مودی کے دورۂ بنگلہ دیش کے خلاف مظاہروں میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہBD PM OFFICE

،تصویر کا کیپشن

انڈین وزیر اعظم سنیچر کے روز بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی قبر پر گئے

بنگلہ دیش میں انڈین وزیر اعظم کے دورے کے خلاف پانچ مظاہرین کی ہلاکت کے بعد اتوار کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

اُدھر فیس بک نے کہا ہے کہ ملک کے اندر اس کی ویب سائٹ اور میسجنگ ایپ جمعے کے روز سے بند ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے 50 ویں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی خصوصی دعوت پر دو روزہ دورے پر جمعے کے روز ڈھاکہ پہنچے تھے۔

گذشتہ برس کورونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد یہ نریندر مودی کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

حفاظت اسلام کے کارکن ڈھاکے کی سڑکوں پر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ بنگلہ دیش کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

ہڑتال کی کال 'حفاظتِ اسلام' نامی سخت گیر مذہبی تنظیم نے دی ہے۔ یہ تنظیم وزیر اعظم نریندر مودی پر سنہ 2002 میں جب وہ انڈین ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، وہاں مسلم کُش فسادات کے لیے لوگوں کو بھڑکانے کا الزام لگاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ کے علاقے ہتازاری میں اسے اس وقت مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس فائر کرنی پڑی جب ایک بڑے مجمع نے سکیورٹی فورسز پر حملہ اور پتھراؤ شروع کر دیا۔گولیاں لگنے سے کئی افراد زخمی ہوگئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مودی کے خلاف بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی مظاہرے ہوئے جن میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ مظاہرے جمعے کی نماز کے بعد شروع ہوئے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق فیس بک نے سنیچر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ہم جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے اندر ہماری سروسز کو بند کر دیا گیا۔ ہم اس کی وجوہات سمجھنے کی کوشش کر رہے اور اپنی خدمات تک جلد مکمل رسائی کی توقع رکھتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

حفاظتِ اسلام نے اتوار کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے

بنگلہ دیش کی حکومت نے فیس بک اور اس کے میسنجر پر پابندی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ماضی میں بھی وہ انٹرنیٹ پابندی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔

انڈین وزیر اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ سنیچر کے روز بھی جاری رہا اور سینکڑوں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

مظاہرین نریندر مودی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

بنگلہ دیش کا قیام 1971 میں عوامی احتجاج، انڈیا نواز مسلح تحریک اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

انیس سو ستّر کے عام انتخابات میں شیخ مجیب کی جماعت عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان (حالیہ بنگلہ دیش) میں زبردست کامیابی اور پورے ملک میں واضح برتری حاصل کی تھی۔ تاہم منتخب جماعت کو اقتدار کی منتقلی میں تاخیری حربوں کے نتیجے میں پاکستان کے مشرقی حصے میں بے چینی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جو بالآخر بنگلہ دیش کی آزادی پر منتج ہوا۔

بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی میں انڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