ریپ سے متعلق قوانین: انڈیا میں ریپ سے متاثرہ خواتین کو کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟

  • دیویا آریہ
  • بی بی سی نیوز
خاکہ

جب کوئی آپ کی کوئی چیز چوری کرتا ہے تو کوئی آپ پر یہ الزام نہیں لگاتا کہ ’آپ ہی نے کچھ کیا ہو گا؟‘

لیکن یہ سوال ریپ کے شکار افراد سے پوچھا جاتا رہا ہے اور اب بھی پوچھا جا رہا ہے اگرچہ قانون نے اس طرح کے سوالات پوچھنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

انڈیا کے شہر گووا کی ایک عدالت کے تازہ ترین فیصلے میں اس طرح کے سوالوں کی بازگشت ہے جس میں تہلکہ جریدے کے سابق ایڈیٹر ترون تیجپال کو اپنی ایک جونیئر ساتھی کو ریپ کرنے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔

عدالت اس الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ کیا نومبر 2013 کو جریدے کے زیر اہتمام ایک فیسٹیول میں ترون تیجپال نے ایک لفٹ میں اپنی ساتھی کو ریپ کیا تھا؟

جواب ڈھونڈنے کے لیے، متاثرہ خاتون سے پوچھا گیا کہ ان کے اس سے پہلے کب اور کس کے ساتھ جنسی تعلقات تھے، انھوں نے ہر ای میل میں کیا لکھا تھا، انھوں نے ٹیکسٹ کے ذریعے پیغامات میں کس سے فلرٹ یا دل لگی کی تھی۔ اگر انھیں جنسی تعلقات رکھنے کی اتنی عادت تھی تو پھر انھوں نے رضا مندی سے ہی ایسا کیا ہو گا۔

یہ بھی کہا گیا کہ وہ مبینہ ریپ کے بعد مسکرا رہی تھیں، ایسے لگتا تھا کہ وہ اچھے موڈ میں تھیں، انھوں نے اپنے دفتر کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں حصہ بھی لیا تھا۔ اگر وہ اتنی خوش تھیں تو کیا وہ ریپ سے متاثرہ ہو سکتی ہیں؟

ترون تیجپال کی رانوں کا زمین سے زاویہ کتنا تھا، کیا متاثرہ خاتون کے شفون کے لباس کی لائننگ ان کے گھٹنوں کے اوپر ختم ہو جاتی تھی یا ان کے نیچے تک تھی، کیا تیجپال کی انگلیوں نے ان کو چھوا تھا۔ اگر انھیں یہ چیزیں صحیح طرح یاد نہیں ہیں، تو کیا وہ سچ بول رہی ہیں؟

آخر کار 527 صفحات کے فیصلے میں ریپ کا الزام جھوٹا پایا گیا اور ملزم کو بری کر دیا گیا۔

یہ محض کوئی اتفاق نہیں۔ گذشتہ 35 برسوں کے دوران انڈیا میں ہونے والے متعدد تحقیقاتی پروجیکٹس میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ جب ریپ سے متاثرہ فرد کا رویہ سماجی اصولوں کے مطابق نہیں پایا جاتا تو ان کی جانب سے جس شخص پر الزام عائد کیا جاتا ہے، اسے یا تو بری کر دیا جاتا ہے یا اس کی سزا کو کم کر دیا جاتا ہے۔

حالانکہ قانون میں متاثرہ فرد کے رویے کو مقدمے میں اہمیت دینا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اکثر جج فیصلہ کرتے وقت اس قسم کے دقیانوسی خیالات کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ مثالوں پر نظر دوڑا لیتے ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایسی خواتین جو ریپ سے پہلے جنسی رشتوں میں رہی ہوں

انڈیا یونیورسٹی کے نیشنل لا سکول میں پروفیسر مرینل ساتیش نے انڈیا میں ریپ سے متعلق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے 1984 سے 2009 کے درمیان کیے گئے فیصلوں پر تحقیق کی۔

انھیں معلوم ہوا کہ ان 25 برسوں کے درمیان جن خواتین کا ریپ سے قبل کوئی جنسی تعلق نہیں ہوتا تو ایسے ملزمان کو طویل سزائیں دی جاتی ہیں تاہم جن مقدمات میں خاتون شادی سے قبل یا اس کے علاوہ بھی سیکس کرتی رہی ہو تو ایسے ملزمان کی سزائیں کم کر دی گئی تھیں۔

ایسی خواتین کے ساتھ ہمدردی میں کمی کی وجہ یہ سماجی رویہ ہے جس کے مطابق ایسی خواتین کو برا سمجھا جاتا ہے جنھوں نے شادی سے پہلے بھی جنسی تعلقات رکھنے کا فیصلہ کیا ہو۔

’کنوار پن‘ کی معاشرے میں بے حد اہمیت بھی اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ ایسی خاتون جو پہلے ہی سیکس کرنے کی عادی ہو اسے ریپ کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوتا اس لیے اسے ریپ کے دوران زیادہ تکلیف نہیں ہوئی ہو گی۔

ان تمام مفروضوں کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی خاتون ریپ کے جھوٹے الزامات بھی لگا سکتی اور یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے رضامندی سے سیکس کیا ہو۔

اس کی ایک مثال سنہ 1984 کا وہ مقدمہ تھا جو پریم چند اور ریاست کے درمیان تھا اور اس میں ملزم روی شنکر پر خاتون کو اغوا کر کے انھیں ریپ کا شکار بنانے کا الزام تھا۔ خاتون کے مطابق جب وہ پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کروانے کے لیے گئیں تو دو پولیس اہلکاروں نے بھی ان کا ریپ کیا۔

مقامی عدالت نے ان تینوں افراد کو سزا دے دی تاہم جب روی شنکر نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں اپیل کی، تو انھیں رہا کر دیا گیا۔

فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ ’استغاثہ یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ متاثرہ خاتون 18 سال سے کم عمر تھی اور یہ کہ انھوں نے ایسا اپنی مرضی سے نہیں کیا اور وہ روی شنکر کے ساتھ اس سے پہلے بھی گھومتی رہی ہیں اور وہ ان کے ساتھ اپنی مرضی سے سیکس کرتی رہی ہیں۔‘

بقیہ دو پولیس اہلکاروں کو ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی مہلت نہیں دی گئی لیکن جب وہ سنہ 1989 میں سپریم کورٹ میں اپیل لے کر گئے تو ان کی سزا آدھی کر دی گئی اور فیصلے میں یہ کہا گیا کہ ’متاثرہ خاتون کے کردار پر سوالیہ نشانات ہیں اور وہ آسانی سے ایسے کام کے لیے آمادہ ہو سکتی ہیں اور ان کا رویہ فحش اور سیکس کی جانب مائل کرنے والا ہے اور یہ بھی بہت اہم ہے کہ اس لڑکی نے پولیس سٹیشن میں اس مبینہ ریپ کے بارے میں 28 مارچ 1984 میں تفتیش سے پہلے کسی کو نہیں بتایا، اس سے موجودہ الزام قابلِ قبول نہیں رہتا۔‘

تاہم وقت کے ساتھ خواتین کے کردار سے متعلق اس قسم کے سوالات کرنا غلط قرار دیا گیا تھا۔

لا کمیشن اور نیشنل کمیشن فار ویمن نے سنہ 2003 میں اپنے جائزے میں کہا تھا کہ ’یہ دیکھا گیا ہے کہ وکیل دفاع عام طور پر اس طرح کے کیسز میں متاثرہ خاتون کے ماضی کے جنسی تعلقات کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ ان کے اس بیان کو کمزور بنا سکیں کہ سیکس میں ان کی رضا مندی شامل نہیں تھی، اس سے ان کے وقار اور عزت کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

ان کی جانب سے دی گئی تجاویز کے مطابق اس سال انڈیا کے قانون شہادت یعنی انڈین ایویڈینس ایکٹ 1872 میں ترمیم کی گئی، جس کے تحت متاثرہ فرد سے پوچھ گچھ اور تفتیش کے دوران ان کے کردار سے متعلق سوال نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ان سے ماضی کے جنسی تعلقات کے ذریعے ایک مبینہ ریپ میں رضامندی ہونے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس سب کے باوجود اس طرح کے غیر قانونی سوالات پوچھے جاتے رہے۔ سنہ 2014 میں ریاست اور حولدار کے درمیان مقدمے میں سنہ 2015 میں دیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ ’متاثرہ خاتون نے اپنے مخصوص اعضا کو دھویا کیونکہ انھیں ریپ کے اس واقعے کے بعد ان میں خارش محسوس ہو رہی تھی۔ یہ خاتون شادی شدہ تھیں اور ان کے تین بچے تھے اور وہ سیکس کرنے کی عادی تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ زندکی میں پہلی مرتبہ سیکس کر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مخصوص اعضا میں خارش سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ واضح ہے کہ انھوں نے اپنے مخصوص اعضا کو اس لیے دھویا تاکہ ملزم سے سیکس کے شواہد مٹائے جا سکیں اور انھیں معلوم تھا کہ ایسا انھوں نے اپنی رضامندی سے کیا اور انھوں نے ثبوت اس لیے مٹائے تاکہ ان کے بھائی کو اس بارے میں علم نہ ہو پائے۔‘

دہلی کی فاسٹ ٹریک کورٹ نے ملزم کو اس کیس میں بری کر دیا۔

جس خاتون کی اندام نہانی میں دو انگلیاں آسانی سے داخل ہو سکتی ہیں

پوچھ گچھ کے علاوہ ٹو فنگر ٹیسٹ بھی خاتون کے ماضی کے جنسی تعلقات کے حوالے سے چانچ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ڈاکٹر متاثرہ خاتون کی اندام نہانی میں ایک یا دو انگلیاں داخل کر کے اس کی لچک کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے۔

اس ٹیسٹ کے حوالے سے دی گئی سرکاری وجہ یہ دی جاتی ہے کہ اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مبینہ ریپ کے دوران دخول ہوا تھا یا نہیں۔

تاہم اس مفروضے کو تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ اگر آسانی سے دو انگلیاں داخل ہو جائیں تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاتون سیکس کی عادی ہے۔

سنہ 2013 میں انڈیا میں ٹو فنگر ٹیسٹ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کیونکہ نربھایا (جیوتی پانڈے) کے گینگ ریپ کیس کے بعد جنسی تشدد سے متعلق قوانین پر نظرِ ثانی کی گئی تھی۔

وزارتِ صحت کے محکمہ برائے تحقیق نے متاثرہ خاتون کی فرانزک میڈیکل کیئر کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کیں۔ ان کے مطابق ’ٹو فنگر ٹیسٹ کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے اور یہ کسی بھی طرح سے سائنسی نہیں، اس لیے اس کا نفاذ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ٹیسٹ عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے اور یہ سائنسی اور طبی اعتبار سے بھی غیر ضروری ہے۔‘

جنسی تشدد سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے والی ورما کمیٹی نے لکھا کہ ’آیا ریپ ہوا ہے یا نہیں، یہ قانونی تفتیش سے معلوم ہو سکتا ہے، میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے نہیں۔‘

اسی سال مرکز برائے قانون اور پالیسی تحقیق نے کرناٹکا کی فاسٹ ٹریک کورٹ کے فیصلوں کا تجزیہ کرنا شروع کیا جو خواتین کے خلاف جنسی تشدد سے متعلق مقدمات سننے کے لیے بنائی گی تھی۔ ان میں سے 20 فیصد سے زیادہ فیصلوں میں خاص طور پر ٹو فنگر ٹیسٹ کا ذکر کیا گیا تھا ان میں متاثرہ خاتون کی ماضی کے جنسی تعلقات کا تذکرہ بھی تھا۔

سنہ 2013 میں ریاست گجرات اور رمیشبھائی چھنابھائی سولانکی کے درمیان کیس میں گجرات ہائی کورٹ نے کم عمر بچی کو ریپ کرنے کے الزام میں سزایافتہ ملزم کو بری کر دیا۔

مقامی عدالت نے سنہ 2005 میں اس ملزم کو سزا سنائی تھی۔

اپیل کے فیصلے میں ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ’دو ڈاکٹروں کی گواہی، جن میں سے ایک گائنا کالوجسٹ ہیں سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ متاثرہ خاتون کے مخصوص اعضا پر کسی قسم کے زخم کے نشانات نہیں ہیں اور وہ سیکس کی عادی تھیں جیسے ان کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ میں درج ہے۔‘

ایسی خاتون جسے ریپ کے دوران کوئی چوٹ نہ آئی ہو

ایک انتہائی اہم جز جو سیکس اور ریپ میں فرق پیدا کرتا ہے وہ رضامندی کا نہ ہونا ہے۔ خواتین کے مخصوص اعضا، حملہ آور کے سامنے مزاحمت کے دوران جسم پر لگنے والی خراشیں یا نشانات، پھٹے ہوئے کپڑے وغیرہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس عمل میں خاتون کی رضامندی شامل نہیں تھی۔

تاہم اس کے بالکل متضاد بات کو بھی سچ سمجھا جانے لگا۔ خاتون کے جسم پر کسی بھی زخم یا مزاحمت کے نشانات کی عدم موجودگی کو ان کی سیکس کے لیے آمادگی کا ثبوت تصور کیا جانے لگا۔

اپنی تحقیق میں پروفیسر مرینل ساتیش کو معلوم ہوا کہ اگر عدالتیں اس بارے میں لکھتی نہیں کہ زخموں کی عدم موجودگی آمادگی ظاہر کرتی ہے پھر بھی ایسے مقدمات میں ملزمان کو کم سزائیں دی جاتی ہیں۔

اور کچھ عدالتیں تو ایسا لکھنے سے بھی نہیں گھبراتیں اور یہ کہہ دیتی ہیں کہ زخموں کی عدم موجودگی سیکس کے لیے آمادگی ظاہر کرتی ہے۔

مثال کے طور پر سنہ 2014 میں ریاست کرناٹکا اور شیواناندا ماہادیواپا مرگی کیس میں کرناٹکا کی بیلاگوی فاسٹ ٹریک کورٹ نے ملزم کو اس لیے بری کر دیا کیونکہ عدالت کے مطابق: ’جو بھی واقعہ پیش آیا وہ صرف ان کی مرضی سے پیش آیا، کسی دوسری وجہ سے نہیں، کیونکہ اس بارے میں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جیسا کہ پھٹے ہوئے کپڑے، متاثرہ خاتون کو زخم وغیرہ اور کوئی میڈیکل یا فرانزک شواہد بھی نہیں ہیں جو متاثرہ خاتون کی جانب سے فراہم کیے گئے شواہد کا ساتھ دے سکیں۔‘

اس سال سپریم کورٹ نے کرشن اور ریاست ہریانہ کے مقدمے میں فیصلہ لکھتے ہوئے کہا تھا کہ ریپ سے متاثرہ فرد کے جسم پر موجود زخم ریپ کو ثابت کرنے کے لیے ضروری نہیں ہوتے۔

سنہ 1984 میں انڈین ایویڈینس ایکٹ 1872 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ جب ملزم کی جانب سے سیکس کا عمل ثابت ہو جاتا ہے اور سوال یہ رہ جاتا ہے کہ یہ خاتون کی مرضی کے بغیر تھا جس نے یہ الزام لگایا ہے اور یہ خاتون عدالت کے سامنے ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ایسا ان کی رضامندی کے بغیر ہوا، تو عدالت کو یہ مان لینا چاہیے کہ ایسا ان کی مرضی کے بغیر ہی کیا گیا ہو گا۔

یہ تبدیلی تکرم اور ریاست مہاراشٹر کے درمیان ایک مقدمے کے بعد کی گئی تھی جسے متھورا ریپ کیس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس مقدمے میں سنہ 1972 میں دو پولیس اہلکاروں پر ایک کم عمر لڑکی کے ریپ کا الزام لگایا گیا تھا۔

انھیں مقامی عدالت نے سزا سنا دی تھی لیکن اپیل کے بعد پہلے بمبئی ہائی کورٹ کے ناگپور بینچ نے اور پھر سپریم کورٹ نے انھیں سنہ 1978 میں بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ’متاثرہ لڑکی کے جسم پر زخموں کے نشانات نہیں ملے، اور ان کی غیر موجودگی یہ بتاتی ہے کہ مبینہ سیکس رضامندی سے کیا گیا تھا اور لڑکی کی جانب سے سخت مزاحمت کی کہانی جھوٹی ہے۔۔۔ ان کی جانب سے اپنے ساتھیوں کو چلا کر متوجہ کرنے میں ناکامی جن میں ان کے بھائی، ان کی آنٹی اور ان کے محبوب شامل تھے اور ان کی جانب سے ملزم کی بات ماننے اور انھیں اپنی مرضی کرنے کی مکمل اجازت دینے سے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے دی گئی رضامندی ایسی نہیں جسے مبہم رضامندی کے طور پر دیکھتے ہوئے نظر انداز کر دیا جائے۔‘

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت تنقید کی گئی تھی اور چار پروفیسرز کی جانب سے سپریم کورٹ کو ایک کھلا خط لکھا گیا تھا۔ اس تنقید کے باعث سنہ 1983-84 میں جنسی تشدد سے متعلق قوانین تبدیل کرنے میں مدد ملی۔

وہ خاتون جس نے ریپ کے بعد متاثرہ خاتون والا رویہ نہیں دکھایا

اب تک کی جانے والی بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنسی تشدد کے خلاف موجود قوانین ترقی پسند ہیں اور خواتین سماجی کارکنان اور عام عوام کی کوششوں سے انھیں گذشتہ دہائیوں کے دوران متاثرین کے لیے مزید دوستانہ بنایا گیا ہے۔

