بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 سال: ’بدقسمتی سے میں نے اس جنگ میں اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو کھو دیا‘

  • منیش پانڈے
  • نیوز بیٹ رپورٹر
Joy Crookes and Bangladesh flag

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’جان دیے بغیر کچھ نہیں ملتا۔ بدقسمتی سے میں نے اس جنگ میں اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو کھو دیا۔‘

پچاس سال پہلے بنگلہ دیش نے ایک تنازع کے بعد پاکستان سے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی بنگالی ماں اور آئرش والد کے ہاں پیدا ہونے والی برطانوی گلوکارہ جوئے کروکس کے لیے مارچ کا مہینہ ایک جذباتی وقت ہے۔

انھوں نے ریڈیو ون نیوز بیٹ کو بتایا ’مجھے فخر محسوس ہوتا ہے۔ بنگالیوں کی دوسری نسل کی حیثیت سے یہ دن میری زندگی کا حصہ ہے اور میری زندگی سے جڑی ہر چیز پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘

’جنگ نے ہماری زندگیوں کو مشکل بنا دیا کیونکہ ہمارے خاندان کے بہت سارے مرد ہلاک ہو گئے اور میں اس زندگی کے لیے بہت شکر گزار ہوں۔ اس کہانی کو سنانے کے لیے اپنی آواز اور موسیقی کو استعمال کرنے کے قابل ہونے پر بے حد شکرگزار ہوں۔‘

بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 ویں سال کے موقع پر بی بی سی ایشین نیٹ ورک نے 22 سالہ نوجوان گلوکارہ کے لیے موسیقی کا ایک سیشن رکھا جس میں انھوں نے پہلی مرتبہ بنگالی میں پرفارمنس دی۔

یہ بھی پڑھیے

جوئے کا کہنا ہے کہ بنگالی زبان میں پرفارم کرنا ’واقعی اہم اور ایک بہت بڑی کامیابی‘ ہے کیوںکہ اس زبان کو سیکھنے میں کافی وقت لگا ہے۔

’جب کوئی ملک اپنی آزادی کی جنگ لڑتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے لڑ رہا ہوتا ہے بلکہ اپنے فن، موسیقی، کہانیوں، نظموں کے لیے بھی لڑتا ہے۔‘

جوئے کے لیے مغرب کے ایک سٹیج پر بنگلہ دیشی گلوکارہ کے طور پر اپنی آواز کا استعمال کرتے ہوئے مزید فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ’جنگ کی آگ سے ایندھن بنانے جیسا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہمارے خاندانوں نے اسی لیے جدوجہد کی تاکہ ہم اس جگہ پہنچ سکیں جہاں ہم آواز اٹھا سکتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں سزا نہیں دی جاتی۔‘

سنہ 1971: بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مشرقی پاکستانیوں (جو بعد میں بنگلہ دیش کے شہری بنے) نے خود مختاری کے حق میں ووٹ دیا اور مغربی پاکستان نے اس کا جواب اپنی فوج بھیج کر دیا۔

ہزاروں عورتوں کا ریپ کیا گیا، یونیورسٹی میں طلبا اور پروفیسرز پر حملے کیے گئے اور ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ مشرقی پاکستانی شہری انڈیا فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔

انڈیا نے مشرقی پاکستانی عوام کی حمایت میں حملہ کیا اور اس کے فوراً بعد ہی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بن گیا۔

ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں میں نسل کشی ہوئی اور 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، آزاد محققین کا کہنا ہے کہ یہاں پانچ لاکھ تک ہلاکتیں ہوئیں۔

’لوگوں تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے خود آواز اٹھانی ہوگی

جوئے کے لیے اپنی ثقافت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

’یہ سب کچھ میوزک ویڈیو یا میرے گلوکارہ بننے سے شروع نہیں ہوا تھا۔ اس کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں ’میں ایک غیر سفید فام عورت ہوں اور میں نے خود میں ایک خلا محسوس کیا جسے تلاش کرنے اور سمجھنے کی ضرورت تھی۔‘

لیکن جوئے جس طرح کی موسیقی ترتیب دیتی ہیں وہ ان کی شخصیت اور کہانیوں کی عکاس ہے۔

’آدھی بنگلہ دیشی اور آدھی آئرش ہونے کی وجہ سے دونوں ثقافتیں کہانیاں سنانے میں ناقابل یقین ہیں۔‘

’بنگالی زبان میں کہانیاں سنانا یا کسی منظر کی منظر کشی کرنا بہت ہی خوبصورتی سے ممکن ہے۔ خاص طور پر جیسے آنٹیاں کہانیاں سناتی ہیں۔‘

آزادی کی جنگ کی وجہ سے جوئے محسوس کرتی ہیں کہ ان کے پاس بولنے کی آزادی ہے۔

’میرے ذہن میں جو بھی ہو میں وہ کہہ سکتی ہوں لیکن میرے خاندان کے افراد کو بولنے کی آزادی نہیں تھی۔ اور میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں ایسا کر سکتی ہوں۔‘

’جب آپ کسی ایسی ثقافت یا پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں جہاں اپنی بات کہنے کے لیے بھی لڑنا پڑے، تو آپ کو لوگوں تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے خود آواز اٹھانا ہوگی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جوئے کو 2020 برٹ ایوارڈز میں رائزنگ سٹار ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا

جوئے کا کہنا ہے کہ بچپن میں ان کی رنگت، لباس اور جس طرح کی موسیقی وہ سنتی تھیں اس سب کی وجہ سے ان کی ’تضحیک‘ کی جاتی رہی۔ حتیٰ کہ انھیں یہ تک کہا گیا کہ ان سے ’سالن کی بو‘ آتی ہے۔

لیکن پچھلے سال برٹ ایوارڈز میں جوئے نے روایتی لہنگا پہننے کا انتخاب کیا۔

’یہ صرف بنگلہ دیشی ثقافت کی نمائندگی کرنے کی بات نہیں بلکہ یہ میری خود کی نمائندگی ہے۔ میں یہ محسوس کرنا چاہتی ہوں کہ میں جہاں بھی جاؤں، کوئی بھی وہاں میری موجودگی پر سوال نہیں کر سکتا ہے۔‘

’اگر میں کسی ایوارڈ کی تقریب میں جا رہی ہوں تو میں وہاں کوئی اور بن کر نہیں جا سکتی، میں وہی بن کر جاؤں گی جو میں ہوں۔ اور میری ثقافت میری ذات کا حصہ ہے۔‘

جوئے کا کہنا ہے کہ مغربی میوزک ریڈ کارپٹ پر باقیوں سے مختلف کپڑے پہننا ان جسمانی اذیتوں کے مقابلے بہت معمولی ہے جس سے ان کا خاندان گذرا ہے۔

اور اگر اس سے اپنی شناخت کو لے کر الجھن کے شکار افراد کی مدد ہوتی ہے تو اس سے بہتر کیا ہو گا۔

جوئے کہتی ہیں ’اگر اس سے ان لوگوں تک بات پہنچ پاتی ہے جو سوچتے ہیں کہ انھیں روایتی لباس اور ثقافت پر فخر کرنے کی اجازت نہیں ہے تو یہ بہت زبردست ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’آپ کی شناخت آپ پر منحصر ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ آج کل کے نوجوان کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں اور وہاں جا کر انھیں ایسا ہی محسوس ہو گا کہ ان کا تعلق اسی جگہ سے ہے۔‘