انڈیا میں سمندری طوفان توکتے میں ڈوبنے والا جہاز: ‘ہم نے امید چھوڑ دی اور قبول کر لیا کہ اب ہم مر جائیں گے‘

بارج 305

،تصویر کا ذریعہINDIANNAVY

،تصویر کا کیپشن

بارج 305 کو انڈین بحریہ کے ہیلی کاپٹر سے بچانے کی کوششیں

‘تین چار گھنٹے تک تو ہمیں امید تھی، مگر پھر ہم نے اپنی لائف جیکٹ اتاری اور موت کی تیاری کر لی۔‘ یہ کہنا ہے کہ حال ہی میں انڈیا کے مغربی ساحل پر توکتے طوفان میں پھنسنے والے وشال کیدار کا۔

وشال کیدار بتاتے ہیں کہ جہاز کے ڈوبنے کے بعد جب وہ پانی میں زندگی موت کی کشمکش تھے تو ’ہم کوشش کرتے رہے لیکن آخر کار ہم نے امید چھوڑ دی اور قبول کر لیا کہ ہم اب مر جائیں گے۔ ہم میں سے کچھ نے لائف جیکٹس اتار دیں اور موت کو گلے لگا لیا۔ یہاں تک کہ میں نے بھی ایسا ہی سوچا۔‘

انڈیا کے خلیج بنگال میں اٹھنے والے طوفان یاس سے ایک ہفتے قبل انڈیا کے مغربی ساحل پر توکتے طوفان آیا تھا جس میں اب تک درجنوں افراد کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔

وشال کیدار اس وقت ایک بحری جہاز بارج پی-305 پر سوار تھے اور یہ جہاز بھی طوفان کی زد میں آیا جس پر 261 افراد سوار تھے۔

ان میں سے بہت سے افراد کو بچا لیا گیا ہے لیکن 66 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ نو افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔

16 مئی کی نصف رات کے بعد یہ بجری جہاز توکتے طوفان کی زد میں آیا اور اس کی وجہ سے اٹھنے والی لہروں کے سبب وہ اپنے لنگر سے نکل گیا یہاں تک کہ بحیرۂ عرب میں ممبئی کے ساحل سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر اگلے دن شام کو ڈوب گیا۔

بچنے والے افراد میں وشال کیدار کے ساتھ ان کے دوست ابھیشیک اودھ بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں اس بارج پر ویلڈنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تقریباً پانچ بجے پورا جہاز ڈوبنے ہی والا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کبھی ٹائی ٹینک (جہاز) ڈوبا تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا اور سب لوگ کود پڑے۔ جہاز پانی میں پوری طرح غرقاب ہو رہا تھا۔ جنھوں نے ہمت دکھائی وہ کود گئے۔‘

’جن لوگوں نے امید کھو دی وہ جہاز کے ساتھ ہی ڈوب گئے۔ سمندر کے پانی میں ہم زندہ رہنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہم نے بھی امید کھو دی جبکہ ہم سے کچھ لوگوں نے لائف جیکٹ اتار کر موت کو گلے لگا لیا۔‘

،تصویر کا کیپشن

وشال کیدار اور ابھیشیک اودھ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

وہ بتاتے ہیں کہ 14 تاریخ کو ہی طوفان کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا لیکن کپتان نے اس پر توجہ نہیں دی کہ اگر لہریں سات آٹھ میٹر اونچی ہوں گی تو بھی کوئی اثر نہیں ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ہوا اتنی تیز تھی کہ جہاز بے قابو ہو گیا۔ ’اس نے لنگر پر دباؤ ڈالا اور رات کے 12 بجتے بجتے لنگر ٹوٹنے لگے۔ یہاں تک کہ ساڑھے تین بجے تک سارے لنگر ٹوٹ گئے۔ اس کے علاوہ جہاز او این جی سی کے پلیٹ فارم سے ٹکرا گیا۔ اس میں ایک سوراخ ہو گیا اور ایک طرف سے پانی داخل ہونا شروع ہو گیا۔‘

واضح رہے کہ بارج پی 305 ممبئی کے ساحل سے دور تیل اور قدرتی گیس کارپوریشن (او این جی سی) کے مال بردار کے طور پر کام کر رہا تھا۔ یہ بارج تیل کے ذخائر کے قریب تعینات تھا۔ تیل کا یہ فیلڈ بحیرۂ عرب میں او این جی سی کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔

