نریندر مودی کا عمران خان کو خط: کیا انڈیا پاکستان کے تعلقات میں بہتری سے کوئی فوری تبدیلی آ سکتی ہے؟

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کو یوم پاکستان کے روز خط بھیجنے کے بعد سے دوبارہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہونے کی امید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان امن کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا، دونوں ملکوں کے وزرا اعظموں نے ماضی میں اچھے تعلقات کی امید ظاہر کرتے ہوئے مثبت بیانات دیے ہیں۔ تاہم سکیورٹی مسائل، خاص کر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال کے پسِ منظر میں یہ باتیں صرف بیانات کی حد تک ہی رہ گئیں۔

اسی امید کو بنیاد بناتے ہوئے اگر انڈیا اور پاکستان کے باہمی اور یکطرفہ مقاصد پر نظر ڈالیں تو حالیہ دنوں میں ہونے والی پیشرفت کو ماہرین خوش آئند تو مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی متنبہ بھی کرتے ہیں کہ ان معاملات کا فوری نہیں بلکہ مرحلہ وار حل ممکن ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ پیشرفت اور پیغامات

یوم پاکستان کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے عمران خان کے نام پیغام میں لکھا ہے کہ ’انڈیا پاکستان کے عوام سے خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے‘۔

یہی نہیں، حال ہی میں جب عمران خان کو کورونا ہوا تو مودی نے انھیں صحتیابی کا پیغام بھجوایا تھا۔ فضا میں تبدیلی کے کئی دیگر آثار بھی نظر آئے ہیں جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کی جانب سے گذشتہ دنوں انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کے ضمن میں بیانات دیے گئے۔

سندھ طاس معاہدے کی سالانہ بات چیت کے لیے پاکستان کا ایک آٹھ رکنی وفد پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کی قیادت میں نئی دلی میں اپنے انڈین ہم منصبوں سے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بات چیت دو سال کے بعد ہو رہی ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

گذشتہ مہینے دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔ جنگ بندی کے اس اچانک اعلان پر سبھی کو حیرت ہوئی تھی اور کئی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دی کہ انڈیا اور پاکستان کے اہلکار حالات معمول پر لانے کے لیے پس پردہ بات چیت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPM office

،تصویر کا کیپشن

معید یوسف اپنے انڈین ہم منصب اجیت ڈووال سے ’خفیہ مذاکرات‘ کی تردید کر چکے ہیں

کیا کسی قسم کے پس پردہ مذاکرات ہو رہے ہیں؟

یہاں پر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت سفارتی حلقوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور بیانات کی وجہ ’ٹریک ٹو ڈپلومیسی‘ کو قرار دیا جا رہا ہے۔

فروری میں دونوں ممالک کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کے بعد بعض انڈین اور بین الاقوامی اخباروں نے رپورٹس شائع کی تھیں جن میں انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور ان کے پاکستانی ہم منصب معید یوسف کے درمیان ممکنہ طور پر خفیہ مذاکرات ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔

تاہم معید یوسف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس حوالے سے تردید جاری کی تھی اور کہا تھا کہ اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں۔

اس بارے میں سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کا نام بھی بارہا سامنے آتا رہا ہے۔ جب جہانگیر کرامت کے نزدیکی ذرائع سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

پاکستان انڈیا تعلقات میں بہتری اور متحدہ عرب امارات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیخ عبداللہ بن زاید النہیان: بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ 'متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ دونوں ملکوں کی بات چیت میں مسلسل رہنمائی کر رہے ہیں۔'

اس دوران دونوں ممالک میں اس حوالے سے بھی افواہیں گرم ہیں کہ پاکستان انڈیا تعلقات میں بہتری کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا کردار ہے۔

ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت کے پیچھے متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کا کردار ہے۔

اس حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی جانب سے حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق انڈیا اور پاکستان نے امن کے قیام کے لیے ایک ایسے چار رکنی 'امن کے خاکے' پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جسے 'متحدہ عرب امارات کی حکومت نے تیار کیا ہے۔'

