چھتیس گڑھ: انڈیا کو مطلوب ماؤ نواز باغی رہنما ماڈوی ہڈما کون ہیں جن کو گرفتار کرنے کی کوشش میں 22 انڈین فوجی مارے گئے

  • بالا ستیش
  • بی بی سی تیلگو
ماؤنواز

،تصویر کا ذریعہCGKHABAR/BBC

،تصویر کا کیپشن

بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ماڈوی ہڈما بہت ’نرم گو انسان‘ ہیں اور ’احترام کے ساتھ‘ گفتگو کرتے ہیں

انڈیا کی مشرقی ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے بیجا پور میں سنیچر کے روز ماؤ نواز باغیوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں 22 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے میں ماؤ نواز باغی رہنما ماڈوی ہڈما کا نام لیا جا رہا ہے۔

تین اپریل کو انڈین سکیورٹی فورسز کے اہلکار ’پیپلز لبریشن گوریلا آرمی‘ کی بٹالین نمبر ون کے کمانڈر ماوی ہڈما کو پکڑنے نکلے تھے۔ فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ بیجا پور میں باغی رہنما ہڈما اور ان کے ساتھی موجود ہیں۔

لیکن جیسے ہی فورسز کے اہلکار وہاں پہنچے تو ماؤ نواز باغیوں نے اُن پر حملہ کر دیا۔ اس جھڑپ میں 22 فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ بہت سے زخمی۔

40 سالہ ماؤ نواز باغی رہنما ماڈوی کو گذشتہ دس برسوں کے دوران ڈنڈاکارنیا میں ہونے والی متعدد ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

وہ لوگ جو ماڈوی ہڈما کو جانتے اور ان سے ملتے ہیں اکثر حیران رہ جاتے ہیں کہ ’کیا ایک شخص بیک وقت بہت سی اور اتنی خطرناک منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟‘

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی نے ان لوگوں سے بات کی جنھوں نے ماؤ نواز باغی تنظیم میں کام کیا ہے اور اب اس سے الگ ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد نے دعویٰ کیا کہ وہ ماڈوی ہڈما سے مل بھی چکے ہیں۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ماڈوی ہڈما بہت ’نرم گو انسان‘ ہیں اور ’احترام کے ساتھ‘ گفتگو کرتے ہیں۔ جو لوگ ان سے مل چکے ہیں وہ یہ سوچ کر حیران ہیں کہ یہ شخص اتنی تباہی کیسے پھیلا سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ہڈما زیادہ بات نہیں کرتے اور وہ نئی چیزیں سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

لیکن ہڈما نے ماضی میں لگ بھگ دس مرتبہ سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے اور وہ سینکڑوں انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔

اس کا آغاز کیسا ہوا؟

ماڈوی ہڈما سنہ 1996 میں ماؤ نواز تنظیم سے وابستہ ہوئے۔ اس وقت اُن کی عمر صرف 17 سال تھی۔ ہڈما کے دو اور عرفی نام ہڈامیلو اور سنتوش بھی ہیں۔

وہ جنوبی بستر کے علاقے میں ضلع سکما کے پورورتی گاؤں کے رہائشی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس گاؤں سے 40 سے 50 ماؤ نواز باغی اُبھرے ہیں۔ ماؤ نواز باغی گروہ میں شامل ہونے سے پہلے ہڈما کھیتی باڑی کرتے تھے۔

ہڈما زیادہ بات نہیں کرتے، وہ نئی چیزیں سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے ماؤ نواز تنظیم کے لیے کام کرنے والے ایک اُستاد سے انگریزی بھی سیکھ رکھی ہے۔

ماڈوی ہڈما ہندی زبان بھی جانتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی مادری زبان نہیں ہے۔ ہڈما نے صرف ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔

ماؤنواز تنظیم کے ایک سابق ممبر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہڈما کو اس تنظیم کی اُس شاخ میں بھیجا گیا تھا جو تقریباً دو ہزار ماؤ نواز باغیوں کے لیے اسلحہ تیار کرتی تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہڈما نے وہاں نئے ہتھیار بنا کر اپنی قابلیت اور مہارت دکھائی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’وہ (ہڈما) ہتھیار تیار کرتا تھا، ان کی مرمت کرتا تھا اور دستی بم اور لانچرز کا مقامی طور پر بندوبست کرتا تھا۔‘

سنہ 2001-2002 کے لگ بھگ، ہڈما کو جنوبی بستر ڈسٹرکٹ پلاٹون میں بھیجا گیا۔ بعدازاں وہ ماؤ نواز مسلح دستے پی ایل جی اے (پیپلز لبریشن گوریلا آرمی) میں شامل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہCGKHABAR/BBC

