منگل پانڈے: جب 1857 کے ’ہیرو‘ نے پھانسی سے قبل خود کشی کی کوشش کی

  • اننت پرکاش
  • بی بی سی کے نامہ نگار
منگل پانڈے

،تصویر کا ذریعہHulton Archive

منگل پانڈے ایسٹ انڈیا کمپنی میں بھرتی ہونے والے ایک انڈین سپاہی تھے جو سنہ 1857 کی جنگِ آزادی میں بغاوت کی پہلی چنگاری ثابت ہوئے۔ منگل پانڈے کو برطانوی اہلکاروں نے 8 اپریل 1857 کو بغاوت کے الزام میں پھانسی لگا دی تھی۔

مقامی جلادوں نے منگل پانڈے کو پھانسی دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اس کام کے لیے کولکتہ سے چار جلادوں کو طلب کیا گیا تھا۔

منگل پانڈے 19 جولائی 1827 کو پیدا ہوئے تھے۔ پھانسی سے کئی دن قبل انھوں نے خود کو جان سے مارنے کی کوشش بھی کی تھی جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔

29 مارچ، 1857 کی کہانی

یہ 29 مارچ 1857 کا دن تھا، منگل پانڈے بیرک پور میں 34 ویں بنگال نیٹو انفنٹری میں تعینات تھے۔

ان دنوں سپاہیوں میں طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی تھیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ سپاہیوں کو عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ان افواہوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ یورپی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستانی فوجیوں کو مارنے آ رہی ہے۔

مورخ کم اے ویگنر نے 29 مارچ کے واقعے کا ذکر اپنی کتاب 'The Great Fear of 1857 - Rumors, Conspiracies and Making of the Indian Uprising' میں اس واقعے کی وضاحت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPIB

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ویگنر لکھتے ہیں ’اگرچہ سپاہیوں کے دل میں بیٹھے خوف کو جانتے ہوئے میجر جنرل جے بی ہیریسی نے ہندوستانی فوجیوں پر یورپی فوجیوں کے حملہ کرنے کی بات کو افواہ قرار دیا، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہیراسی نے ان افواہوں کی تصدیق کر دی تھی جس کی وجہ سے صورتحال خراب ہو گئی۔ میجر جنرل کی اس تقریر سے خوفزدہ ہونے والے سپاہیوں میں 34 ویں بنگال نیٹو انفینٹری کے منگل پانڈے بھی تھے۔‘

ویگنر لکھتے ہیں ’شام کے چار بج رہے تھے۔ منگل پانڈے اپنے خیمے میں بندوق کی صفائی کر رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد انھیں یورپی فوجیوں کے بارے میں معلوم ہوا۔ بے چینی کی کیفیات اور بھنگ کے نشے سے متاثر منگل پانڈے گھبرا گئے۔ منگل پانڈے، اپنی سرکاری جیکٹ، ٹوپی اور دھوتی پہنے ہوئے، اپنی تلوار اور بندوق لے کر کوارٹر گارڈ عمارت کے قریب پریڈ گراؤنڈ کی طرف بھاگے۔‘

برطانوی مورخ روزی جونز نے منگل پانڈے کی جانب سے دو برطانوی فوجی افسروں پر حملہ کرنے کے واقعے کا ذکر اپنی کتاب "The Great Uprising in India, 1857 - 58 Untold Stories, Indian and British" میں کیا ہے۔

جونز لکھتی ہیں ’تلوار اور بندوق سے لیس منگل پانڈے نے کوارٹر گارڈ (عمارت) کے سامنے گھومتے ہوئے اپنی رجمنٹ کو بھڑکانا شروع کیا تھا۔ وہ رجمنٹ کے جوانوں کو یہ کہہ کر اُکسا رہے تھے کہ یورپی فوجی انھیں ہلاک کر دیں گے۔ سارجنٹ میجر جیمز ہیوسن اس سارے واقعے کے بارے میں جاننے کے لیے پیدل نکل آئے اور اس پورے واقعے کے عینی شاہد حولدار شیخ پلٹو کے مطابق، پانڈے نے ہیوسن پر فائرنگ کی۔ لیکن یہ گولی ہیوسن کو نہیں لگی۔‘