اس سب کے باوجود نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019 میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ ریپ کیسز میں سزا دینے کی شرح 28 اعشاریہ آٹھ فیصد ہے جو دیگر جرائم میں سزا دینے کی اوسط شرح 50 اعشاریہ چار فیصد سے کہیں کم ہے۔

اس کے پیچھے متعدد عوامل موجود ہیں، لیکن اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ انھیں سماجی رویوں کے تحت پرکھا جاتا ہے نہ کہ قوانین کے ذریعے۔

قوانین پر تحقیق کرنے والی پریتی پراتشروتی داس نے انڈین لا ریویو کے لیے 1635 ایسے فیصلوں کا جائزہ لیا ہے جو مقامی عدالتوں کی جانب سے دہلی میں سنہ 2013 سے 2018 کے درمیان دیے گئے۔

انھیں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک چوتھائی کیسز میں، جن میں ملزم کو بری کیا گیا، متاثرہ خاتون کی گواہی کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا گیا اور اس کی بڑی وجہ ان کا ریپ کے بعد اور اس سے پہلے رویہ تھا۔

مثال کے طور پر سنہ 2009 میں ریاست اور نریش داہیہ اور ایک اور شخص کے درمیان مقدمے میں دہلی تیس ہزاری عدالت نے ملزم کو یہ کہہ کر بری کر دیا تھا کہ ’اس مبینہ بہیمانہ جرم کے ارتکاب کے بعد بھی متاثرہ خاتون نے ملزم کے ساتھ سبلوک کلینک کے نزدیک گول گپے کھائے بجائے اس کے کہ وہ روتی اور چلاتی۔ ایسے جرم سے متاثرہ خاتون کا اس طرح کا رویہ ان کے بیان پر سوالیہ نشان ڈالتا ہے۔‘

تحقیق کے مطابق متاثرہ خاتون کی گواہی کو ناقابلِ اعتماد تصور کرنے کی پیچھے دیگر وجوہات میں خاندان اور دوستوں کو اس بارے میں فوراً نہ بتانا اور پولیس کے سامنے ایف آئی آر درج نہ کروانے میں تاخیر شامل ہیں۔

انڈیا کے قانون کے مطابق متاثرہ خاتون کے لیے پولیس کے سامنے رپورٹ درج کروانے کی کوئی حد نہیں۔ وہ جرم کے بعد کسی بھی وقت ایسا کر سکتی ہیں۔

ریپ سے متعلق رپورٹ فوری طور پر درج نہ کروانے کے چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں جن میں میڈیکل، فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنا شامل ہیں لیکن بذاتِ خود یہ وجہ نہیں بن سکتی کہ متاثرہ خاتون کی گواہی قابلِ اعتماد ہے یا نہیں۔

تاہم سنہ 2017 میں رادھے شیام مشرا اور ریاست کے درمیان مقدمے میں بالکل ایسا ہی ہوا۔

دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے ملزم کو بری کر دیا اور جب دہلی ہائی کورٹ کے سامنے سنہ 2019 میں اپیل داخل کی گئی تو انھوں نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

عدالت نے پولیس رپورٹ درج کروانے میں تاخیر سے متعلق لکھا کہ ’جب شام گئے شوہر کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کو دن میں ریپ کیا گیا تھا، تب بھی دونوں میں سے کسی نے بھی قریبی پولیس سٹیشن جانا ضروری نہیں سمجھا یا (پولیس کا نمبر) 100 ملایا یا کسی ہمسائے کو اس بارے میں خبر دی۔ اس تاخیر کا جواز تاحال نہیں دی جا سکا۔‘

شاید جنسی تشدد کے علاوہ کوئی ایسا جرم نہیں جس میں متاثرہ فرد سے اتنے سوالات کیے جاتے ہیں، جہاں اس کے رویے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، اس کی گواہی سچائی پر اتنے زیادہ خدشات پائے جاتے ہیں۔

ایک طرف قوانین میں تبدیلی سے متعلق کوششیں کی جا رہی ہیں، جس میں فائدہ بھی ہوا ہے، لیکن اس سے بڑا چیلنج سماجی رویوں میں تبدیلی کا ہے اور یہ انصاف کی راہ میں ایک واضح رکاوٹ ہے۔

خواتین اور مردوں کے درمیان غیرمساوی رشتے، سماجی پیڑھی میں ان کی غیر مساوی مرتبہ اور خواتین کے کندھوں پر اپنی عزت بچانے کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ جب تک برابری اور تبدیلی لانے کی کوششوں میں تیزی اور وسعت نہیں آئے گی، انصاف کے لیے جدوجہد مشکل ہی رہے گی۔

تصاویر: گوپال شونیا