انڈیا، امریکہ اور روس سے تعلقات کے درمیان توازن کیسے رکھے گا؟

  • کملیش
  • نامہ نگار بی بی سی
مودی اور پیوتن

،تصویر کا ذریعہMIKHAIL SVETLOV/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

روس اور انڈیا کے تعلقات کی تاریخ بہت مضبوط اور پرانی ہے

انڈیا کے لیے عالمی سطح پر بدلتے رشتوں اور ترجیحات کے درمیان نئے اور پرانے دوستوں میں توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

چین کی جانب سے درپیش چیلینج، تجارت اور دیگر امور انڈیا کو امریکہ کے قریب لا رہے ہیں اور ایسے میں روس کو مغربی ممالک کے ساتھ انڈیا کی یہ قربت راس نہیں آ رہی۔

انڈیا کے یہ نئے اور پرانے دوست یعنی امریکہ اور روس ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے الزامات پر روس اور امریکہ کے مابین اکثر تنازع ہوتا رہتا ہے اور اب امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مابین جنگ شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پیوتن کو ’خطرناک‘ سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پیوتن کو 2020 کے امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

اس کے جواب میں ولادیمیر پیوتن نے روسی ٹی وی پر امریکی صدر کو چیلنج کیا کہ وہ ان سے براہ راست پروگرام میں بات کریں۔

انھوں نے روسی سکولوں میں کی جانے والی شاعری کا استعمال کیا جس کا مطلب ہے کہ ’ہم جیسے ہوتے ہیں دوسرے ہمیں ویسے ہی نظر آتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کیا ان تعلقات میں چین ایک بڑا فیکٹر ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

روس کے اعتراضات

ادھر امریکی وزیر خارجہ لائیڈ آسٹن 19 مارچ سے انڈیا کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے اپنی آمد کے بعد وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے۔

اس دورے پر کواڈریلیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ (کواڈ) کے بارے میں بات چیت کا امکان ہے۔ امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا نے چین کی جانب سے سامنے آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کواڈ کی تشکیل کی ہے۔

تاہم روس پہلے ہی کواڈ کے بارے میں اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکا ہے۔ اس نے اپنی بھی علاقائی سلامتی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

روس اور انڈیا کے مابین 20 برسوں سے ہونے والی سالانہ کانفرنس کا انعقاد پچھلے سال نہیں ہوا تھا اور کواڈ بھی اس کی ایک وجہ سمجھی جا رہی ہے تاہم انڈیا اور روس نے اس کانفرنس کی عدم موجودگی کی وجہ کورونا کی وبا بتائی ہے۔

8 دسمبر کو ایک ویڈیو کانفرنس میں روسی بین الاقوامی امور کونسل سے خطاب کے دوران روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی ممالک انڈیا کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ روسی فوجی مشق نے بھی انڈیا کو بے چین کر دیا ہے۔

انڈیا پر امریکی دباؤ

انڈیا کی روس سے ایس 400 میزائل سسٹم کی خریداری پر امریکہ کی ترچھی نظر ہے۔ امریکی کانگریس کی ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ کی حالیہ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’روس میں بنے ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے لیے انڈیا کے اربوں ڈالر کے سودے کی سبب امریکہ (سی اے اے ٹی ایس اے) کے تحت انڈیا پر پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔

تاہم سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر جسٹر نے اس بات پر زور دے کر کہا تھا کہ ’ہم (سی اے اے ٹی ایس اے) کے تحت دوستوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہتھیاروں کی خریداری کے لیے انڈیا امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا بازار ہے جبکہ انڈیا کے لیے اسلحہ کی خریداری میں سب سے زیادہ 56 فیصد حصہ روس کا ہے۔ یہاں بھی روس امریکہ کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

انڈیا کے لیے امریکہ اور روس دونوں اہم ممالک ہیں لیکن چین سے درپیش چیلینج جبکہ روس اور امریکہ کے مابین کشیدگی کے درمیان انڈیا کے لیے اس مرحلے پر توازن قائم کرنا مشکل ہے۔

چین ایک بڑا عنصر ہے

نئی دہلی میں واقع آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اور لندن کے کنگز کالج میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر ہرش وی پنت کا کہنا ہے کہ انڈیا ہمیشہ ہی دونوں ممالک کے درمیان ایک توازن برقرار رکھتا رہا ہے لیکن آگے چل کر ان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

ہرش پنت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے منظر نامے میں روس، امریکہ اور انڈیا کی خارجہ پالیسیاں اور ترجیحات بدلی ہیں۔

’روس اب وہ روس نہیں رہا جو سرد جنگ کے دوران ہوا کرتا تھا۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا ملک ہو جو اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ اسی دوران مغربی ممالک کے دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے روس نے مغرب مخالف پالیسی اختیار کی جس میں وہ چین کو اپنے اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔‘

’چین کے ساتھ انڈیا کی محاذ آرائی کی وجہ سے انڈیا اور روس کے مفادات تقسیم ہو گئے ہیں۔ چین اور انڈیا کے مابین طویل عرصے سے ایک سرحدی تنازعہ چل رہا ہے۔ دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ چین اور پاکستان انڈیا کے لیے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔‘

’ایسی صورتحال میں امریکہ انڈیا کے لیے ایک مددگار ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ چین کے حوالے سے دونوں ممالک کے مفادات مل جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں روس اور امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات میں چین ایک بہت بڑا عنصر بنا ہوا ہے۔ ‘

انڈیاکا مسئلہ یہ ہے کہ اسے روس اور امریکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ انڈیا روس کے توسط سے امریکہ کے سپر پاور کے مقام کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ برکس اس کی ایک مثال ہے جس میں روس، چین اور انڈیا شامل ہیں۔ یہ ممالک ایک کثیر قطبی نظام کی بات کرتے ہیں۔

’تمام فریقوں کے ساتھ انڈیا کا کسی نہ کسی طرح کا رشتہ

انڈیا اور روس کے درمیان اعتماد اور مضبوط تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ ایک بڑا ملک ہے جس کے ساتھ انڈیا کے کوئی بڑے اختلافات نہیں۔ روس انڈیا کو اسلحہ فروخت کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور سرد جنگ کے دور سے یہ صورتحال برقرار ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlex Wong

،تصویر کا کیپشن

کیا امریکہ انڈیا کو اہمیت دینے لگا ہے

دفاع، تجارت، توانائی، خلا جیسے اہم اور سٹریٹجک شعبوں میں روس کی صلاحیت اور تجربہ انڈیا کے لیے مددگار ثابت ہوا ہے۔ برہموس میزائل، ایم 46 بندوق، دفاعی شعبے میں انڈیا اور روس کے مضبوط تعلقات کی اہم مثال ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ بھی انڈیا کے تعلقات کئی سطحوں پر ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین معاشی، تجارتی، ٹیکنالوجی، تارکین وطن، توانائی، دفاع اور سیاسی شراکت داری موجود ہے۔ ملکی سلامتی کے بارے میں بات کریں تو اس وقت امریکہ، چین اور پاکستان کے معاملے پر انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سنٹر فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے پروفیسر سنجے کے بھاردواج کا کہنا ہے کہ انڈیا ان ممالک میں سے کسی کا انتخاب نہیں کر سکتا۔

’یہ بھی درست نہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کی وجہ سے روس انڈیا کا مخالف اور چین کا اتحادی بن گیا۔ نہ ہی یہ درست ہے کہ انڈیا چین کا سامنا کرنے میں امریکی تعاون کو مسترد کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کئی اتحادوں کا حصہ بننے کا نقطہ نظر اپنا رہا ہے۔‘

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’تمام فریقوں کے ساتھ انڈیا کا کسی نہ کسی طرح کا رشتہ ہے۔ کسی کے ساتھ معاشی، کسی کے ساتھ سیاسی اور کسی کے ساتھ سیاسی شراکت داری۔ اسے امریکہ اور روس کے ساتھ مل کر ایک ہی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ انڈیا کو اپنے مفادات کے بارے میں بہت محتاط رہنا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہMOHD ARHAAN ARCHER

،تصویر کا کیپشن

امریکہ اور روس انڈیا کو دفاعی منڈی کے طور پر دیکھتے ہیں

دو طرفہ ضرورتیں

لیکن ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ روس اور امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات یکطرفہ نہیں ہو سکتے۔ تمام فریقین کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔

ہرش پنت کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی تعلقات مفادات پر مبنی ہوتے ہیں اور وہ بدلتے رہتے ہیں۔ یہ سرد جنگ کا دور نہیں۔ اس وقت روس اور چین بھی مختلف کیمپوں میں رہتے تھے لیکن اب دونوں ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ اسی طرح شراکت دار بھی بدل رہے ہیں۔ نہ صرف انڈیا کو امریکہ کی ضرورت ہے بلکہ روس اور امریکہ کو بھی انڈیا کی ضرورت ہے۔

سنجے بھاردواج کا کہنا ہے کہ ’روس انڈیا کو دفاعی منڈی کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ امریکہ کے خلاف حالات پیدا کرنے میں انڈیا کو ایک اہم اتحادی بھی سمجھتا ہے کیونکہ انڈیا بھی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ وہ اپنے یہاں انڈیا کی سرمایہ کاری بھی چاہتا ہے۔ کورونا ویکسین کی تیاری میں بھی انڈیا اور روس کے درمیان تعاون دیکھا گیا۔‘

امریکہ کے بارے میں بات کریں تو اس نے سنہ 2000 سے انڈیا کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ اسے انڈیا میں ایک بڑی مارکیٹ اور سٹریٹجک پارٹنر دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہم پاکستان کے بارے میں امریکہ کے بدلتے رویوں سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔

انڈیا کے ساتھ سنہ 2005 میں ایک جوہری معاہدہ بھی ہوا تھا، جس کے لیے امریکہ نے آئین میں ترمیم کی تھیں۔ اس نے انڈیا کو ترجیح دینا شروع کردی ہے۔

امریکہ کو افغانستان، پاکستان، چین، دہشت گردی اور تجارت کے معاملے میں انڈیا کے تعاون کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے ٹرمپ انتظامیہ ہو یا بائیڈن انتظامیہ انڈیا کے بارے میں امریکہ کا رویہ نہیں بدلا۔ ہو سکتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک طبقہ انڈیا کے اندرونی معاملات اٹھا رہا ہو لیکن صدر بائیڈن نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جس طرح انڈیا کے لیے روس اور امریکہ کے مابین توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے اسی طرح روس اور امریکہ بھی اتحادی کی حیثیت سے انڈیا کو کھونا نہیں چاہیں گے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ یہ ممالک کس طرح بدلتی ترجیحات میں ایڈجسٹ کرنے کے اہل ہیں۔