انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور دماغی صحت: ’اب تو غم کا بھی احساس نہیں ہوتا، میں پوری طرح بے حس ہو چکی ہوں‘

  • نیاز فاروقی
  • بی بی سی اردو، دلی
کورونا، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا میں وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے (فائل فوٹو)

انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ اور اسے قابو کرنے میں حکومت کی ناکامی لوگوں میں مایوسی، بے بسی اور خوف کا احساس پیدا کر رہی ہے۔

کورونا وائرس کے خوف نے لوگوں کی دماغی صحت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور سوشل میڈیا پر پورے ملک کے ہر طبقے سے مدد کی آواز سنائی دے رہی ہے۔

ڈاکٹر شبھانشو چاولہ نے گذشتہ ہفتے ٹوٹر پر لکھا کہ چار کووڈ مریض جن کی دیکھ بھال وہ کر رہے تھے، ان میں سے ایک 24 برس کی خاتون، جو سات ماہ کی حاملہ تھیں، آج صبح دم توڑ گئیں۔

انھوں نے مزید لکھا ’میں جذباتی، جسمانی اور دماغی طور پر ٹوٹ چکا ہوں اور اب یہ میری کی برداشت سے باہر ہے۔‘ وہ لکھتے ہیں ’مجھے مدد کی ضرورت ہے۔‘

ممبئی میں ایک سیاسی جماعت سے جڑے نوجوان کارکن روبین مسکرنہاس بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان حالات پر رو پڑے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter/@chawla7687

انھوں نے کہا ’لوگ مجھے کال کر کے رو رہے ہیں کہ ہسپتال میں آکسیجن نہیں۔ ایک لڑکی نے کال کر کے بتایا کہ ’اس کے ہسپتال میں آکسیجن ختم ہے، پولیس بلا کر ہمیں باہر بھگا دیا گیا ہے اور ہم راستے میں کھڑے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’موجودہ صورت حال میں ملک میں ابھی تقریباً ہر شخص کسی ایسے شخص کو جانتا ہے جو یا تو کورونا سے متاثر ہوا یا ہلاک ہو گیا۔ اس سے ہم سبھی کی دماغی صحت پر اثر ہوا ہے۔‘

ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال ان کے کنبے کے دو افراد آئی سی یو میں ہیں۔ ان کے والدین جو خود بھی ڈاکٹر ہیں کووڈ 19 سے متاثر ہو چکے ہیں۔

’یہ ایک افسوسناک اور مایوس کن صورتحال ہے۔ میں اب اسے مزید برداشت نہیں کر سکتی۔‘

دارالحکومت نئی دہلی کے پڑوسی شہر گڑ گاؤں میں ایک مشہور نجی اور مہنگے ہسپتال کا ذکر کرتے ہوئے وہ ڈاکٹر کہتی ہیں کہ موجودہ صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران لوگ کہتے تھے کہ آپ اس ہسپتال میں داخل ہو جاؤ، آپ کو وہاں بستر مل جائے گا لیکن اس لہر میں فی الحال وہاں کووڈ کے 400 مریض انتظار کی فہرست میں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@BrendanMirror

انھوں نے کہا کہ اس وائرس میں مزید ’میوٹیشن‘ ہونے کی وجہ سے ویکسین کی اثر بھی غیر یقینی ہے۔

’اب ہمارے پاس ماسک لگانے اور ہاتھ دھونے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔‘

سوشل میڈیا پر کئی ایسے شمشان گھاٹوں کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہیں جن میں رات دن لاشوں کو جلانے کے وجہ سے کئی کی چمنیاں بھی پگھل گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی آکسیجن کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے متعدد جگہوں سے لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبریں بھی آ رہیں ہیں۔ ہسپتال میں بستروں کی کمی کی وجہ سے کئی مریضوں کو آدھے درجن سے زیادہ ہسپتالوں کا دورہ بھی کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود انھیں بستر فراہم نہیں ہوا۔

صحافی رعنا ایوب نے متاثرہ افراد اور امدادی کاموں میں مدد کرنے کے لیے ٹویٹر صارفین کا شکریہ ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RanaAyyub