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ 'متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ دونوں ملکوں کی بات چیت میں مسلسل رہنمائی کر رہے ہیں۔'

جہاں اس خبر کی صداقت کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، وہیں تینوں ممالک کی جانب سے اس کی تردید بھی نہیں کی گئی ہے۔

اس بارے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات رؤف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پاکستان ہمیشہ اپنے ہم خیال اور قریبی ممالک کی بات سنے گا اور انڈیا کے ساتھ معاملات پر تجویز دینے والے ممالک کو ویلکم کرے گا۔'

انھوں نے کہا کہ 'اس بات کے برعکس کہ متحدہ عرب امارات نے کہا یا امریکہ نے کہا، اس وقت اہم بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے۔ اگر تاریخ دیکھیں تو پاکستان نے پہلے بھی دیگر ممالک کی تجویز اور مدد کو خوش اسلوبی سے دیکھا ہے لیکن انڈیا نے اسے پاکستان کے ساتھ اپنا باہمی معاملہ بتا کر کسی دوسرے ملک کی دخل اندازی کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔'

یاد رہے کہ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اعتراف کر چکے ہیں کہ سعودی عرب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب نیوز کو دیے ایک انٹرویو میں جبیر نے کہا کہ سعودی عرب پورے خطے میں امن چاہتا ہے اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔

تعلقات میں حالیہ بہتری سے کیا کوئی فوری اور بڑی تبدیلی آ سکتی ہے؟

دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ دور کی تلخیوں کے بعد فضا میں اچانک کچھ مثبت تبدیلیوں کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ معین الدین حیدر نے کہا کہ 'اب فوری طور پر تو دو سے تین کام کیے جا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کو اپنے سفیر واپس بھیجنے چاہییں۔

’ویزا پالیسی میں آسانی کرنی چاہیے تاکہ دونوں جانب رہنے والے لوگ مذہبی مقامات پر باآسانی جا سکیں اور واہگہ بارڈر سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔‘

ادھر انڈیا میں روزنامہ 'دی ہندو' کے مدیر امیت بروا نے نئی دہلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انڈیا اور پاکستان کے درمیان جب بھی کوئی اچانک اعلان ہوتا ہے تو ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بیک چینل سفارتکاری ہو رہی ہے۔‘

امیت بروا کہتے ہیں کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فضا میں یہ تبدیلیاں جو بائیڈن کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد رونما ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'امریکہ کی بھی دلچسپی اس میں ہے کہ انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس مرحلے پر کوئی بڑا معاہدہ ہونا یا کوئی بڑا ایجنڈا لے کر چلنا مشکل ہو گا لیکن ہاں تجارت اور لوگوں کے آنے جانے جیسے معاملات میں دونوں ممالک فوری طور پر قدم اٹھا سکتے ہیں۔'

کشمیر کا مسئلہ

وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے پاکستان کو خط بھیجنے کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا بیان سامنے آیا تھا۔

اس میں جہاں انھوں نے مودی کی امن کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا وہیں انھوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی نشاندہی بھی کی اور کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پیش رفت ضروری ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں کشمیر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان نے اب تک جہاں اس معاملے پر دو جنگیں 1948 اور 1965 میں لڑی ہیں، وہیں اگست 2019 کے بعد سے پاکستان اس بارے میں کئی بین الاقوامی فورم پر کشمیر کی خصوصی حیثیت بلدنے کے معاملے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکا ہے اور دیگر ممالک کے سربراہان سے بات کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں پہلے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ نے بھی کہا تھا کہ برصغیر میں امن کا خواب ادھورا ہے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات رؤف حسن کا کہنا ہے کہ 'یہ معاملات ایک ایک کر کے حل ہو سکیں گے جس کے لیے وقت درکار ہے۔ پاکستان کو یہ پتا ہے کہ انڈیا کے ساتھ امن کی بات کشمیر پر بات کیے بغیر پوری نہیں ہوگی۔ کشمیر کبھی ٹیبل سے ہٹا ہی نہیں۔ تو اب بھی اگر بات چیت میں پیشرفت ہوتی ہے، جو اگست 2019 کے بعد بالکل ختم ہوگئی تھی، وہ کشمیر میں ریلیف پہنچانے سے شروع ہوگی۔'

