سائمہ جان: ’عسکریت پسندی کی تعریف‘ کرنے پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار گرفتار، نوکری سے برخاست

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'روز روز یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں سحری بھی کھانے نہیں دی۔۔۔ جوتے سمیت اندر آتے ہو۔ میری ماں بیمار ہے، اگر اُسے کچھ ہوا یاد رکھنا! پچھلی بار بھی میری ماں اکیلی تھی اور یہ لوگ آئے تھے، کیا کرنے آئے تھے؟'

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو بظاہر سکیورٹی فورسز پر چیختے دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن غیر اعلانیہ تلاشی کی مزاہمت کرتی یہ خاتون کوئی عام شہری نہیں، بلکہ پولیس سے وابستہ سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) سائمہ جان ہیں۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس نے اپنی نوعیت کے پہلے واقعے میں سائمہ جان کو گرفتار کر کے انھیں نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ بدھ کی شب جنوبی ضلع کولگام کے (گاؤں) فرصل کا محاصرہ کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تلاشی مہم کے دوران جب فورسز سائمہ جان کے گھر میں داخل ہونے لگیں تو انھوں نے راستہ روک کر فورسز کو بُرا بھلا کہا اور مشتعل ہوگئیں۔

پولیس کے مطابق اس موقع پر سائمہ جان نے عسکریت پسندی کی تعریف بھی کی۔

کولگام کے گاوٴں فرِصل میں رہنے والے بعض شہریوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سائمہ کے والد غلام نبی راہ نہایت غریب ہیں اور اُن کی بیوی ایک عرصے سے بیمار ہیں۔ گاؤں والوں کے مطابق سائمہ گھر کی اکیلی کمانے والی ہیں۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر پولیس نے مسلح شورش شروع ہونے کے بعد ایک معاون دستہ قائم کیا تھا اور اس سے وابستہ افراد کو 'ایس پی او' کا خطاب دیا جاتا ہے۔ ان اہلکاروں کی پولیس میں مستقل نوکری نہیں ہوتی۔ شروع میں انھیں فقط تین ہزار روپے ماہانہ اُجرت کے عوض پولیس میں بھرتی کیا جاتا تھا تاہم بعد میں ان کی تنخواہ میں معمولی اضافہ کر دیا گیا۔

پولیس نے سائمہ کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 353 اور دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نئے قانون 'یو اے پی اے' کے تحت مقدمے درج کئے ہیں۔ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ خاتون اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سلسلے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔

پولیس نے تلاشی کے دوران سائمہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انھوں نے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر عام کر دیا۔

دو روز سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تین منٹ اور 57 سیکنڈز کی ویڈیو میں اگرچہ کسی شخص کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکتا تاہم ایک خاتون کو سکیورٹی اہلکاروں پر چیختے ہوئے سُنا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وائرل ویڈیو میں کیا ہے؟

ویڈیو میں وہ خاتون، جو پولیس کے مطابق سائمہ ہی ہیں، مشتعل ہو کر فورسز کو بار بار تلاشی کا حوالہ دے کر بُرا بھلا کہتی ہیں۔

اس کے بعد کسی اہلکار کی آواز سُنائی دیتی ہے کو کہتا ہے: 'ہماری بھی ماں بہن ہے۔'

اس کے جواب میں خاتون مزید مشتعل ہو جاتی ہیں اور کہتی ہیں: 'کہاں ہے، اگر ہوتی تو تم روز روز ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرتے۔'

پھر کوئی اہلکار کہتا ہے کہ آپ کے گھر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ہے، جس کے جواب میں خاتون کہتی ہیں: 'کوئی نہیں ہے یہاں، وہ یہاں ہوتے تو اُنھوں نے ایک میگزین ٹھوک دیا ہوتا۔'

اس کے بعد خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: 'ہم ڈریں گے نہیں۔ تم کیا کرو گے؟ مارو گے؟'

اگرچہ ویڈیو میں سکیورٹی اہکاروں کو گھر کے اندر داخل ہوتے نہیں دیکھا جا سکتا تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فورسز کے اہلکار دیوار کی دوسری جانب ہیں اور خاتون گھر کے صحن سے اُنھیں مخاطب کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ چند ہفتوں سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں تلاشی مہم میں شدت ا ٓگئی ہے۔

پولیس کے مطابق اس سال اب تک 30 سے زیادہ عسکریت پسندوں کو مختلف آپریشنز میں ہلاک کیا گیا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں اب بھی 200 سے زیادہ مسلح عسکریت پسند سرگرم ہیں، جنہیں پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ، شوپیان اور کولگام میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہیں۔ یہ کارروائیاں اکثر رات کے اوقات میں ہوتی ہیں۔