دونوں دوستوں نے بتایا کہ تھوڑی دیر کے بعد بارج کا پچھلا حصہ ڈوب گیا اور انجن روم میں پانی بھرنے لگا اور ریڈیو اور لوکیشن آفس دونوں مکمل طور پر جل گئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ریڈیو مواصلات پر کام کرنے والے اہلکار نے فوراً ممبئی کو خبر کی اور امداد طلب کی۔ اسی دوران افراتفری پھیل گئی اور تقریباً 20 لوگ اسی وقت بارج سے کود گئے جس میں سے 17، 18 لوگ ڈوب کر مر گئے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی امیدیں اس وقت دم توڑنے لگیں جب بچانے والوں نے ان کے پاس لائف رافٹ گرایا لیکن جب وہ اس پر کودے تو وہ بھی پنکچر ہو گیا۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور بارج ڈوب رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@INDIANNAVY

،تصویر کا کیپشن

بارج کو بچانے کی کوششیں

وہ کہتے ہیں ’وقت گزر رہا تھا۔ صبح کے چار بج رہے تھے۔ ہم ابھی بچانے والی کشتی کا انتظار کر رہے تھے۔ پانی پچھلے حصے سے داخل ہو رہا تھا اور بارج ڈوب رہا تھا۔ سارے لوگ بارج پر ایک طرف کو ہو رہے تھے۔ پھر پانچ بجے کے قریب پورا بارج ڈوبنے کے دہانے پر تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ٹائی ٹینک کے ساتھ ہوا تھا۔‘

اودھ کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی بارج ڈوبنے لگا، ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا اور چھلانگ لگانے کا عزم کر لیا تاکہ بچانے والو کو ہم ایک جگہ پر مل سکیں۔ پھر ہم تین یا چار کے گروپ میں سمندر میں کود پڑے۔ ہم نے 10-15 گروپ بنائے اور ایک دوسرے کو تھام لیا۔ ہم تقریباً تین چار گھنٹے پانی کے ساتھ بہتے رہے۔ پانی ناک اور منہ کے اندر جاتا رہا۔‘

کچھ دیر بعد انھیں انڈین بحریہ کا ایک اور جہاز ان کے قریب آتا نظر آیا۔ اسے دیکھ کر ان کی امیدیں بڑھیں کہ شاید اب وہ بچ جائیں گے لیکن تیز لہروں نے ان کی امید کو بھی ختم کر دیا۔ اودھ کا کہنا ہے کہ ’میں نے اسی وقت موت کا مزہ چکھا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@INDIANNAVY

،تصویر کا کیپشن

جان بچانے کے لیے لوگ بجرے سے کودنے لگے

اس دوران بحریہ کی ریسکیو ٹیم بھی سخت محنت کر رہی تھی۔ انھوں نے اوپر سے رسیاں اور لائف رافٹ پھینکے۔

اودھ کا کہنا ہے کہ جب ان کی ٹیم بحریہ کی کشتی کے قریب پہنچی تو ان میں سے کچھ اس کی کشتی کے نیچے آ گئے، کچھ کشتی کے پنکھے میں پھنس گئے اور کچھ کشتی کی زد میں آ گئے۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے تیرنے کی کوشش کی اور پھر رسی کو پکڑ لیا اور اوپر چڑھ گیا۔ میں تقریباً بے ہوش ہو گیا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ سب کو بچا رہے تھے۔ ہم بتا نہیں سکتے تھے کہ یہ دن ہے یا رات۔‘

غلطی کہاں ہوئی؟

محکمہ موسمیات نے 11 مئی کی شام کو بحیرہ عرب میں طوفان آنے کے متعلق انتباہ جاری کیا تھا اور 15 مئی تک تمام کشتیوں کو ساحل پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

انڈین کوسٹ گارڈ کے مطابق ماہی گیروں کی چار ہزار سے زیادہ کشتیاں بندرگاہ پر واپس لوٹ آئی تھیں۔ کوسٹ گارڈ کے عہدیداروں نے او این جی سی کو انتباہ کیا کہ وہ بندرگاہ میں موجود تمام بحری جہازوں کو بحفاظت ساحل پر لے جائیں لیکن ان انتہابات کے بعد بھی جہاز سمندر میں رہا اور اسے ممبئی ہائی آئل فیلڈ کے قریب تیل کے پلیٹ فارم سے باندھ دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@INDIANNAVY

ممبئی پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس ایف آئی آر میں کپتان اور جہاز کے دیگر افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 304 (2) یعنی دانستہ طور پر کیے جانے والے کام جو موت کا باعث ہوں) کے ساتھ ساتھ 338 اور 34 کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

یہ ایف آئی آر بارج یعنی جہاز کے چیف انجینئیر رحمن شیخ کے ایک بیان کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔ شیخ نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا تھا لیکن کپتان اور دیگر افراد نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

دوسری جانب مرکزی حکومت کی وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس نے طوفان کے دوران او این جی سی کے جہاز کے تباہ ہونے کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وزارت کے مطابق توکتے طوفان کے دوران او این جی سی کے کئی جہاز 600 سے زائد افراد کے ساتھ سمندر کے کنارے مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