انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا نوجوان اپنا بازو کھونے کے باوجود ماہر آف روڈ ڈرائیور کیسے بنا؟

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
کشمیر

،تصویر کا ذریعہCourtesy Saayer Abdullah

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی سائیر عبداللہ دشوارگزار اور پُرخطر سے پہاڑی راستوں پر گاڑی چلاتے ہیں مگر ان کے آف روڈنگ یعنی کچے راستوں پر گاڑی چلانے کی صلاحیت کو جو بات مزید خاص اور حیران کن بناتی ہے، وہ یہ کہ عبداللہ اپنی ساری ڈرائیونگ صرف بائیں ہاتھ سے کرتے ہیں کیونکہ اُن کے دائیں بازو کو بچپن میں ایک حادثے کی وجہ سے کاٹ دیا گیا تھا۔

کئی سال گزر جانے کے بعد بھی سائیر عبداللہ ہسپتال کا وہ منظر ابھی تک نہیں بھولے ہیں جب ہوش آنے کے بعد اُنھیں احساس ہوا کہ اُن کا ایک بازو کاٹ دیا گیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اننت ناگ کے ‘سینٹ لیِوکس کانونٹ‘ سکول کے طالبعلم سائیر عبداللہ جب صرف 11 سال کے تھے تو ان کی سکول بس بریک فیل ہونے کے بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔

اس حادثے میں ایک پانچ برس کے بچے کی موت بھی ہوئی اور کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

سائیر عبداللہ کو شدید زخمی حالت میں سرینگر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں فوری طور اُن کا آپریشن ہوا جس میں ڈاکٹرز کو اُن کا دائیاں بازو کاٹنا پڑا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہCourtesy Saayer Abdullah

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’جب مُجھے ہوش آیا تو ممی اور پاپا مُجھے میرا دائیاں بازو چُھونے سے منع کررہے تھے۔ سب لوگ مُجھے اِدھر اُدھر کی باتوں میں اُلجھا رہے تھے لیکن میں نے خود کو چھُوا تو محسوس کیا کہ میرا بازو نہیں ہے۔ میں ایک دم خاموش ہوگ یا، مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا بولوں۔‘

سائیر عبداللہ کہتے ہیں کہ تین ماہ تک ہسپتال میں قیام کے دوران اُن کے والد نے اُنھیں ایسے متعدد مریضوں سے ملوایا جو بستر پر پڑے موت کے انتظار میں تھے۔

’پاپا نے بتایا کہ ایک بازو کھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ زندگی پڑی ہے، تم دیکھ سکتے ہو، بات کرسکتے ہو، چل پھر سکتے ہو۔ ان کی باتوں نے مُجھے بہت حوصلہ دیا۔‘

نہایت کم سِنی میں ہی معذور ہونے کی وجہ سے سائیر عبداللہ پریشان تو تھے تاہم اُن کے والدین نے ایک عام نوجوان کی طرح اُن کی پرورش کی۔

’میرے پاپا کہتے تھے کہ سائیر کی مدد نہ کرو کیونکہ اُسے زندگی میں کسی پر بوجھ نہیں بننا۔ ممی کپڑے دیتی تھی اور کہتی تھی کہ پہنو، میں بہت کوشش کے بعد پہن پاتا تھا۔ پاپا کہتے تھے جوتوں کے تسمے خود باندھو، اس طرح مُجھے اپنا سارا کام خود کرنے کی ٹریننگ دی گئی اور آج میں معذور نہیں بلکہ نارمل ہوں۔‘

حادثے کے بعد سائیر عبداللہ سکول بس میں ڈرائیور کے قریب بیٹھتے تھے کیونکہ انھیں گاڑی چلانے کا بہت شوق تھا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Saayer Abdullah

’ڈرائیور کے ساتھ میری دوستی ہو گئی تھی۔ میں اکثر سوال کرتا تھا اور وہ مجھے سمجھاتے تھے کہ سٹیرنگ، بریک، ایکسیلریٹر اور کلچ کا کیا کیا کام ہے۔ اس طرح میرے ذہن میں ایک خیال تھا کہ گاڑی کیسے چلاتے ہیں۔ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ میرا ایک ہی بازو ہے۔‘