،تصویر کا کیپشن

مقامی افراد انھیں دیوتا مانتے ہیں

تنظیم میں بتدریج ترقی

ماؤ نواز سرگرمیوں کا مطالعہ کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ 2001 اور 2007 کے درمیان ہڈما اس تنظیم کا ایک عام سا رکن تھا۔ لیکن سلوا جوڈم، جو بستر کے علاقے میں منتقل ہوئے، نے ان کو متحرک کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

ایک تجزیے کے مطابق، سلوا جوڈم کے انتقام کے جذبات نے بستر میں ماؤ نواز تنظیم کو زندہ کیا حالانکہ 1990 کی دہائی کے وسط میں وہاں یہ تنظیم اتنی مضبوط اور منظم نہیں تھی۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وہ وقت ہو سکتا ہے جب ہڈما کو بھی ماؤنواز تنظیم میں آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ایک سابق ماؤ نواز کہتے ہیں کہ ’ان کے اپنے لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم نے انھیں تشدد پر اُکسایا۔‘

مارچ 2007 میں اورپل میٹا کے علاقے میں پولیس پر حملے میں سی آر پی ایف کے 24 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ ہڈما کی سربراہی میں ہوا تھا۔

ماؤ نواز تنظیم کے ایک سابق رکن کا کہنا ہے کہ ’سی آر پی ایف اہلکاروں نے پورا گاؤں جلا دیا۔ جب ہڈما اور اس کے ساتھیوں کو اس کا پتہ چلا تو وہ پولیس کو روکنے آئے اور سی آر پی ایف پر حملہ کر دیا۔‘

تاہم بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کرتا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے گاؤں جلا دیے تھے۔

یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے قبل ماؤ نواز زیادہ تر بارودی سرنگوں پر انحصار کرتے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس تنظیم کا براہ راست پولیس سے آمنے سامنے مقابلہ ہوا تھا۔

لوگ کہتے ہیں کہ ماؤنوازوں کو بارودی سرنگوں سے بندوق کی طرف لانے میں ہڈما نے اہم کردار ادا کیا۔

ماؤنواز تنظیم کی ایک سابقہ خاتون کارکن کا کہنا ہے کہ ’تنظیم کے قائدین بھی ہڈما کی جارحیت کو دیکھ کر حیران ہوئے۔ بعد میں انھوں نے بھی ایسی ہی جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ اسی وجہ سے انھیں تنظیم میں بڑی ذمہ داریاں دی گئیں۔‘

سنہ 2008-09 میں ہڈما اس باغی تنظیم کی پہلی بٹالین کے کمانڈر بن گئے جو اس وقت نئی نئی تشکیل دی گئی تھی۔

یہ بٹالین بستر کے علاقے میں سرگرم عمل ہے۔

بعدازاں 2011 میں ہڈما ڈنڈاکرنیا سپیشل زون کمیٹی کے رکن بن گئے۔ اپریل 2010 میں تدمتلا میں ایک واقعے میں 76 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

مارچ 2017 میں بھی ماؤ نواز باغیوں کے ایک حملے میں سی آر پی ایف کے 12 اہلکار ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ہڈما ان دونوں حملوں میں ملوث تھے۔

ایک اور بات ماڈوی ہڈما کے بارے میں کہی گئی ہے کہ وہ پولیس یا فوجیوں کے ساتھ مقابلے کے دوران ماؤ نوازوں کی رہنمائی کرتے ہیں لیکن وہ خود بہت ہی کم بندوق چلاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشن

ہڈما کا لڑنے کا طریقہ جارحانہ ہے، انھوں نے متعدد زمینی لڑائیوں میں بھی حصہ لیا لیکن وہ خود بہت کم بندوق چلاتے ہیں

خود بندوق کا بہت کم استعمال

سنہ 2011 کے بعد ماؤنواز تنظیم چھوڑنے والے ایک ماؤنواز نے بتایا کہ اس تنظیم میں ہڈما کے بارے میں ایک دلچسپ گفتگو ہوتی تھی۔

ہڈما کا لڑنے کا طریقہ جارحانہ تھا، انھوں نے متعدد زمینی لڑائیوں میں بھی حصہ لیا لیکن وہ خود بہت کم بندوق چلاتے ہیں۔ جب تک انتہائی مجبوری نہ ہو ہڈما بندوق نہیں اٹھاتے۔ ان کی قیادت میں ٹیم بہت فعال طور پر کام کرتی ہے۔ تاہم وہ میدان جنگ سے دور نہیں رہتے، بلکہ اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