اس ’ریلیف‘ کا مطلب جہاں ماہرین کشمیر میں لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی اٹھانے، انٹرنیٹ کی بحالی، اور قدم بہ قدم ماحول کو سازگار کرنے کو مانتے ہیں وہیں کشمیر کی قراردار کے تاریخ پر غور کرنے کا بھی کہتے ہیں۔

'انڈیا اس وقت خطے میں جنگ نہیں چاہتا

سینیٹر مشاہد حیسن کہتے ہیں کہ 'انڈیا اس وقت خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔ اس لیے انڈیا کے رویے میں تھوڑی سی لچک آئی ہے۔‘

ان کے مطابق 'اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس وقت علاقائی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ انڈیا کے کشمیر میں کیے گئے اقدامات پر بھی خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔ تو اس وقت امن کی بات کرنے کے علاوہ اور خود کو خطے کے دیگر پلئیرز سے علیحدہ رکھنا اس کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

جہاں تک خطے کی موجودہ صورتحال کی بات ہے تو اس وقت انڈیا کے لیے افغانستان میں امن اور خاص طور سے امریکہ کے امن پلان کا حصہ بننا خاصا اہم ہے۔

تھوڑا سا پیچھے جائیں تو پاکستان نے بارہا انڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مختلف سیشن کے ذریعے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی لابی کی ہے تاکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکا جا سکے۔

اس بارے میں معین الدین حیدر نے کہا کہ ’جیشِ محمد ہو یا پھر لشکرِ طیبہ اس معاملے پر تو اس لیے بھی اب انڈیا کو الزامات عائد نہیں کرنے چاہییں کیونکہ اب تو ان گروہوں کا زور توڑا جا چکا ہے اور باڑ لگائی جا چکی ہے۔ تو اب اعتماد پیدا کرنے کا وقت ہے۔‘

لیکن اس دوران پاکستان کی افغان امن عمل میں بطور ثالث شمولیت اور امریکی صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کا صدر منتخب ہونا انڈیا کے لیے خطے میں اپنی پوزیشن کے بارے میں سوچنے کے لیے ایک غور طلب موقع ضرور بن چکا ہے۔

مشاہد حسین کہتے ہیں کہ ’بائیڈن کے آنے کا مطلب ہے کہ اگلے دو سے تین سال تک امریکہ کا انحصار پاکستان پر رہے گا اور ایسے میں دشمنی مول لینا خود کو خطے میں اور عالمی سطح پر علیحدہ کرنے کے مترادف ہو گا۔‘

دوسری جانب، ایک اور مسئلہ انڈیا کی چین سے جھڑپ اور چین کی پاکستان سے قربت سے جُڑا ہے۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان مئی 2020 اور جنوری 2021 میں جھڑپیں ہونے کے بعد اور پاکستان اور چین کی بڑھتی قربت اور اتحاد کے نتیجے میں انڈیا مشرقی اور شمالی سرحد سے پھنس جائے گا۔

مشاہد حسین کہتے ہیں کہ ’اس کے ساتھ ہی جو مودی حکومت کی اندرونی مشکلات ہیں جن میں کووڈ 19، معیشت اور کسانوں کی جدوجہد شامل ہیں، یہ انڈیا کو یو ٹرن لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔‘

جبکہ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات رؤف حسن نے بتایا کہ 'افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار مشرق اور مغرب کے درمیان راستہ استوار کرنے والے کے طور پر رہے گا۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں اپنے مختلف آپشنز کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ملک کو جغرافیائی حکمت عملی سے ہٹا کر جغرافیائی معیشت کے طور پر دیکھا جائے۔'

رؤف حسن نے کہا کہ 'اس وقت ہم اندازہ ہی لگا سکتے ہیں اور دونوں اطراف کو سانس لینے اور آگے کے معاملات کا بغور جائزہ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔'