین دلایا تھا کہ دو ہفتے کے اندر اندر ہوائی جہاز کے انجن کی خرابی کو ٹھیک کر کے ہوائی جہاز کو واپس بنگلہ دیش لے جایا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

دستاویزات کے مطابق فروری 2016 میں یونائیٹد ائیرویز کے چار اہلکاروں کی ایک ٹیم رائے پور پہنچی اور ہوائی جہاز کے انجن کو بدل دیا گیا۔ پھر یہ تکنیکی ٹیم 17 فروری کو رائے پور سے لوٹ گئی۔

کمپنی کا کاروبار بند

اسی درمیان یونائیٹیڈ ائیرویز کے پائلٹ نے ہوائی جہاز کا معائنہ کیا اور اسے پرواز کے لیے تیار قرار دیا لیکن معاملہ بنگلہ دیشی ایوی یشن اتھارٹی کے پاس اٹک گیا اور پائلٹ کو بھی 28 فروری 2016 کو رائے پور سے لوٹنا پڑا۔

تکنیکی ٹیم اور پائلٹ کے لوٹنے کے بعد امید تھی کہ جلدی ہی اس ہوائی جہاز کی روانگی کا راستہ ہموار ہو جائے گا لیکن پائلٹ کے لوٹنے کے ایک ہفتے بعد ہی بنگلہ دیش کی یونائیٹیڈ ائیرویز نے 6 مارچ 2016 کو اپنا کاروبار بند کر دیا۔

رائے پور ائیرپارٹ کے اہلکاروں نے اس کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری اور حکام نے طے کیا کہ کم سے کم اس ہوائی جہاز کو پارکنگ سے تو ہٹا ہی دیا جانا چاہیے۔

پارکِنگ کا مسئلہ

ان دنوں آٹھ ہوائی جہازوں کی پارکِنگ کی گنجائش والے رائے پور ائیرپورٹ میں بنگلہ دیش کے ہوائی جہاز نے ہوائی اڈے کا بہت بڑا حصہ گھیر رکھا تھا۔

کمپنی کے حکام سے رابطہ کیا گیا اور مسلسل ای میلز کے بعد 20 جولائی 2018 کو یونائیٹیڈ بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ مینیجر عنایت حسین رائے پور پہنچے۔ ان کی موجودگی میں ہوائی جہاز کو رائے پور ائیرپورٹ کے رن وے سے ہٹا کر 300 میٹر کی دوری پر کھڑا کر دیا گیا۔

رائے پور ائیرپورٹ کے ایک اہلکار نے کہا ’سنہ 2015 میں جب یہ ہوائی جہاز ہوائی اڈے پر اترا تھا تو کچھ دن تک ہمارے جیسے لوگ فی گھنٹہ 320 روپے پارکنگ فیس کے حساب سے دل ہی دل میں جوڑا کرتے تھے۔ پھر ہم مہینوں کا حساب جوڑنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے بات برسوں تک پہنچ گئی۔ اب تو لگتا نہیں کہ رائے پور ائیرپورٹ کو کبھی پارکنگ فیس ملے گی اور 48 ملین ڈالر قیمت کے ہوائی جہاز کی قسمت میں بھی کباڑ بن جانا طے ہے۔‘

حالانکہ ہوائی جہازوں کے ماہر راجیش ہانڈا کا کہنا ہے کہ کسی ہوائی جہاز کو مرمت کے بعد پھر سے استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے لیکن اتنے برس تک کھڑے رہنے کی وجہ سے مرمت کا کام کافی مہنگا ہو گا۔

اس کے علاوہ اگر اسے فروخت کیا جائے گا تب بھی اس کے لیے بہت کم قیمت ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہوائی جہاز کو عام طور پر دوسری فضائی کمپنیاں ہی خریدتی ہیں، جو یا تو مرمت کے بعد اسے استعمال کے قابل بنا لیتی ہیں یا پھر مرمت ممکن نہ ہونے کی صورت میں اس کے الگ الگ پرزوں کا استعمال کرتی ہیں۔

راجیش ہانڈا کہتے ہیں ’اتنے برس تک جیسے کوئی گاڑی کھڑی رہے تو اس کی حالت اور قیمت پر جو اثر پڑے گا، وہی اثر اس ہوائی جہاز پر بھی ہو گا۔ اوپر سے کورونا کے بعد بازار کی جو حالت ہے اس میں فضائی کمپنی کو تو ہر حال میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