،تصویر کا ذریعہHulton Archive

منگل پانڈے کا تلوار سے حملہ

جونز لکھتی ہیں ’جب ایڈجوٹنٹ لیفٹیننٹ باغ کو اس بارے میں بتایا گیا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچے جہاں انھوں نے پانڈے کو اپنی بندوق بھرتے ہوئے دیکھا تھا۔‘

منگل پانڈے نے ایک بار پھر گولی چلا دی تاہم نشانہ پھر چوک گیا۔ باغ نے بھی اپنے پستول سے پانڈے کو نشانہ بنایا لیکن گولی نشانے پر نہیں لگی۔

منگل پانڈے کے بعد ایک اور سپاہی ایشوری پرساد پانڈے کو پھانسی دی گئی تھی۔

مورخ کم اے ویگنر نے اس سپاہی کے بارے میں لکھا ہے ’جب سارجنٹ میجر ہیویسن نے ایشوری پانڈے سے منگل پانڈے کو پکڑنے کے لیے کہا تو ایشوری پرساد نے جواب دیا ’میں کیا کرسکتا ہوں، میرے نائیک ایڈجوٹنٹ کے پاس گئے ہیں، حوالدار فیلڈ آفیسر کے پاس گئے ہیں، کیا میں اکیلے ہی اس پر قابو پاؤں؟‘

،تصویر کا ذریعہNATIONAL ARCHIVES

،تصویر کا کیپشن

8 اپریل 1857 کا وہ خط جس میں منگل پانڈے کو پھانسی دینے کی اطلاع دی گئی تھی

جونز اس تنازع کے بارے میں مزید لکھتے ہیں ’منگل پانڈے نے سارجنٹ میجر اور ایڈجوٹنٹ پر اپنی تلوار سے حملہ کیا اور دونوں کو شدید زخمی کردیا۔ اس دوران، صرف ایک ہندوستانی افسر، شیخ پلٹو نے آکر برطانوی فوجی افسروں کے دفاع کی کوشش کی اور پانڈے کو حملہ نہ کرنے کا کہا لیکن پانڈے نے پلٹو پر بھی حملہ کیا۔‘

جونز کے مطابق پلٹو نے کہا ’اس کے بعد، میں نے منگل پانڈے کو کمر سے پکڑ لیا‘۔

جونز لکھتی ہیں ’لیکن اس کے بعد، جب پلٹو نے ایشوری پرساد سے منگل پانڈے کو پکڑنے کے لیے چار سپاہی بھیجنے کو کہا تو، ایشوری پرساد نے پلٹو کو بندوق دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر منگل پانڈے کو فرار نہیں ہونے دیں گے تو وہ گولی چلا دے گا۔‘

پلٹو نے کہا ’میں نے اسے زخمی ہونے کی وجہ سے جانے دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

منگل پانڈے نے اپنی آخری گولی چلا دی

جونز لکھتے ہیں ’اس کے بعد منگل پانڈے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور کہا ،’تم لوگوں نے مجھے مشتعل کیا اور اب تم میرے ساتھ نہیں ہو۔‘

جونز مزید لکھتی ہیں ’گھڑسوار اور کئی پیدل چلنے والوں نے منگل پانڈے کی طرف بڑھنا شروع کیا اور یہ دیکھ کر منگل پانڈے نے بندوق کی ہڈی کو اپنے سینے سے لگایا، پیر سے ٹرگر کو دبایا۔ گولی اس کی جیکٹ اور کپڑوں کو چیرتی ہوئی گزر گئی اور وہ زخمی ہوکر گر پڑے۔‘

یہ تحریر پہلی مرتبہ بی بی سی پر آٹھ اپریل 2021 کو شائع ہوئی تھی جسے منگل پانڈے کے یوم ولادت کی مناسبت سے آج دوبارہ پیش کیا گیا ہے