لیکن اس صورتحال میں ریاست کی عدم موجودگی کا یہ مناسب متبادل نہیں ہو سکتا۔ مرکزی حکومت کووڈ سے متعلق دواؤں اور ویکسینز کو بہت حد تک کنٹرول کرتی ہے۔ ملک کا نظامِ صحت کمزور ہے، نجی ہسپتال بیشتر شہریوں کے لیے مہنگے ہیں اور صحت کے سرکاری مراکز یا تو تعداد میں ناکافی ہیں یا ان میں وسائل کی کمی ہے۔

کورونا کیسز میں اضافے کے ساتھ ادویات، آکسیجن سیلنڈر اور وینٹی لیٹر والے بستر جیسی ضروری سہولیات کی قلت ہو گئی ہے اور ان کی دستیابی پر حکومتت کی طرف سے معلومات کی کمی ہے۔

ایک ریڈیو سٹیشن کے کرییٹیو ڈائریکٹر سایم (جو صرف اپنا پہلا نام استعمال کرنا چاہتے ہیں) نے کہا کہ وہ صحتیاب نہیں ہیں لیکن صورتحال اس قدر مایوس کن ہے کہ وہ ایک شخص کی مدد کرنے کے لیے گاڑی چلا کر دلی کے پڑوسی شہر گریٹر نویڈا گئے تاکہ انھیں آکسیجن سلنڈر مل سکے کیونکہ وہ آکسیجن لینے کے لیے لکھنؤ سے براہ راست 500 کلومیٹر دور دہلی آ رہے تھے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’اور آپ کو معلوم ہے کہ مجھے سیلنڈر کس نے دیا؟ ایک ایسے شخص نے جس نے اپنے والد کے لیے اس کا انتظام کیا تھا لیکن ان کی موت ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ثانیہ احمد نے، جن کا خاندان دواؤں کا کاروبار کرتا ہے، لوگوں کو ریمڈیسیویر کی خریداری میں مدد کرنے کی کوشش کی۔

کووڈ کے علاج کے لیے ڈاکٹر اس دوا کو تجویز کرتے ہیں۔ بازار میں اس کی سخت قلت ہے اور متاثرہ افراد دوسرے ممالک، جیسے بنگلہ دیش، سے برآمد دوائیں اس کے متبادل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ثانیہ بتاتی ہیں کہ مایوسی اور خوف نے اس دوا کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور عام لوگ بیتابی سے مدد کے لیے انھیں سحری کے وقت بھی فون کرتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے لیے سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ ہے جب ایک بے بس شخص نے ان سے اپنے سات سال کے بیٹے کی جان بچانے کی التجا کی تھی۔

’وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ میں ہاتھ جوڑتا ہوں آپ اس دوا کا بندوبست کر دیں۔ آپ جو چاہیں وہ قیمت لے لیں لیکن جب تک دوائی مریض تک پہنچتی، اس کی موت ہو چکی تھی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس بچے کے علاوہ کم از کم تین بار ایسا ہوا کہ دوا پہنچنے سے پہلے ہی متاثرہ فرد کی موت ہو گئی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ حالات میرے لیے جذباتی طور پر کافی مشکل ہیں۔ میں لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں کیونکہ میں سماجی اور معاشی طور پر ایسا کرنے کے قابل ہوں لیکن یہ کسی ایک فرد کا کام نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AdvaitaKala

وہ بتاتی ہیں کہ کووڈ سے ان کے اپنے خاندان اور دور کے رشتے داروں میں آٹھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اب تو غم کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ میں اب پوری طرح بے حس ہو چکی ہوں۔‘

مصنف ادویتا کالا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’وبائی بیماری کے دوران ذہنی صحت بھی ایک خاموش وبا بن گئی ہے۔‘

حکومت کے قول اور فعل میں فرق نے بھی حالات کو مزید نازک بنا دیا ہے اور اس سے لوگوں میں عدم اعتماد پیدا ہوا ہے۔ کئی اخبارات کی رپورٹس نمایاں کرتی ہیں کہ کووڈ سے ہلاک افراد کی تعداد چھپائی جا رہی ہے۔

وہیں ریاستی حکومتوں کی طرف سے گاؤں اور چھوٹے شہروں سے آئے مہاجرین کا لاک ڈاؤن کے دوران خیال رکھنے کی یقین دہانی کے باوجود بھی ممبئی اور دلی جیسے شہروں میں وبا کی پہلی لہر جیسی صورتحال ہے۔

متعدد شہروں میں بسوں اور ریلوے سٹیشنوں پر لوگوں کا ہجوم ہے جو اپنے گاؤں اور شہروں کے لیے روانہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