سائیر عبداللہ کی عمر 14 سال تھی جب اُن کے ایک رشتے دار اپنی گاڑی میں ان کے گھر آئے۔

’گاڑی دیکھ کر میں خوش ہوا اور کسی طرح چابی چرانے میں کامیاب ہو گیا اور گاڑی نکال دی لیکن تھوڑی دُور جا کر میں خود رُک گیا۔ میں حیران بھی تھا اور خوش بھی کیونکہ بغیر کسی کے سکھائے میں گاڑی چلا چکا تھا۔‘

سائیر عبداللہ کے شوق کی وجہ سے ہی اُن کے والد نے گاڑی خریدی جو سائیر کے بڑے بھائی چلاتے تھے لیکن سائیر بھی اپنے بھائی کے ساتھ قریبی ندی پر جایا کرتے تھے جہاں وہ گاڑی کو صاف کرتے تھے۔

’وہ راستہ بہت خراب اور مشکل تھا۔ میں نے کئی بار اس پر گاڑی چلائی لیکن ایک ہی بازو سے سٹیرنگ پکڑنا اور گئیر بدلنا بہت مشکل تھا، لیکن میں نے دھیرے دھیرے اس پر قابو پا لیا۔‘

بعد میں سائیر عبداللہ نے یوٹیوب پر آف روڈ ڈرائیونگ کے مقابلے دیکھے تو اُن پر جنون سوار ہو گیا اور انھوں نے اپنے والدین سے گاڑی کے لائسنس کے لیے اصرار کیا۔

لائسنس حاصل کرنے کا تجربہ بھی سائیر عبداللہ کے لیے ایک منفرد تجربہ تھا۔

’میں نے باقاعدہ درخواست آن لائن جمع کروائی اور مجھے گاڑی چلانے کے ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا۔ چونکہ میرا مصنوعی بازو ہے جس پر سِیلیکون کا ہاتھ بھی بنا ہوا ہے، تو میں نے کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا کہ میرا ایک ہی بازو ہے۔ میں نے ٹرائل دی اور کامیاب رہا، اس واقعے نے میرے اعتماد میں اضافہ کیا۔‘

’کشمیر آف روڈ کلب‘ کے نگران علی ساجد بھی تذبذب میں مبتلا ہو گئے جب سائیر عبداللہ نے اُن کے کلب میں شامل ہونے کی درخواست دی۔

ساجد کہتے ہیں ’میں سچ ہی کہوں گا۔ مجھے ڈر لگا اور میں سوچنے لگا کہ ایک بازو نہیں، ایسے میں یہ لڑکا پہاڑ پر کیا گاڑی چلائے گا۔ میں نے بس ایسے ہی دل رکھنے کے لیے کہہ دیا کہ چلو دیکھ لیتے ہیں کسی دن لیکن جب میں نے سائیر کو گاڑی چلاتے دیکھا تو میں حیران ہو گیا کہ وہ تو تندرست اور دونوں ہاتھ رکھنے والے ڈرائیور سے بھی بہتر اعتماد کے ساتھ گاڑی چلاتے ہیں۔‘

اس وقت سائیر عبداللہ قانون کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن آف روڈ ڈرائیونگ اُن کا جنون ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اب کار ریسنگ کی سوچ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں یہ بھی کر پاوٴں گا۔‘

یوں تو سائیر عبداللہ کو والدین، دوستوں اور سماجی اداروں کا بھر پور تعاون حاصل رہا ہے لیکن کبھی کبھار ایسے لوگ بھی ملے جن کی باتیں حوصلہ شکن تھیں۔

’مجھے معلوم ہے کہ میں معذور نہیں ہوں۔ ایک بار جموں میں گاڑی کے گیراج میں ایک صاحب ملے اور کہا کہ اپنے اس نقلی بازو پر پردہ کرو، میں نے کہا جناب میں آپ سے بہتر ڈرائیور ہوں۔‘