ایک سابق ماؤنواز کہتے ہیں کہ ’حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت ساری لڑائیوں میں حصہ لینے کے بعد بھی انھیں ایک مرتبہ بھی معمولی چوٹ تک نہیں آئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ سنہ 2012 کے بعد زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔‘

ماؤ نواز باغی کے حیثیت سے طویل سفر

ماضی میں بھی بہت سے بڑے ماؤ نواز باغی رہنماؤں کے نام سامنے آئے ہیں۔ لیکن ان سب نے عجلت میں پولیس پر حملہ کرنے کے باعث شہرت کمائی۔ کہا جاتا ہے کہ ماؤ نواز قائدین جو جلد بازی کرتے ہیں اور غلط کام کرتے ہیں مارے جاتے ہیں یا ہتھیار ڈال دیتے ہیں، ہڈما ان سب سے مختلف ہیں۔

متعدد پولیس اہلکاروں نے تصدیق کی کہ اس مقابلے کے وقت ہڈما موقع پر موجود تھے۔ کچھ پولیس عہدیداروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہڈما کے علاوہ سنٹرل ملٹری کمیشن کے سربراہ دیو جی اور تلنگانہ کمیٹی کے سیکریٹری ہری بھوشن بھی وہاں موجود تھے۔

مقامی طور پر ہیرو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہڈما کو بستر کا ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک مقامی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔ ہڈما کے بارے میں مقامی نوجوانوں میں ایک جنون ہے۔

ڈنڈاکرنیا میں رپورٹنگ کرنے والے ایک مقامی صحافی نےبتایا کہ ’مقامی لوگ انھیں دیوتا کی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ سب کی بات غور سے سُنتے اور اس کو اپنے پاس لکھتے ہیں، یہ ان کی عادت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ غلط ہے کہ ہڈما نے بیرون ملک سے ٹریننگ لی ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں انھوں نے آج تک کوئی بڑا شہر نہیں دیکھا۔ وہ ڈنڈکارنیا یا بستر سے آگے نہیں گئے ہوں گے۔ ہڈما کی جانب سے ملک کی مرکزی شاہراہوں پر سفر کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہیں۔‘

حال ہی میں ہڈما کے سر پر لاکھوں روپے کا انعام رکھا گیا تھا۔ ہندو اخبار نے ستمبر 2010 میں لکھا تھا کہ ہڈما ماؤ نوازوں کی مرکزی کمیٹی کے رکن بن گئے تھے جسے ماؤنواز تنظیم کی اعلیٰ جماعت سمجھا جاتا تھا۔

تاہم پولیس انٹیلیجنس کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہڈما ابھی تک مرکزی کمیٹی کا رکن نہیں بن سکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ واضح نہیں ہے کہ ہڈما سینٹرل کمیٹی میں ہیں یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ماؤ نواز باغی تنظیم کا ڈھانچہ

انڈیا کی ماؤ نواز باغیوں کی کمیونسٹ پارٹی کی تین اہم شاخیں ہیں۔ پہلی: پارٹی، دوسری: مسلح افواج اور تیسری: جنتا سرکار۔

اس کے تحت پہلی اور سب سے اہم شاخ پارٹی ہے جو اس کی تنظیمی ترقی کو دیکھتی ہے اور پارٹی ان کے لیے سپریم باڈی ہے۔

یہ ایک مرکزی کمیٹی، ایک ریاستی کمیٹی اور زون پر مبنی کمیٹی پر مشتمل ہے۔ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

مسلح افواج اور جنتا حکومت بھی اس کے تحت کام کرتی ہیں۔

مسلح افواج: ان کا کام پولیس سے لڑنا ہے۔ اگرچہ تمام ماؤنواز بندوق رکھتے ہیں لیکن اس شاخ میں شامل لوگ بنیادی طور پر لڑتے ہیں۔ اسے پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کہا جاتا ہے۔

جنتا سرکار: یہ انقلابی جنتا سمیتی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے زیر کنٹرول علاقوں کو ’آزاد علاقے‘ کہا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں وہ ایک طرح سے حکومت چلاتے ہیں اور مکمل انتظامات کرتے ہیں۔

ان علاقوں میں رہنے والے افراد کو صحت کی سہولیات، تعلیم اور زراعت سے متعلق سہولیات ملتی ہیں۔ وہ خاص طور پر ملیریا اور اسہال جیسی بیماریوں میں قبائلیوں کو علاج مہیا کرتے ہیں۔