کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملے: ’تین روز سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا‘

  • ملک مدثر
  • بی بی سی، كابل
کابل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کابل ایئرپورٹ سے چند ہی کلومیٹر کی دوری پر میں اپنے ہوٹل کی چھت پر کھڑا ہوں۔ ایئرپورٹ دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی گئی لیکن مرنے والوں کے درست اعداد و شمار بتانے کے لیے ملک میں وزارت صحت فعال نہیں۔

جب شام چھ سے ساڑھے چھ کے درمیان ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ، جو جنوبی گیٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے باہر دھماکہ ہوا تو میں کمرے میں سو رہا تھا۔ رپورٹر سکندر کرمانی نے آ کر مجھے جگایا اور اس خبر سے آگاہ کیا۔

کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کے الرٹ ہمیں طالبان، امریکی انٹیلیجنس، اپنے دفتر کی جانب سے ایڈوائزری ہر سطح پر موصول ہو رہے تھے۔

ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ ہو گیا ہے، یہ جملہ سننے سے تین روز پہلے تک مسلسل یہی سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو بھی گیا۔

ایسا بہت کم ہوتا ہے، اتنا درست ہونا کسی الرٹ کا، بہت کم ہوتا ہے کہ پہلے سے پتہ ہو کہ کیا ہو گا؟

ہاں طالبان کے آنے کے بعد گزرے 13 دن میں ملک کے کسی بھی علاقے میں یہ پہلا دھماکہ ہے۔

اس شہر پر قابض ہونے کے بعد تمام کنٹرول لینے والے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ہم صحافیوں کو تاکید کی کہ ایک محفوظ فاصلے سے ایئرپورٹ پر جائیں۔

لوگوں کے اس سمندر میں ہمارے لیے محفوظ مقام، محفوظ فاصلہ ڈھونڈنا اور برقرار رکھنا ناممکنات میں سے تھا۔

ہم پہلے تو دھماکوں کے بعد عام طور پر تصدیق کے لیے وزارت صحت سے رابطہ کرتے تھے لیکن آج رابطہ کیا تو جواب ملا کہ ’ہمیں بات کی اجازت نہیں، اسلامی امارات والوں سے پوچھیے کہ کتنے زخمی اور ہلاک ہوئے۔‘

سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی دل دہلانے والی تصاویر اور ویڈیوز تباہی اور جانی نقصان کا پتا دیتی ہیں۔ ان سینکڑوں افراد میں کون کس سے بچھڑ گیا کچھ معلوم نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

میں 15 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد سے اب تک تین بار کوریج کے لیے ایئرپورٹ جا چکا ہوں۔ جب میں یہاں اترا تھا وہ لمحات مجھے اب بھی یاد ہیں۔

ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے کچھ ہونے والا ہے۔ خیر میں باہر نکلا تو سڑکوں پر لگتا تھا پورا شہر باہر نکل آیا ہے اور سب ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس دن سے اب تک ہزاروں لوگ یہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہ لوگ جو کل تک کووڈ کی وبا میں موت کے خوف سے سماجی دوری پر تھے لیکن اب طالبان کے ہاتھوں موت کے خوف سے زندگی کی تلاش میں وبا کو بھول کر محدود جگہ پر ایک دوسرے کے ساتھ دن رات بیٹھے رہتے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ شاید کوئی آئے اور انھیں کسی بھی جہاز پر بٹھا کر یہاں سے لے جائے۔

ایئرپورٹ کے اسی گیٹ کے پاس گذشتہ شام ہم رپورٹنگ کے لیے موجود تھے۔ جلال آباد روڈ پر اگر آپ ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے سے دائیں جانب تین کلومیٹر مشرق کی جانب جائیں تو ایبے گیٹ آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ گیٹ ہمیشہ سے امریکی اور برطانوی ملٹری کے پاس رہا ہے اور اسے فوجی گیٹ بھی کہتے ہیں۔ اس وقت بھی اس کے اندر انھی کی سکیورٹی موجود ہے لیکن باہر طالبان ہیں۔

گزرے پانچ برسوں کے دوران میں نے متعدد بار اس گیٹ کو اتحادی افواج کے ہمراہ عبور کیا لیکن اب کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد یہ فوج کے لیے مخصوص نہیں رہا بلکہ برطانیہ اور یورپ جانے کے لیے منتظر لوگوں کو اسی گیٹ پر باقاعدہ ای میل کے ذریعے بلوایا جاتا ہے۔

لیکن ایئر پورٹ کے دیگر گیٹس کی مانند بہت سے شہری جو کابل اور دیگر صوبوں سے ہیں وہ دستاویزات اور ویزے کے بغیر یہاں موجود رہتے ہیں۔

کسی بھی غیر ملکی فوجی کو دیکھ کر کسی صحافی کو دیکھ کر ایئرپورٹ کی بیرونی دیوار کے ساتھ گزرتے نکاسی آب کے نالے کے پار یہ افراد مدد کی فریاد کرتے اپنی دستاویزات اور اسناد لہراتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس آٹھ فٹ چوڑے نالے پر پھٹے لگا کر لوگ یہاں سے دیوار پھلانگنے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں تاکہ اندر جا کر فلائیٹ میں بیٹھ سکیں۔ ہم نے حالیہ دنوں میں دیکھا بھی کہ لوگ خاردار تاروں کی پرواہ کیے بغیر کسی بھی طرح ایئرپورٹ کے اندر جانا چاہتے ہیں۔

ایئرپورٹ کے اس دروازے پر اس قدر رش ہو چکا ہے کہ ان دنوں یہاں سے مرکزی دروازے تک پہنچنے کے لیے ہم نے اور دوسرا راستہ ڈھونڈ نکالا۔ کابل سے جلال آباد جاتی شاہراہ یکہ توت۔

وہاں ایسا گمان ہوتا ہے کہ سب بھاگ رہے ہیں جیسے کہتے ہیں ناں کہ قیامت کا منظر کہ ہر شخص بھاگ رہا ہو۔ یہ سڑک ایک جگہ جا کر بند ہو جاتی ہے اس کے بعد ڈیرھ سے دو کلومیٹر پیدل جانا ہوتا ہے، کھیت ہوتے ہیں۔ جب ہم کل وہاں گئے تو میں نے دیکھا کہ سامان اٹھانے والی ریڑھیوں میں وہاں بزرگ خواتین کو لے کر جا رہے تھے۔

یہاں لگے شامیانوں میں خواتین اور بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ رفع حاجت کے لیے کہاں جاتے ہیں، کھانے پینے کا کیا انتظام ہے، کچھ سمجھ نہیں آتی۔

ابھی کل ہی یہاں مجھے ایک خاتون ملیں، جن کا کہنا تھا کہ میں یہیں کابل میں اپنے گھر بھی نہیں جانا چاہتی، مجھے اس ملک میں نہیں رہنا یا یہاں سے لے جائیں ہمیں یا پھر امریکی گولی مار دیں۔

کابل ایئرپورٹ پر کافی بار حملے ہو چکے ہیں جن میں راکٹ حملوں کی بڑی تعداد ہے۔ جانی نقصان کے لحاظ سے بظاہر یہ بڑا حملہ ہے۔ اس سے پہلے ملٹری پر حملے ہوتے تھے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ ایئر پورٹ پر شہریوں پر حملہ ہوا ہے۔

کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن یہ ساٹھ افراد نہیں بلکہ 60 خاندان ہیں۔

میں واپس جانے کے بارے میں نہ کل سوچ رہا تھا نہ آج سوچ رہا ہوں۔ شام ایئرپورٹ کے حملے کے بعد ہم کابل شہر کی صبح لی جانے والی تصاویر پر رپورٹ کرنے کے بعد اب مسلسل بم دھماکے کے حوالے سے اپ ڈیٹس دے رہے ہیں لیکن میرے ذہن کی سکرین پر فلیش بیک چل رہا ہے۔ ماضی کا ہر منظر میری کوشش کے باوجود میرے ذہن کے پردے سے نہیں ہٹ رہا۔

وہ منظر جب میرے والد کیمرہ مین ملک محمد عارف کوئٹہ کے ہسپتال میں ایسے ہی ایک خودکش حملے میں ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ وہ منظر جب میرے پیارے دوست اعجاز رئیسانی، عمران شیخ اور بہت سے ساتھی دھماکوں میں جاں سے گزر گئے۔

سچ پوچھیے تو جو لاشیں آپ ہم گنتے ہیں، وہ لاشیں تو سامنے ہوتی ہیں لیکن چلتی پھرتی لاشیں وہ خاندان ہوتے ہیں جن کی زندگی پھر کبھی ویسی نہیں ہوتی جو اس دھماکے کی گونج سے پہلے تک تھی۔